48

گمراہ لوگوں کو پہچانیں

تحریر: فیصل خالد
@PtiGladiator
دین کی باتوں میں رہنمائی کیلئے ہمارے پاس قرآن مجید کے ساتھ اسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بطور بہترین نمونہ موجود ہے۔ اوراللہ کے دین کو سمجھنے کیلئے اللہ والوں کی قربت بہت ضروری ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ دین سے دورہوکر دنیا کی طرف راغب ہورہا ہے۔ دین دشمنوں نے مسلمانوں پر غلبہ پانے کیلئے دینی تعلیمات کو گڈمڈ کردیا ہے۔ بطور مسلمان ہم میں سے کوئی بھی یہ ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار نظر نہیں آتا کہ اللہ کے دین کیلئے کام کیا جائے۔ جبکہ دین دشمنوں کو اگردیکھا جائے تو وہ پوری یکسوئی سے اسلام مخالف ایجنڈے پرعمل پیرا دکھائی دیتے ہیں حد تو یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ جن کے بارے میں ہمیں دین نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ یہ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ان سے رہنمائی لینے ان کے نظریات میں ہم عافیت سمجھنے لگے ہیں۔ یہودی تواسلام دشمنی میں آج بھی صف اول پر ہیں جورہی سہی ہماری مسلمانیت بھی برداشت نہیں کرتے اور مسلمانوں کو گمراہی کی دلدل میں دھکیلنے، فحاشی ، عریانی، بے حیائی کو پروان چڑھانے کیلئے ہر قسم کے میڈیا ذرائع کا استعمال کررہے ہیں بچوں کو گمراہ کرنے والی ویڈیو گیمز اور ناچ گانے جیسی اپلیکیشنز کا دلدادہ بنارہے ہیں وہیں باقاعدہ طور پر ہمارے قرآن ، حدیث کا مطالعہ کرکے اینٹی اسلام کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
ہماری دینی تعلیمات کے غلط تراجم سے ہمیں فرقہ پرستی، دین سے دوری، مخلوط معاشرے جیسی گمراہیوں کی دلدل میں دھنسا دینے کے مشن پرعمل پیرا ہیں۔ آج انٹرنیٹ کے زمانے میں جبکہ ہم نے کتاب سے اپنا رشتہ ناتا ہی توڑ لیا ہے اور دین کے معاملے میں بھی آن لائن معلومات کے محتاج ہیں تو دین دشمن پوری چالاکی سے دینی تعلیمات کا مفہوم تبدیل کرکے انٹرنیٹ پر پھیلا رہے ہیں اور اس سارے معاملے کو روکنے کیلئے ،اسلام دشمنوں کے پروپیگنڈہ کا مناسب جواب دینے کیلئے ہماری طرف سے کچھ بھی تیاری نظر نہیں آتی۔ ہمارے علماء و مشائخ بھی الاماشاء اللہ فرقہ پرستی جیسے معاملات میں پیش پیش ہیں ایسے میں وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے گمراہ قرار دیا گیا ہے وہ لوگ خود کو راہ راست کا مسافر ، رہبر و رہنما گردانتے ہیں۔ قرآن نے ان لوگوں کو گمراہ قرار دیا ہے جو اللہ اور رسول کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں گمراہ لوگ تو گمراہی کے شکنجے میں ایسے جکڑے گئے ہیں کہ درود ابراہیمی میں ” كما بارَكْتَ على إبراهيمَ و على آلِ إبراهيمَ ” کے الفاظ میں موجودہ یہودیوں کو بھی شُمار کرتے ہیں۔
ناخلف اور نافرمان انبیاء کی آل میں شمار نہیں کئے جاسکتے۔ ناخلف کو تو جدید دور کا باپ بھی عاق کردیتا ہے اخبار اشتہار دے دیئے جاتے ہیں کہ بوجہ نافرمانی ہمارا فلاں فلاں بیٹے سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ اسی طرح کا معاملہ دین کے معاملہ میں ہے۔ناخلف آل سے باہر ہوتے ہیں۔
ابنِ نوح کا واقعہ بہت بڑی مثال ہے۔ اللہ کے احکامات کا معاملہ ہو تو کوئی رشتہ یا قرابت تقویٰ سے بڑھ کر نہیں۔ قرآن کی طرف سے إنّ أكرَمكُم عِند الله أتقٰكم ۔۔ اللہ کے نزدیک وہی بہتر ہے جو تقوی میں بہتر ہے۔ یہ کامل وضاحت ہے۔اور یہ اٹل ہے۔ دین اسلام کے بعد کے یہودی “آلِ ابراہیم” کے معیار پر پُورے نہیں اترتے۔
نہ ہی اسوہ رسولؐ کے “مُنحرف” آلِ محمد کے معیار پر پورے اُترتے ہیں۔
اللہ کا فیصلہ اور معیار إنّ أكرَمكُم عِند الله أتقٰكم ہے اور یہی رہے گا۔ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی بھی بارگاہِ رسالت میں حاضر و موجود نہیں رہے! لیکن وہ دوسرے صحابہ کرام کے ساتھ اسی درجے پر فائز ہیں! جو اصحابِ رسول کا درجہ اور مرتبہ ہے۔
معیار وہی ہے!!! تقویٰ
معیار وہی ہے!!!
اطیواللہ و اطیعوالرسول
جو قرآنی آیات کے مفہوم کو توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کی تشریح کریں وہ ہرگِز متقی نہیں اور جو خود ہدایت کی راہ پرنہیں وہ کیسے دوسروں کی اصلاح کر سکتے ہیں ! ایسے لوگ گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کررہے ہیں۔ان سے ہم نے خود بھی بچنا ہے اور اپنی اولادوں کو بھی بچانا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے اور یہ ہماری مذہبی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم دین دشمنوں کے پراپیگنڈے کا بھرپوراور موثرطریقے سے مقابلہ کرنے کیلئے خود اور اپنی اولاد کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والا پکا سچا مسلمان بنائیں۔ اپنے گھروں میں دینی تعلیمات کوعام کریں ایک بہترین مسلم معاشرہ کی تشکیل کیلئے اپنے خاندانی نظام کو اسلامی تعلیمات کی بنیادوں پر استوار کریں۔ اپنی بچیوں اور خواتین کو دینی تعلیمات کی طرف راغب کریں کہ ہماری اولاد صالح بن کر دین کی بطورسپاہی حفاظت کا فریضہ سر انجام دے سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں