Tuesday, April 16, 2024
ہومکالم وبلاگزاقبال شناسی میں اقبال اکیڈمی پاکستان کا بے مثال کردار

اقبال شناسی میں اقبال اکیڈمی پاکستان کا بے مثال کردار

مملکت خداداد پاکستان کو جہاں قدرت نے بے شمار قدرتی و معدنی وسائل سے نواز رکھا ہے وہیں اس وطن کو ایسے ہنرمند،تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ،ادیب،شاعر،ماہرین تعلیم اور دانشور عطا کئے جنہوں نے اپنے اپنے میدان میں فن و ہنر کے ذریعے خود کو اقبال کا حقیقی وارث اور شاہین ثابت کیا ہے۔انہی شخصیات میں سے ایک قدآور نام پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کا ہے جنہیں قدرت نے بیش بہا علمی و فکری اوصاف سے متصف کیا ہے۔آپ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ رہیں اور پھر گزشتہ سال قبال اکیڈمی لاہور کے ڈائریکٹر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ پنجاب یونیورسٹی کی ممتاز مسند :اقبال اسٹڈیز چیئر:پر بھی فائز رہیں۔ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے قلم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا اور اپنی تحریروں کے ذریعے نوجوان نسل کو اقبال شناسی سے جوڑے رکھا۔آپ نے متعدد کتب لکھیں جن میں افکار اقبال کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اردو ادب کو بھی اپنا موضوع بنایا۔آپ کی شاہکار تصانیف میں محسناتِ شعر اقبال،مقالہ ارمغان حجاز،تضمینات اقبال،زیب داستاں(ایرانی افسانوں کے تراجم)، نیپالی کہانیاں(ہندی سے تراجم)،گنجینہ غالب ،بیتال سچپیسی٠ترتیب و تفہیم)، سنگھاسن بتیسی( ترتیب و تفہیم)،اقبال،وجود زن اور تصویر کائنات شامل ہیں۔گزشتہ دنوں اقبال اکیڈمی کی جانب سے فکر اقبال کو اجاگر کرنے کیلئے علامہ اقبال کے تعلیمی افکار اور نسل نوکے عنوان سے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں مقالہ پیش کرنے کیلئے دعوت موصول ہوئی۔کانفرنس اکیس،بائیس اپریل ٢٠٢١ء کو ایوان اقبال لاہور میں منعقد ہوگی جس میں ملک کے نامور محققین،سکالرز،بیرون ملک سے اقبال کی فکر سے وابستہ اہل علم ودانش اپنے تحقیقی مقالات پیش کریں گے۔اسی دوران ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی ڈاکٹر بصیرہ عنبرین سے شناسائی ہوئی تو سوچا کہ اتنے بڑے علمی کام کو نوجوان نسل تک پہنچانے کیلئے اپنا قلمی و صحافتی کردار ادا کروں۔ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کے خیالات اور افکار کے چند گوشے فکر اقبال کے حوالے سے قارئین کی نذر کرتا ہوں ۔ڈاکٹر بصیرہ عنبرین اقبال کے شاہین کے متعلق کہتی ہیں کہ۔
،،اقبال کی شاعری میں تصورشاہین خاص اہمیت کا حامل ہے وہ امت مسلمہ کے ہر نوجوان میں شاہینی صفات دیکھنے کے متمنی ہیں۔ ایسا شاہین جس کی پرواز آسمان کی وسعتوں کو چیر دے۔ جو مشرق سے مغرب تک کے آسمانوں پر اپنی بادشاہت قائم کرے۔ جو اپنے لیئے جہان تازہ کی تلاش کرے اس کے افکار تازہ کی نمو کرے۔آج کچھ لوگ یاس کا شکار نظر آتے ہیں، ان کو آسمان پر گدھوں کے پروں کی آواز تو سنائی دیتی ہے لیکن وہ شاہینوں کو شاید دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ اقبال کے شاہین ہی تھے جنہوں نے حصول پاکستان کے لیئے گھر گھر روشنیوں کے چراغ روشن کئے اور وقت آنے پر اپنی جانوں کے نذرانے دے کر پاکستان کی صورت میں آزاد فضاؤں کو آنے والی نسلوں کا نصیب بنا دیا۔ وہ اقبال ہی کے شاہین تھے جنہوں نے 1948 میںہندو بنئے کی پہلی چال کو ہی ناکام بنا دیا۔ وہ بھی اقبال ہی کے شاہین تھے جنہوں نے 1965 میں عیار ہمسائے کے حملے کو اس طور ناکام بنا دیا کہ دشمن کے دانت کھٹے کر دیئے اور وہ دشمن جو کہ چند گھنٹوں میں لاھور کو فتح کرنے کا خواب آنکھوں میں سجاکر آیا تھا اس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اور ان شاہینوں نے پاکستان کی فضاؤں کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ دیا یہیں پر دشمن فوج کے سامنے ڈھال بن گئے۔ اور مکار بنیئے کو ایک بار پھر منہ کی کھانے پر مجبور کر دیا۔ اور دسمبر 1971 کے سورج نے یہ منظر بھی دیکھا کہ اقبال کے 90 ہزار شاہینوں کو مکار دشمن نے سازش کے جال میں الجھا لیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا المناک لمحہ تھا جب ان جانبازوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا لیکن ان شاہینوں کے سر تنے رہے اور جب یہ شاہین آزاد فضاؤں میں لوٹے تو انکی تندی اور تیزی کئی گنا بڑھ چکی تھی اور وہ پھر سے نئے عزم کے ساتھ پاک فضاؤں کی نگہبانی کے لیئے محو پرواز ہو گئے،،۔ڈاکٹر بصیرہ کے نزدیک جذبہ شہادت افواج پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ۔
،،١٩٩٨ء میں ایک بار پھر اقبال کے یہ شاہین اس وقت فضاؤں میں اترے جب عیار دشمن نے ایٹمی دھماکے کرکے پاک فضاؤں ہر خوف کے بادل مسلط کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن اس موقع پر بھی اقبال کے شاہینوں نے ثابت کر دیا کہ وہ وطن کے دفاع سے غافل نہیں۔ چاغی کی فضائیں شاہینوں کے نعروں سے گونج اٹھیں اور یہ گونج مشرق سے مغرب تک کی فضاؤں کوچیرتی لی کئی۔ امت مسلمہ کے شاہینوں کی بلند پروازی اور دور اندیشی کے نتیجہ میں پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بن کر ابھرا گویا علامہ اقبال نے امت مسلمہ کے نوجوانوں کو جو پیغام دیا وہ خاص طور سے بر صغیر کے مسلمانوں کے لیئے حیات آفرین ثابت ہوا –اقبال کے شاہین دور حاضر میں جب عسکری محاذ پر قدم رکھتے ہیں تو افواج پاکستان کی صورت میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے ناسور کے بتوں کو پاش پاش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ہائبرڈ وارفیئر کے میدان میں دشمن کے حربوں کو خاک میں ملاتے نظر آتے ہیں۔ستائیس فروری دوہزار انیس کو بھارتی طیاروں کی تباہی اور پائلٹ کی واپسی بھی افواج پاکستان کا کارنامہ ہے؛؛۔ڈاکٹر بصیرہ کے نزدیک فکر اقبال کی روشنی میں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب یہ ہیں۔
،،علامہ اقبال نے مشرق و مغرب کے علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ خاص طور سے مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کے زوال کی اہم وجہ ان کی بیعملی ہےـ اب نہ ان میں پہلی جیسی حرارت رہی ہے اور نہ ہی ان کی پرواز بلند ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان میں وہی جذبہ بیدار کیا جائے جو ان کو ثریا تک لے گیا تھا۔اس کے لیے اقبال ایک اللہ کے حضوراپنی آرزو کا اظہار کرتے ہیں کہ جو نورِ بصیرت ان کے پاس ہے وہی امتِ مسلمہ کے نوجوانوں میں عام ہوجائے اور ان شاہینوں کو پھر سے وہی بال و پر عطا ہو جائیں جو ان کو پھر سے اوج پر لے جائیں،،۔
