85

ہمت اورکچھ کردکھانے کی جستجو کامیابی کو آسان بنادیتی ہے

تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر
ضلع چترال کی تحصیل دروش کے نواحی گاوں کڑدام دروش تعلق سے رکھنے والے وقار احمد پیدائشی طورپردونوں ٹانگوں سے محروم ہیں اور اپنی نقل و حرکت کے لئے وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں ۔ وہ گذشتہ 8 برس سے مدرسہ صدیق اکبردروش میں بلامعاوضہ ناظرہ قرآن پڑھارہے ہیں۔
وقاراحمد کہناہے کہ معذوری کی حالت میں اگر گھر کا ماحول اچھا مل جائے تو انسان بیماری سے مقابلہ کرلیتا ہے اگر ماحول اس کے برعکس ہو تو پھر زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور جسمانی معذوری کے ساتھ ذہن بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ سرکاری اداروں میں افراد باہم معذوری کے شکارافراد کے رسائی کویقینی بنانے کے لئے ریمپس یعنی ڈھلوان کیوں نہیں بنائے جاتے ہیں۔تاکہ خصوصی افرادبھی نسبتاً آسانی کے ساتھ اپنے منزل تک پہنچ سکیں؟
میں وہیل چیئر کو اپنے کمزور ہاتھوں سے چلاتے ہوئے حوصلہ مندی سے مسائل کا سامنا کر رہا ہوں۔ سکت کم ہے مگر ہمت بلند ہے اور بحیثت شہری میں نامساعد حالات سےمقابلہ کرنے کی ہرممکن کوشش کررہاہوں یہ کہنا تھا وقار احمد کا اس کے ساتھ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان کے اسلامی معاشرے میں بمشکل کوئی ایسی مسجد ملے گی جہا ں وہیل چیئراستعمال کرنے والے افراد کے لئے سہولیات فراہم کی گئی ہوں جہاں وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ سکیں۔ چترال میں میرے خیال میں کوئی ایک مسجد بھی نہیں ملے گی جس میں خصوصی افرادکے لئے بندوبست کیا گیا ہو۔اس طرح معاشرے میں کئی بنیادی سہولیات کی شدیدکمی ہے ۔
وقار احمد نے مطالبہ کیا کہ رمضان المبارک کی ٓامد ٓامد ہے لہذا مقامی افسران اور حکومت وہیل چیر استعمال کرنے والوں کے لئے مساجد میں ان کے داخلے کے لئے خصوصی اہتمام کرے تاکہ وہ بھی اپنی مذہبی فرائض کی ادائیگی کر سکیں۔
چترال سپیشل پیپلز آرگنائزیشن کے صدر ثناء اللہ پولیوکے وائرس کی وجہ سے ایک ہاتھ سے محروم ہیں۔ ایک اور عہدیدارفضل نادر ہیں جو15 برس پہلے حادثے کی وجہ سے ایک ٹانگ سے محروم ہوئے اور اب مصنوعی ٹانگ کی مدد سے چل پھررہے ہیں۔ ایک اور عہدیدار گل حمیدخان پولیو کی وجہ سے دائیں پاوں سے محروم ہیں۔ جواد احمد پیدائشی طور سے دائیں بازوسے محروم ہیں،محراب حسین کے دونوں پاوں پولیوسے متاثر ہیں اورضیاء الدین جن کے دائیں ہاتھ کی چارانگلیاں جڑی ہوئی ہیں ۔ ان عہدیداران نے میڈیاسے خصوصی گفتگومیں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے بتایاکہ سکولوں ، کالجوں، ہسپتالوں اور تمام پبلک مراکز میں ریمپس کی سہولت کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ خصوصی افراد کی رسائی ان تک ممکن ہوسکے۔ایسے افراد کو سب سے پہلے ریمپس کی سہولت درکار ہوتی ہےجس سے وہیل چیئر گزرسکے۔ خاص کراوپروالی منزل پرجانے کےلئے ریمپ کی سہولت کے ساتھ ساتھ خصوصی ٹائلٹز کابھی ہوناضروری ہے اورخصوصی افرادکےچیک اپ کے لئے ڈاکٹرحضرات کوگراونڈ فلورپرکمرے دیناچاہیے ۔
فضل نادرکاکہناہے کہ خصوصی افراد کو روزمرہ کی زندگی گزارنے میں کئی رکاوٹیں اور مشکلات کا سامنا ہے ۔ یہ رکاوٹیں عام طور پر وہیل چیئرز کے استعمال کے لئے ڈھلوانی راستے کا نہ ہونا، خصوصی واش رومزاوردیگرکئی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال ،سکول اوردفاترجانے میں شرم محسوس کرتے ہیں ۔ ان تمام عہدیداران کا ماننا تھا کہ آئین پاکستان حکومتوں کو پابند بناتا ہے کہ وہ افراد باہم معذوری کے لئے خصوصی سہولتوں کا انتظام کریں تاکہ وہ بھی عام افراد کی طرح زندگی آسانی کے ساتھ گذارسکیں۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہےخصوصی افرادکے لئے صحت مندانسان جیسی سہولیات نہیں دی جاتی ہے اس سے خصوصی افراد ایسامحسوس کرتے ہیں کہ وطن عزیزمیں بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیاجارہاہے
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرلوئرچترال ڈاکٹرفیاض رومی نے بتایاکہ و رلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن کے مطابق دنیا میں اس وقت پندرہ فیصدلوگ کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں ۔ ہیلتھ ٓافیسر نے بتایا کہ چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرہسپتال میں ریمپ کی سہولت ہر بلاک میں موجودہے تاہم خصوصی ٹائلٹز کے لئے تمام کاغذی کارروائی مکمل کی جاچکی ہے۔پیسے ملنے پرفوری کام شروع کیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ لوئرچترال کے تمام تحصیل ہیڈکواٹرہسپتال ،بی ایچ یوہسپتالز کوہدایت کی گئی ہے کہ خصوصی افرادکو علاج ومعالجے کی تسلی بخش سہولیات فرا ہم کی جائیں تاکہ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔اورکئی سرکاری ہسپتالوں میں افرادباہم معذوری کوبہترین طبی سہولیات کی فراہمی کویقینی بنانے کے لیے کام کومانیٹر کیا جا رہا ہے۔ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر منظم مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں