23

خواتین کی مخصوص نشستوں کو بھیک اور نذرانہ سمجھنے کی روش ختم ہونی چاہئے، جی بی خواتین اراکین اسمبلی

گلگت،خواتین ارکان اسمبلی کو درپیش امتیازی رویوں کا واحد حل خواتین کا براہِ راست انتخابات کے ذریعے ایوان میں آنا ہے، خواتین کی مخصوص نشستوں کو بھیک اور نذرانہ سمجھنے کی روش کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار گلگت بلتستان اسمبلی کی خواتین ارکان اسمبلی نے خواتین کی سیاسی نمائندگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا ۔
اس اجلاس کا انعقاد ٹرسٹ برائے جمہوری تعلیم و احتساب (ٹی ڈی ای اے)کی جانب سے کیا گیا تھا اور اس کا مقصد خواتین ارکان اسمبلی کو براہِ راست نشستوں پر انتخاب لڑنے کے لیے معاونت فراہم کرنا تھا۔ خواتین ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ ایک ہی ایوان کے ارکان ہونے کے باوجود مردوں اور خواتین کے ساتھ اسمبلی اور حکومتی ایوانوں میں ایک جیسا سلوک روا نہیں رکھا جاتا ہے۔ خواتین ارکان اسمبلی کو ایوان میں اپنی بات کہنے کے مواقع کم میسر آتے ہیں نیز حکومتی دفاتر میں بھی انہیں امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے۔ممبر اسمبلی، محترمہ کلثوم الیاس کا کہنا تھا کہ خواتین کو سیاسی میدان میں یکساں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ فیصلہ سازی میں مساوی بنیاد پر نمائندگی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ممبر اسمبلی دلشاد بانونے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات بشمول فنڈز کی دستیابی، سازگار ماحول ، سیاسی جماعتوں اور اسمبلی کے اندر فیصلہ سازی کے عوامل میں شرکت ضروری ہے۔ ممبر اسمبلی ثریا زمان نے خواتین کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک مجموعی طور پر رویوں میں عورت کی قیادت کے حوالے سے ابہام پائے جاتے ہیں اور خواتین کو عوام سے رابطہ ، سیاسی سرگرمیوں میں شرکت اور اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں خاصا مشکلات کا سامنا ہے اور خاصکر نوجوان خواتین سیاست دانوں کی تربیت و آگاہی کے حوالے سے کوئی منظم نظام موجود نہیں ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں