Friday, March 1, 2024
ہومبریکنگ نیوزجنگ بندی، 13 اسرائیلیوں کے بدلے 39 فلسطینی رہا

جنگ بندی، 13 اسرائیلیوں کے بدلے 39 فلسطینی رہا

غزہ(مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں عارضی جنگ بندی کے دوسرے روز تاخیر کے بعد رات گئے حماس نے 13 اسرائیلی اور 4 تھائی شہریوں کو رہا کردیا، رہا ئی پانے والے اسرائیلیوں میں 5 خواتین اور 8 بچے شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کے روز قطر اور مصر نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل کے حوالے سے حماس اور اسرائیل سے مذاکرات کئے اور رکاوٹوں کو دور کیا۔

جس کے بعد رات گئے حماس نے دوسرے مرحلے میں مزید 17 یرغمالیوں کو رہا کر دیا، اسرائیل کی جانب سے بھی 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کردیا گیا جن میں 33 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں۔

فلسطینی قیدی مغربی کنارے کے علاقے بیتونیا پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ، رہا ہونے والے فلسطینیوں میں 38 سال کی اسراء جعابیص بھی شامل ہیں انہیں 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسرائیلی حکام کاکہنا ہے کہ اسرائیلی یرغمالی بذریعہ رفاح کراسنگ مصر سے اسرائیل پہنچ رہے ہیں ۔قطر کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کی راہ میں حائل رکاوٹیں قطر اور مصر کے دونوں فریقوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے دور ہوگئیں جس کی حماس نے بھی تصدیق کی تھی۔

اس سے پہلے حماس نے یرغمالیوں کی رہائی مؤخر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد نہیں کررہا اور قیدیوں کی رہائی کا عمل روک دیاگیا ۔

حماس کا کہنا تھا کہ صیہونی فوج شمالی غزہ میں امداد اور بے دخل فلسطینیوں کو واپسی سے روک رہی ہے، ڈرون کی پروازیں بھی جاری ہیں، مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان چار روزہ جنگ بندی کے دوران 50 اسرائیلیوں کو رہا کیا جائے گا اور بدلے میں 150 فلسطینیوں کو رہائی ملے گی۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیل کے زمینی اور فضائی حملوں میں اب تک 14 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، شہدا میں 6 ہزار 150 بچے اور 4 ہزار سے زائد خواتین بھی شامل ہیں جبکہ بچوں اور خواتین سمیت زخمیوں کی تعداد 36 ہزار تک پہنچ چکی ہے ۔

دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں اور بربریت کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارےمیں اسرائیلی فوج کی بربریت جاری ہے ، غرب اردن میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے چھ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صیہونی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونیوالوں میں سے چار جنین میں، ایک مغربی کنارے کے شمال میں واقع قصبے قباطیہ میں اور ایک فلسطینی جنوبی علاقے البیرہ میں جان کی بازی ہارگیا ۔

رام اللہ میں بھی اوفر قید سینٹرکےباہراپنے پیاروں کی رہائی کے منتظرفلسطینیوں پراسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین افرادزخمی ہوگئے، جنین میں بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ شہرمیں گھسنے کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے چار فلسطینی شہید ہوئے۔

عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نےسرکاری اسپتالوں اور ریڈ کریسنٹ ہیڈ کواٹرز کا محاصرہ کررکھا ہے۔

عینی شاہدین نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد نے ہفتے کی شام جنین شہر پر ایک فوجی بلڈوزر کے ساتھ دھاوا بول دیا، اس کے ماہر نشانچی عمارتوں کی چھتوں اور جینن کیمپ کے مضافات میں تعینات کیے گئے جس کے بعد انہوں نے فلسطینیوں پر حملے کیے۔

عرب میڈیا کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ جنین گورنمنٹ ہسپتال اور ابن سینا ہسپتال کے ارد گرد فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، جنین کی فضائی حدود میں ڈرون کو پرواز کرتے دیکھا گیا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنین کیمپ پر دھاوا بول کر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے، اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے جنوبی شہر البیرہ میں گولیاں مار کر ایک سولہ سالہ لڑکے کو شہید کر دیا۔

وزارت صحت اور ہلال احمر سوسائٹی نے رپورٹ کیا کہ مغربی کنارے کے مختلف مقامات پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 17 فلسطینی زخمی ہوئے جبکہ مغربی کنارے کے جنوب میں واقع دورا شہر میں فائرنگ سے ایک شہری شدید زخمی ہوگیا۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کے مطابق مغربی کنارے میں تقریباً 20 سالوں میں سب سے زیادہ پرتشدد اسرائیلی کارروائی کا مشاہدہ کیا گیا جس میں 14 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغربی کنارے میں 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