57

عمران خان آج دہلی میں جلسہ کریں تو وہ مودی سے بڑا ہوگا، فواد چوہدری

دبئی،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے، افغان حکومت کو یکطرفہ طور پر تسلیم نہیں کریں گے، افغانستان کی صورتحال براہ راست پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ نریندر مودی ہیں، اگر بھارت سے ہمارے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو پاکستان دو بڑی منڈیوں کے درمیان ہوگا، کورونا وباکے باعث دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، رواں سال گندم اور گنے کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے، زرعی معیشت میں 1100 ارب روپے منتقل ہوئے، ٹیکسٹائل کی صنعت فروغ پا رہی ہے، ہمارے پاس 2023تک ٹیکسٹائل کے مزید آرڈرز لینے کی گنجائش نہیں، تعمیرات کے شعبہ میں بھی ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام ہماری خواہش ہے، افغانستان کی صورتحال براہ راست پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو سہارا دیں، افغانستان میں امن کے لئے ہماری کوششیں جاری ہیں، ہم طالبان کو جامع حکومت بنانے امریکہ اور مغرب کو افغان حکومت کو مضبوط کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم خطے کے دیگر ممالک کے ہمراہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کریں گے، یکطرفہ طور پر افغان حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان سے بات کر رہے ہیں کہ وہ دیگر گروپوں کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت بڑھنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ڈالر افغانستان سمگل ہو رہا ہے، ہماری ترجیح ہے کہ افغانستان میں استحکام آئے، ہم نے ڈالر کی سمگلنگ کو بھی روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کو امداد بھی فراہم کر رہے ہیں جس کا مقصد افغانستان میں استحکام لانا ہے تاکہ وہاں ایک ایسی مرکزی حکومت قائم ہو جس کے ساتھ ہم تعلقات قائم کر سکیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کورونا وباکے باعث دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں مہنگائی پر قابو پانے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے، اس سال پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی آموں کی ایکسپورٹ ہوئی، آنے والے سیزن میں کینو کی بھی بمپر فصل کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1100 ارب روپے زرعی معیشت میں منتقل ہوئے جس کے نتیجے میں دیہات میں خوشحالی آئی، موٹر سائیکلوں کی فروخت میں اڑھائی گنا اضافہ ہوا، ٹریکٹرز کی فروخت بھی دو گنا بڑھی بالخصوص چھوٹی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر فروخت دیہات کی مارکیٹوں میں رہی۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کا سیکٹر مکمل طور پر بند تھا، ہم نے اس سیکٹر کو بحال کیا، اب 2023تک ہمارے پاس مزید آرڈرز لینے کی گنجائش نہیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ تعمیرات کے شعبہ میں بھی بے پناہ ترقی ہوئی ہے، گزشتہ 14 ماہ کے دوران تعمیرات کے شعبہ میں تقریبا 600 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی اور تین لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بڑی تعداد میں ترسیلات آئیں، یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی معیشت اوورسیز پاکستانیوں کی وجہ سے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے عمران خان اقتدار میں آئے ہیں، کابینہ کے ہر اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل پر بات ہوئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے بیرون ملک معمولی جرائم میں قید 16 سے 20 ہزار قیدیوں کو وطن واپس لایا، کبھی کسی حکومت نے ان قیدیوں کی رہائی کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستانی پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ کیا، آج ہمارے سفارت خانے سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کے لئے ان کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم نے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل پر زور دیا ہے اور ہم انہیں ووٹ کا حق دینے کیلئے بھی پرعزم ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے پاک بھارت کرکٹ میچ کے حوالے سے کہا کہ تمام پاکستانیوں کے دل اپنی کرکٹ ٹیم کے ساتھ جڑے ہیں، کرکٹ ہی ہم سب کو آپس میں جوڑتی ہے، تمام لوگوں کی دعائیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرجوش ہیں کہ پاکستان یہ میچ جیتے گا اور پاکستانیوں کی خوشیوں میں اضافہ ہوگا، پاکستان کرکٹ ٹیم ہمارا فخر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم بھارت سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں، اگر بھارت سے ہمارے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو پاکستان دو بڑی منڈیوں کے درمیان ہوگا اور ہم وسطی ایشیائی ریاستوں کو ایک اہم کوریڈور دے سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلم کش حکومت برسراقتدار ہے، جب سے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں انہوں نے اقلیتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا، نریندر مودی کے رویئے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر نہیں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان بھارت میں مقبول ترین شخصیت ہیں، اگر عمران خان دہلی میں جلسہ کریں تو یہ جلسہ نریندر مودی کے جلسے سے بڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقع تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوسکتے تھے لیکن نریندر مودی کے رویئے کی وجہ سے ان تعلقات میں بہتری نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے عام آدمی کو سوچنا چاہئے کہ ان تعلقات کی بہتری کے کتنے فوائد ہیں، کشمیر کا مسئلہ حل ہو اور کشمیر کو آزادی دی جائے تو اس کا فائدہ پاکستان اور بھارت دونوں کو ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ہم نے بہت سے اقدام اٹھائے ہیں، وراثت کے سرٹیفیکیٹ کے لئے پہلے اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان آنا پڑتا تھا، کورٹ کچہریوں کے چکر لگتے تھے، اس مسئلہ کو ہم نے حل کر دیا ہے، اب اوورسیز پاکستانیز نادرا کے آن لائن پورٹل کے ذریعے وراثت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں