Monday, April 22, 2024
ہومکالم وبلاگزٹھمکوں اور تالیوں میں عورت مارچ

ٹھمکوں اور تالیوں میں عورت مارچ

ہم بنیں گی اچھی ساسیں ۔ہم رہیں گی اچھی نندیں ۔۔۔ہم ہی ہوں گی پیاری سی بھابھیاں ..ہم سدا سے ہنس مکھ بیویاں ۔عورت مارچ میں ہمیں ان قوموں کی عزت رکھنے والے چار عناصر کا ذکر کہیں نظر نہ آیا کیوں کہ یہی چار عناصر ہوں تو پاکستانی روایتی دیہی معاشرے میں ایک مرد اچھا بھائی، بیٹا، شوہر، باپ بن کر ڈھنگ کاافسر ، ٹیچر، سیاست دان ، فوجی ، سپہ سالار، بزنس مین یا فن کار بنتا ہوا نظر آتا ہے ۔مگر یہ چاروں عناصر بھی اپنی کیمسڑی نا دکھا سکیں تو ایسے الو کو بندے کا پتر بنانے کے لیے اس کے اپنے والد محترم یا ریاست کی مدد مانگنا پڑتی ہے مگر جب ریاست خود اپنے پیرانہ چکروں میں پڑی ہوئی ہو تو قانون حرکت میں آتا ہے مگرجہاں قانون کی اپنی عمارت مخدوش ہو تو کیا کیجیے؟
پھر احساسات کی بارش ہوتی ہے ۔ احتجاج ہوتا ہے لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں مگر کبھی کبھی موسلا دھار بارش میں مینڈک مینڈکیوں کا احتجاج اس کی خوشی محسوس ہوتا ہے۔
ایسے ہی پاکستان کی کچھ صاف ستھری سڑکوں پر عورت مارچ کے تناظر میں مردانہ رویوں کی اصلاح کے نام پر نکلنے والی عورتیں موسم بہار میں عجب رنگ دکھلاتی ہیں ان کو دیکھ کر کبھی لگتا ہے۔۔یہ ناریاں برانڈڈ دکھیاریاں ہیں یا جنیوئن اداس نسلیں۔۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتادانے پہ دانا اور قبائلی روایتی نغموں پر رقص معاشرتی المیے کا کتھارسسس ہے یا کوئی ہماری پسماندہ سوچ کی عکاسی کرنے والا ہمیشہ کی طرح بے کار و بے ہودہ سا ہنود و یہود کا ایجنڈا؟ یہ تفریحی گھٹن ہے یا سہولت کار سے مردوں کے منورنجن کااہتمام ؟ یہ ظلم کے خلاف آواز ہے یا مظلوم عورتوں کے خلاف سازش ؟ ۔۔۔۔عورت مارچ میں مونث کے ساتھ ۔مخنث بھی ناچ ناچ کر تھک گئے مگر رقص میں ہے سارا جہاں کے علاوہ کچھ ثابت نہ کرسکے ۔ زنانہ چال والے لڑکے اور مردانہ حلیے والی لڑکیاں کیا یہ سب چاہتے ہیں کہ سب خواتین حقوق کے نام پر سڑکوں پر رقص فرمائیں تو ان کے لیے عرض ہے کہ آپ اس شیخ کی مانند لگتی ہیں جس کے بارے میں استاد کہہ گئے
شیخ کرتا تو ہے مسجد میں خدا کو سجدے
اس کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں
اپنی توانائیاں شیخ کے بے اثر سجدوں کی طرح ضائع نہ کیجیئے ابھی کچھ لوگ باقی ہیں پاکستان میں جو نوے فی صد درست دماغی حالت میں پائے جارہے ہیں ان سے کچھ نعرے لکھوا لیجیے۔۔میرا حق میری وراثت ۔۔۔۔میری تعلیم میری عزت ۔۔۔۔میرا گھر میری جنت ۔۔میری سوچ میری عظمت۔۔۔ مجھے گھورنے والو میں تمہاری ماں بہن بیٹی ہوں ۔۔۔۔مجھ پر ہاتھ اٹھانے والو پہلے میری سن تو لو ۔۔۔۔بہنو ۔یہاں تعلیمی معیار کا یہ حال ہے کہ اپنی قومی زبان اردو کو پڑھنے اور سمجھنے والوں کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے ۔۔ٹریفک کے سگنلز لوگوں کی سمجھ میں آ ج تک نہ آئے آپ کے پلے کارڈ میں چھپے اشارے کنائے کون سمجھے گا ؟
بغیر ٹھمکے اور تالی لگائے سیدھا سا اصولی موقف پیش کیجیے تاکہ آپ کے اور ہیجڑوں کے مسائل میں فرق اس ظالم مردانہ معاشرے کی سمجھ میں آئے ۔
سچ پوچھئیے تو ہر مظلوم عورت کی آواز کے مطابق عورتوں کی وارثت کو ہڑپ کرنے والوں کو کنجوس بھیڑیا قرار دیا جائے ۔بیویوں کو مارنے والوں کو خارشی کتاریپسٹ اور چائلڈ ایبیوزر کو خنزیر اول۔جہیز غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کو بے غیرت گیدڑ ٹھرکیوں نشیوں کو خماری گدھے قرار دے کر جیل کروانیسے کچھ بات بنتی نظر آتی ہے کیوں کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور اس طرح کے فعل قبیح کرنے والے جانوروں سے بھی بدتر حالت میں ڈھل جاتے ہیں ۔۔۔۔