نوجوانوں کو میری آہِ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو ہال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے
ڈاکٹر بصیرہ کے بقول ،،علامہ اقبال نے انہی خصوصیات کو مرد مومن کی صفات بھی کہا ہے اسی لیے آپ امت مسلمہ کے ہر جوان میں ان خصوصیات کو دیکھنے کے متمنی تھے۔ آپ نے ہی قوم کے نوجوان کو شاہین کا تصور دیا جو غیرت و خودداری، بلند حوصلے،جہد مسلسل، دور اندیشی اور تیز نگاہی سے آسمانوں کی وسعتوں کو چیر دیں اور اپنے لیے جہان تازہ تلاش کریں۔ ا ور ایسا ہی ہواجب پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا۔لیکن سلام ہے وطن عزیز کے ان شاہینوں کوجن کے حوصلے?ہمت?خوداری ?دوربینی اور خلوت پسندی اقبال کے شاہین سے بھی بڑ ھ کر ہے۔یہن تو ہے جو پاک سر زمین کے ہر گھر کاچراغ روشن رکھنے کے لیے اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں۔آزاد فضاوں کی حفاظت کے لیے ان کی تندی اور تیزی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔دھرتی ماں کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔جبکہ دشمن کے ناپاک ارادوںکی تکمیل سے پہلے ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔سمندری طوفان ہو یا پھر برفانی چوٹیاں کھبی بھی اور کہیں بھی ان کے ارادے متزلزل نہیں ہوتے ا ور نہ ہی قدم ڈکمگاتے ہیں۔اسلیے کہہ ان شاہینوں کی پرواز انتہا غازی بننے پر ہے یا پھر شہادت پر،،۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
اقبال کے شاہین کے بارے میں ڈاکٹر بسیرہ کا کہنا تھا کہ ،،فکرِ اقبال کی روشنی میں اقبال کا شاہین ان تمام اوصاف و کردار کا مظہر ہے جو شاہین کی بلند پرواز اور عزم و ارادے میںپائی جاتی ہیں۔اقبال کا شاہین اس وقت افواجِ پاکستان کے بہادر شاہینوں کی صورت میں سیاچن کے برف پوش پہاڑوں پر مادرِ وطن کے دفاع میں مصروف ہیں۔اقبال کا شاہین دہشتگردی اور انتہاپسندی کے زہریلے ناگ کو کچلنے کیلئے آپریشن راہ حق سے راہ نجات تک اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہا ہے۔اقبال کا شاہین ملک سے فساد کے خاتمے کیلئے آپریشن رد الفساد میں محو جہاد ہے۔اقبال کے شاہین اس وقت تعلیم کے میدان میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔اقبال کے شاہین ملک پاکستان کی ایک مضبوط اور مستحکم افرادی قوت کے طور پر ابھر رہے ہیں ۔اقبال کے شاہین کھیل کے میدان میں روایتی
حریف کو ناکوں چنے چبھوانے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔اقبال کے شاہین اپنی جرات و بہادری کے باعث نشان ِ حیدر سے متصف نظر آتے ہیں۔اقبال کا شاہین ادب میں اشفاق احمد،احمد ندیم قاسمی،شاعری میںپروین شاکر،امجد اسلام امجد،تعلیم میں ڈاکٹر عطاء الرحمان ،کھیل میں شاہد آفریدی،جان شیر خان،جہانگیر خان کی صورت میں سبز ہلالی پرچم سربلند کرتا دکھائی دیتا ہے۔اقبال کا شاہین اس عزم کے ساتھ ملکی وقار اور شان میں اضافے کا خواہاں ہے کہ،،۔
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا
اللہ ہمیں فکرِ اقبال کی روشنی میں شاہین کی بلند پرواز اور ہمت عطا فرمائے اور اقبال اکیڈمی کو مزید ہمت اور استقامت عطا فرمائے تاکہ اقبال کی فکر کی روشنی میں پاکستان ایک پرامن، خوشحال اور باوقار ملک بن سکے آمین۔