Saturday, January 28, 2023
Google search engine
ہومکالم /بلاگزبلدیاتی انتخابات کا سہرا تنویر الیاس کے سر۔۔۔

بلدیاتی انتخابات کا سہرا تنویر الیاس کے سر۔۔۔

تحریر: انجینئر اصغرحیات ۔۔۔

ہم بادشاہ لوگ ہیں ، ہمارے نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ جو جس کا کام ہے وہ نہیں کرتا، بلکہ ہر شخص اور ادارہ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق کام کرتا ہے، کبھی کبھی تو ایسے لگتا ہے پورا نظام ہی مرضی اور موڈ پر چل رہا ہے، عدالتیں چاہیں تو چینی کی قیمت کا بھی تعین کرتی ہیں اور نہ چاہیں تو کسی بھی بڑے سانحے پر آنکھیں بند کر کے بیٹھ جاتی ہیں، اراکین اسمبلی کا کام قانون سازی ہے لیکن یہ نکلے، نالی، کھمبے ، ٹوٹی اور حتی کہ یو ٹرن کا افتتاح کرتے نظر آتے ہیں، جس کے باعث نہ یہ قانون سازی کا کام کرسکتے ہیں اور نہ ہی چھوٹی چھوٹی اسکیموں کا، چھوٹی اسکیموں کا کام بلدیات کا ہے، ہمارے ملک میں نظام ہی چند سو یا ہزار ایلیٹس کے گرد گھومتا ہے، ان کو غریب کی اسکیموں، کھمبے، نالی یا روڈز سے کیا لگے، ہاں جب ان کا موڈ ہوگا ووٹ کیلئے چہرہ دکھانا ہوگا تو منہ رکھنے کیلئے کسی علاقے، پنڈ یا گاوں کو کوئی چھوٹی موٹی اسکیم دے دیتے ہیں، ہمارے ہاں اول تو بلدیاتی انتخابات ہوتے نہیں اور اگر ہو جائیں تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں ملتے، پاکستان کے تین صوبوں میں بھی یہی صورتحال ہے ، کے پی نے بلدیاتی انتخابات میں پہل کی، لیکن باقی صوبوں میں تاریخ پہ تاریخ ، تاریخ پہ تاریخ دی جاتی ہے، انتخابات رکوانے کیلئے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے، سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو ہی لیجیئے، سندھ میں حکمران جماعتیں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم خود بلدیاتی انتخابات رکوانے کیلئے الیکشن کمیشن پہنچ گئیں، وہ تو بھلا ہو الیکشن کمیشن کا جس نے تمام فریقین کو سسنے کے بعد جنوری کے وسط میں ووٹنگ کے حق میں فیصلہ سنایا اور آئی جی اور چیف سیکرٹری کو انتخابات کے انعقاد کے حوالے کے فل پروف انتظامات کی ہدایت بھی کردی

بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے آزاد کشمیر میں تاریخ رقم ہوئی، 27 نومبر کا دن آزاد کشمیر کے باسیوں کیلئے تاریخ ساز رہا، 31 سال بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس یقینی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں، جنہوں نے کرسی سنبھالنے کے بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور پھر اسی پر ڈٹے رہے، حالانکہ ان سے پہلے 31 سالوں میں 6 بار عام انتخابات ہوئے، درجنوں حکومتیں اور نجانے کتنے وزرائے اعظم آئے اور گئے اور سب نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کیا اور خوب نعرے بھی لگائے، سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ شامل کرکے بھولتی رہیں، لیکن وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے جو کہا وہ کرکے دکھایا، لوگ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو مذاق سمجھتے رہے، روز یہ پیشن گوئی ہوتی تھی کہ بلدیاتی انتخابات آج ملتوی ہوئے کہ کل ہوئے، موسم سرما شروع ہوا تو تجزیہ نگاروں نے کہنا شروع کردیا کہ اب ان سردیوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، بات مارچ اپریل تک چلی گئی ہے، ایک بار 6 ماہ کیلئے الیکشن ڈیلے ہوئے تو پھر دوبارہ نہ ہوئے، اور ماضی میں یہ ہوتا رہا کسی بہانے سے الیکشن ایک بار ملتوی کردیئے جاتے اور پھر دوبارہ نہ ہوتے، ماضی کی حکومتیں کئی بہانے بنا کر الیکشن ملتوی کرتیں، کبھی فنڈز کا بہانہ بنا کر اور کبھی سیکورٹی کا بہانہ بنا کراور کچھ نہ ملتا تو موسم کی سختی کا بہانہ بنا کر، 31 سال اسی چکر میں گزر گئے، جو بچے تھے جوان ہوگئے اور جو جوان تھے بوڑھے ہوگئے اور کچھ تو اللہ کو پیارے بھی ہوگئے ہیں، لیکن نہ ہوئے تو بلدیاتی انتخابات نہ ہوئے، وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے پہلی فرصت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے فنڈز مختص کیے اور آزاد کمشیر الیکشن کمیشن کو ترجیعی بنیادوں پر یہ فنڈز جاری کیے، انتخابات کیلئے سیکورٹی کی فراہمی ایک چیلنج بن گیا، وفاقی حکومت نے فوج اور رینجرز کی تعیناتی سے انکار کردیا، اپوزیشن نے پنجاب اور کے پی پولیس کیخلاف ایک مہم شروع کی اور ان کی سیکورٹی میں انتخابات مسترد کردیئے، اپوزیشن کے علاوہ وزیراعظم سردار تنویر الیاس کو اپنی ہی جماعت میں بھی مزاحمت کا سامنا رہا، تحریک انصاف کے بھی کچھ اراکین اسمبلی حتی کہ وزرا نہیں چاہتے تھے کہ بلدیاتی الیکشن ہوں، کیونکہ بلدیاتی انتخابات سے ممبران اسمبلی اختیارات کم ہوجاتے ہیں، کچھ وزرائے حکومت کا خیال تھا کہ اگر بلدیاتی انتخابات ہوئے تو اختیارات ممبران اسمبلی اور ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گے، ایک دو اراکین اور وزرا سے ہماری بھی بات ہوئی ان کا کہنا تھا کہ اگر ترقیاتی فنڈز وارڈز کی سطح پر تقسیم ہوئے تو کونسلرز کو ترقیاتی فنڈز ملنے سے ایم ایل ایز بے اختیار ہوجائیں گے اور چیئرمین ضلع کونسل اور چیئرمین یونین کونسل ممبران اسمبلی سے زیارہ اختیارات کا حامل ہوگا، کچھ وزرا کا خیال تھا کہ وزرائے حکومت سے زیادہ بااختیار چیئرمین ضلع کونسل ہوگا، جس کے ضلع میں چار سے پانچ ممبران ہوتے ہیں، اسی لیے وزرا حکومت بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے، یہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اسی نظریے کو لیکر ماضی میں ممبران اسمبلی اور وزرا نے بلدیاتی انتخابات کی مخالفت کی، سابقہ دور میں وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے جب بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تو کابینہ کی اکثریت نے استعفے وزیراعظم کو پیش کیے، جس کے بعد بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر عدالت سے مہلت پر مہلت لی جاتی رہی اور معاملہ عام انتخابات کے قریب آگیا تو فاروق حیدر نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے، اب کی بار وفاقی حکومت نے سیکورٹی کی فراہمی سے انکار کیا تو بھی وزیراعظم آزاد کشمیر الیکشن بروقت کروانے پر ڈٹے رہے، الیکشن کمیشن نے امن کمیٹیاں بنا کر انتخابات کا اعلان کیا تو اپوزیشن نے نہ صرف ان کمیٹیوں کو مسترد کیا بلکہ ان کے ذریعے ہونیوالے انتخابات سے بائیکاٹ پر بھی سنجیدگی سے غور و خوص کیا، کسی سیانے نے مشورہ دیا کہ جمہوری عمل کا حصہ بنیں اور میدان خالی نہ چھوڑیں جس کے بعد اپوزیشن نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا

آزاد کشمیر میں مقامی پولیس اور امن کمیٹیوں کی مدد سے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا پرامن انعقاد خوش آئند ہے، بلدیاتی انتخابات میں عوام کی شرکت، گہماگہمی ظاہرکرتی ہے کہ یہی ادارے جمہوریت کی اصل ہیں، اور یہی جمہوریت کی نرسری ہیں، عوام کو مقامی سطح پر اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع مل رہا ہے، یہ نمائندے ان کے اپنی گلی محلے اور گاوں سے ہیں جو ان کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں، بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنا کر عوام کے مسائل عوام کی دہلیز پر حل کیے جاسکتے ہیں، نلکے، ٹوٹی، نالے، سڑک اور کھمبے کیلئے عوام کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے، یہی مقامی لیڈران آنے والے سالوں میں ممبران اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیں گے اور اگر کامیاب ہونگے تو بہتر انداز میں عوام کی خدمت کرنے کی پوزیشن میں ہونگے کیونکہ انہیں عوام کے بنیادی مسائل کا بخوبی ادراک ہوگا، یہی نمائندے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے قانون سازی کریں گے، قانون سازی ممبران اسمبلی کا کام ہے، جبکہ ترقیاتی اسکیمیں مکمل کرنا بلدیاتی اداروں کا کام ہے، بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے بعد وزیراعظم سردار تنویر الیاس کیلئے بڑا چیلنج ان اداروں کو بااختیار بنانا ہوگا، موجودہ حکومت سے اس کام کی امید اس لیے بھی ہے کہ اس کے پاس ابھی ساڑھے 3 سال ہیں، امید یہی ہے کہ جس طرح وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے بلدیاتی انتخابات کروائے اسی طرح وہ ان بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا کر بھی تاریخ رقم کریں گے

مقالات ذات صلة

آپ کی رائے

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

- Advertisment -
Google search engine

اہم خبریں