مگر آپ غیر اخلاقی ذومعنی جملوں سے ان عورتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہی ہیں جو ایک کامیاب مرد کی بدترین ناکامی کاسبب بنتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ جو اپنے کوہ قاف کے جن ایسے بیٹوں کے لیے زمینی پری کی تلاش میں کئی معصوم صورتوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتی ہوئی کہتی ہیں ۔ہمیں تو چاند جیسی بہو چائیے ۔۔آپ ان ظالم عورتوں کے ہاتھ بھی مضبوط کر رہی ہیں جو جہیز کے نام پر اپنی بہو کو اذیت کے گہرے پانیوں میں ڈوب کر مرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔آ پ ان عورتوں کے ہاتھ بھی مضبوط کررہی ہیں ۔۔جو مرضی محبت و عشق کے نام پر اسقاط حمل جیسے مکروہ گھناونے افعال پر کم سن بچیوں کو غیر اخلاقی اور مجرمانہ ترغیبات پر اکسا رہی ہیں ۔آ پ ان عورتوں کے مکروہ جذبات کو بھی ہوا دے رہی ہیں جو دوست بن کر اپنی سہیلی کا گھر اجاڑ دیتی ہیں ۔جو ماں بن کر اپنے بیٹے سے کہتی ہیں جب تک تونے بہو کو طلاق نہ دی تو تجھے بخشوں گی نہیں ۔۔۔ان عورتوں کو عورت کارڈ کے ایسے استعمال پر مجبور کررہی ہیں جہاں کوئی بھی شریف مرد اپنی عزت بچانے کے لیے خودکشی پر مجبور ہوجائے ۔۔چار سال ہوگئے ابھی تک ایک ڈھنگ کا پلے کارڈ ظالم معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ نہیں سکا ۔۔الٹا کم عقل مرد ہر عورت کو دھرنے اور مارچ والی عورت سمجھ کر تماش بین بن چکے ہیں ۔۔۔ناچ رقص بھنگڑے ضروری ہیں پر دھمال قوالی کے نام پر اور سکول کالجوں میں کلچرل ڈے مینا بازار فن فئیر کے موقع پر سب توانائیاں خرچ ہوتی ہوئی نظر آجاتی ہیں ۔۔وہ بھی فن ہے اور فن سیکھنے کے لیے اکیڈمی کا مطالبہ کیجیے ۔۔۔۔نام نہاد لبرل بدقماش ۔ایجنڈا فروش مرد تو بہت خوش ہورہے ہیں کہ آز ادی کے نام پر مفت میں تماشہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اب کیا سب عورتیں ناچ ناچ کر برابری کا حق مانگیں گی ۔ہر کوئی ڈسکو دیوانی بن جائے اور کہے کہ اپنی اپنی ڈفلی بجائے جا ۔کوئی ڈھنگ ہوتا ہے کوئی اصلاح ہوتی ہے ۔یہ تو غلیظ سوچ رکھنی والی مجرمانہ مردانہ سوچ کو ہوا دینے والی حرکتیں ہیں ۔۔کیا ہر آٹھ مارچ پر عجب بے ہنگم نمائشی جنگ چھیڑی جائے اور شہر والوں کو ورغلایا جائے ۔۔عجیب شور مچاتا ہوا ہجوم ہے جس میں نہ کوئی نیکی اور نہ کوئی بدی کی صورت حال ہے ۔۔ایک طرف خود نفسیاتی مریضاوں جیسے ہسڑیا والے نعرے بائی پولر ڈس آڈر والوں جیسے روئیے اور دوسری طرف عجیب سے حلیے ۔۔۔کیا تماشہ ہے ۔عورت کا حق عزت احساس محبت اور تحفظ ہے اس پر ذومعنویت دھرنے اور فحش سا پاگل بننے کی بجائے آسان زبان میں سمجھائیے۔۔۔ بچیوں لڑکیوں ۔خواتین کے لیے تعلیمی مواقع ۔روزگار کے مسائل صحت کے مسائل گھر چادر چار دیواری ۔صنفی امتیاز ۔وراثت کا حق ۔جہیز کی تکرار خود کشی ۔اولاد پیدا کرنے کا حق ۔۔۔ماں کی بے بسی کمزور صحت ۔۔۔۔درس گاہوں سکول و کالج اور یونیورسٹیوں میں خواتین کے ہاسٹل قیام کی سہولیات دا رالامان ۔۔تحفظ ملازمت میں اسحتصالی روئیے ۔ہراسمنٹ کا خاتمہ ۔۔۔ٹرانس پورٹ کی سہولت ۔۔۔سکول کالج اور یونیورسٹیوں میں صنفی نصابی آگاہی گھریلو سطح پرصنفی شعور ۔۔ازدواجیات و سماجیات کم سن ملازماں کے معاشی و جسمانی استحصال ۔۔اور ان پر پابندی گاوں کی عورت کی ان تھک محنت اور معاشی جدوجہد کا اعتراف اور انعام و ایوارڈ کی فراہمی ۔کیا ان سب مسائل کا حل ہاف سلیوز اور جینز میں ہے اور شور و غوغا مچانے میں ہے پہنیے شوق سے پہنیے مگر پھر بھی ان دیکھی اور ان سنی رہیں تو کیا کیجیے گا ۔۔کیا خیال ہے کہ آخر میں یہ کیوں نہ لکھوں۔۔۔۔تماشہ خرید لانے سے پہلے ذرا سوچئیے عورت اگر عورت کے دکھ کو سمجھ جائے اور خود عورت ۔اپنے ہر روپ میں ۔عورت سے دشمنی چھوڑ دے تو بیشتر ظالم مردسدھر جائیں گے ۔۔۔اور نہ سدھریں تو حشر اٹھایا جائے ۔۔۔نیا خاک دان بنایا جائے نئی ۔۔جائے امان ڈھونڈی جائے۔