Monday, April 22, 2024
ہومتازہ ترینمیانمار، مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، 90 افراد ہلاک

میانمار، مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، 90 افراد ہلاک

ینگون،فوجی بغاوت کے خلاف میانمار میں آمریت کے خلاف عوام کا احتجاج جاری ہے، ایک مرتبہ پھر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 90 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یکم فروری کو ہونے والی فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرین ینگون، منڈالے اور دیگر قصبوں کی سڑکوں پر نکل آئے۔ میانمار کے جرنیلوں کی جانب سے مسلح افواج کا دن منایا اور ساتھ ہی مظاہرین کے لیے انتباہ جاری کیا کہ انہیں باہر نکلنے پر سر اور پیٹھ میں گولی لگ سکتی ہے۔معزول قانون سازوں کی قائم کردہ فوج مخالف گروپ سی آر پی ایچ کے ترجمان ڈاکٹر ساسا نے ایک آن لائن فورم کو بتایا کہ آج کا دن مسلح افواج کے لیے شرم کا دن ہے۔ فوجی جرنیلوں نے 300 سے زائد بے گناہ شہریوں (مظاہرین)کی ہلاکت کے بعد مسلح افواج کا دن منایا۔میانمار کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی صبح سویرے یانگون ڈالا کے نواحی علاقے میں پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرنے والے ہجوم پر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم 90 افراد ہلاک ہوگئے۔ جبکہ ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔دارالحکومت نے پائٹاو میں آرمڈ فورسز ڈے کے موقع پر فوجی پریڈ کی صدارت کرنے کے بعد سینئر جنرل من آنگ ہیلنگ نے بغیر کوئی ٹائم فریم دیے ہوئے انتخابات کرانے کا وعدہ کیاسرکاری فوج نے ٹیلی ویژن پر براہ راست نشریات میں کہا کہ فوج جمہوریت کے تحفظ کے لیے پوری قوم کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکام نے عوام کی حفاظت اور ملک بھر میں امن کی بحالی کے لیے بھی کوشش کی ہے۔ایک اندازے کے مطابق فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرین پر ہونے والے کریک ڈان میں اب تک 400 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