27

ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 90لاکھ سے تجاوزکرنے کا انکشاف

اسلام آباد، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول کا اجلاس سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے عمل اور وزارت کی جانب سے ملک بھر میں اس حوالے سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور ملک بھر میں منشیات کے استعمال پر قابو پانے اور اس حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل پر اراکین کمیٹی نے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں منشیات کے استعمال پر UNODC کے سروے، 2013 کے مطابق ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 6.7 ملین تھی، تاہم آج نشے کے عادی افراد کی تعداد 9 ملین کے قریب ہے۔ یہ نوٹ کیا گیا کہ منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں گزشتہ کچھ سالوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور صرف وزارت ہی نشے کے عادی افراد کی بحالی اور علاج کے مراکز نہیں بنا سکتی۔ وزارت نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ 2023 میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے پاکستان میں سروے متوقع ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے زور دیا کہ ایک حقیقت پسندانہ اعداد و شمار اس وقت کی ضرورت ہے کیونکہ 2013 کے بعد نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔وزارت نارکوٹکس کنٹرول نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی/ علاج کروانا وزارت کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ سی این ایس اے ایکٹ 1997 کے سیکشن 52 اور 53 کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی رجسٹریشن اور بحالی کی ذمہ داری صوبائی حکومت کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اے این ایف صوبائی حکومت/ ایم این سی کے تعاون سے 4x ماڈل کی طرز پر نشے کے عادی افراد کے علاج اور بحالی مراکز چلا رہاہے، جس میں سے ایک اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری میں 2005 میں قائم کیا گیا جو 45 بستروں کا ہسپتال ہے۔ 2005 کے بعد سے اگست 2021 تک 6652 منشیات کے عادی مریضوں کا علاج کیا گیا ہے اور دوسرا ہسپتال 2010 میں کراچی میں قائم کیا گیا ہے، یہ 205 بستروں پر مشتمل ہے بشمول خواتین کے وارڈ کے لیے 25 اور جو وینائلز کے 25 بستر موجود ہیں۔ ہسپتال میں 2010 سے اگست 2021 تک کل 6548 منشیات کے عادی مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں کوئی ہسپتال قائم نہیں کیا گیااور صوبوں میں ان مراکز کا قائم نہ ہونا نہایت تشویش کا باعث ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ کمیٹی کو پاکستان میں نشے کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو یہ بتایا گیا کہ ملک بھر میں 130 علاج معالجے کے مراکز 6500 بیڈوں کی گنجائش کے ساتھ موجود ہے۔ سالانہ علاج کی گنجائش 30 ہزار ہے اور 1370 کلینیکل سٹاف ہے جن میں ڈاکٹر ز، ماہر نفسیات، اور نرسز شامل ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں 15 فیصد ہیروئن کے استعمال کے عادی افراد، 31 فیصد بھنگ، چرس اور 33 فیصدکرسٹل کے عادی افراد کا علاج کیا گیا ہے۔ سینیٹر جام مہتاب حسین ڈہر نے سوال اٹھایا کہ ایلیٹ کلاس میں منشیات کا استعمال کسی شمار میں نہیں ہے جو کہ آج کل اس طبقے کا رجحان بن چکا ہے۔ کوکین، امیر وں کی سردرد کی دوا کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ جہاں غریب طبقہ منشیات کا استعمال اپنے حالات کی تنگ دستی سے مجبور ہو کرکرتا ہے وہاں امیر اس کو اپنے لئے تفریح کا باعث سمجھتا ہے۔کمیٹی نے زور دیا کہ منشیات کے استعمال کے کنڑول کو صرف غریب یا ناپسندیدہ طبقے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ امیر طبقے میں بھی اس کے استعمال پر آگاہی دی جائے جنہوں نے اس کو مشغلہ کے طور پر اپنایا ہے۔ سیکرٹری وزارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ عوام کو ہیروئن اور چرس وغیرہ جیسی منشیات کے استعمال کے حوالے سے مذہبی طور پر ممانعت سے آگاہ نہیں کیا جارہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر اعجاز احمد چوہدری نے منشیات کے استعمال کی ممانعت پر علما کے کردار پر زور دیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وہ کمیٹی کی جانب سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ذریعے علما تک یہ سفارشات بھیجانا چاہتے ہیں کہ وہ نماز جمعہ کے خطبات میں منشیات کے خلاف آگاہی مہم کے حوالے سے بات کریں اور یہ بتائیں کہ یہ کس درجے کا گناہ ہے اور اس حوالے سے انسانوں اور مسلمانوں کی بروز آخرت باز پرس بھی ہوگی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں تمام طبقات کے نوجوانوں میں مختلف اقسام کی نشہ آور ادویات اور اس کے استعمال پر بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے صوبائی سطح پر وزرائے اعلی کے ساتھ ملک بھر میں نشے کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز کے قیام کے اقدامات کے حوالے سے اجلا س منعقد کرنے کی سفارش کی۔قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر انور لال دین اور سینیٹر جام مہتاب حسین ڈہر کے علاوہ وزارت انسداد منشیات کے اعلی حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں