120

بھنگڑے کی عادی ہجوم

گمنام۔۔۔۔ اختصاریہ

1990 میں بینظیر کی حکومت گری اس قوم نے بھنگڑے ڈالے،
1993 میں نوازشریف کی حکومت گری اس قوم نے بھنگڑے ڈالے،
1996 میں بینظیر کی حکومت گری اس قوم نے بھنگڑے ڈالے،
1999 میں نوازشریف کی حکومت گری اس قوم نے بھنگڑے ڈالے،
1999 میں فوجی حکومت آئی لوگوں نے بھنگڑے ڈالے
2008 میں جنرل مشرف صدارت سے گرے
تو اس قوم نے بھنگڑے ڈالے،
2013 میں پیپلزپارٹی الیکشن میں گری
تو اس قوم نے بھنگڑے ڈالے،
2017 میں جے آی ٹی بنی
تو اس قوم نے بھنگڑے ڈالے،

2017 میں نوازشریف کو گھر بھیج دیا گیا
تو قوم نے بھنگڑے ڈالے،
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بنے
تو قوم نے بھنگڑے ڈالے
اب جب عمران خان وزیراعظم بنے
تو اس قوم نے بھنگڑے ڈالے۔
جب عمران خان حکومت سے گرینگے تو بھی یہ قوم بھنگڑے ڈالے گی،

قوم کے نام پہ اس ہجوم کو ہر آنے جانے والے کی خوشی میں بھنگڑے ڈالنے کی عادت ہوچکی ہے جنکا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منشور۔ دھمالی قوم، لٹیرے حکمران

اور سب سے بڑی حیران کن بات یہ ہے ہر لیڈر نے یہی کہا ہے کہ ہمارے ساتھ پوری قوم کهڑی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ
” یہ قوم اگلا بھنگڑا ڈالنے کے لئے بیقرار کھڑی ھے”
اللّہ پاک ہمارے ملک و قوم کی حفاظت فرمائے اور تمام اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں