Monday, April 22, 2024
ہومکالم وبلاگزفاروق انصاری اور ان کے ملتان کی باتیں

فاروق انصاری اور ان کے ملتان کی باتیں

فاروق انصاری صاحب کو ہم سے بچھڑے ایک برس بیت گیا ۔ گزشتہ برس تین مارچ کو ہو وہ ہستی ہم سے جدا ہوئی اور اگلے روز ملتان کی مٹی میں آسودہ ہوگئی وہ ہستی جس کا خمیر اسی مٹی سے اٹھا تھا۔جس نے اسی ملتان کی مٹی میں کھیلتے ہوئے اپنا بچپن گزارا۔ اس کی گلیوں میں اس کی جوانی کے دن بیتے۔ جسے اس شہر کی گلیوں،محلوں ،بازاروں ،فنکاروں ،یہاں بسنے والی قوموں اور ان کے آباواجداد کے بارے میں اتنا کچھ معلوم تھا کہ جب وہ ہستی بات کرتی تھی تو ہم مبہوت ہوکر سنتے تھے۔ جب وہ دھیمے لہجے میں بولتے تھے تو گویا ملتان بولتاتھا۔یہاں کے تھیٹرکیسے تھے؟ یہاں سینما ہاس کب بنے اور کیسے ختم ہوئے؟ یہاں کے مندر کیسے تھے؟ یہاں کی مساجد کیسے تعمیر ہوئیں،کب آباد ہوئیں اور ان میں سے کون سی مسجدیں معدوم ہوگئیں ؟ملتان میں قیام پاکستان کا اعلان کیسے سنا گیا اوریہاں ہندو مسلم فسادات میں کس نے کسے نشانہ بنایا؟ظالم صرف ہندو تھے یا مسلمانوں نے بھی ظلم ڈھائے؟ وہ ان تمام موضوعات پر بے تکان گفتگو کرتے تھے۔کسی لگی لپٹی کے بغیر بلا جھجھک پورا سچ بولتے تھے۔ ایسا سچ کہ جسے شائع یا نشر کرنا بھی ہمارے لیے ممکن نہیں ہوتاتھا۔بدھ چارمارچ 2020کی صبح ہم نے ملتان کی زندہ تاریخ کو خداحافظ کہا۔ ملتان کے 91برسوں کے عینی شاہد ،ملتان کے رسم و رواج اور خوبصورتیوں کو قلمبند کرنے والے ” میرے زمانے کا ملتان ” کے مصنف فاروق انصاری ہمیشہ کے لیے ہمارے زمانے کے ملتان کی مٹی کے سپرد کردیئے گئے۔
فاروق انصاری صاحب کے ساتھ ہمارا پہلا تعارف حامد رضا کی معرفت اس زمانے میں ہوا جب ہم روزنامہ نیا دن کے ساتھ منسلک تھے۔یہ 1990کے بعد کا زمانہ تھا۔ حامد رضا ملتان ایئرپورٹ کی کنٹین پر موجودہوتے تھے جس کا ٹھیکہ ان کے والد صاحب کے پاس تھا۔اسی کینٹین پر ایک سرخ وسفید خوبصورت بزرگ سر پر کلاہ والی پگڑی کے ساتھ موجودہوتے تھے جو مسکراتے ہوئے ہمارا خیرمقدم کرتے تھے ۔فاروق صاحب 1989میں سول ایوی ایشن سے ریٹائرمنٹ کے بعد حامد کے والد صاحب کی خواہش پر کچھ دیر کے لیے کینٹین کی نگرانی کرتے تھے۔کینٹین پر ہماری آمد ورفت اسی وقت ہوتی تھی جب ہم احمد فراز ،رضا علی عابدی یا مستنصر حسین تارڑ کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر جاتے تھے اور ان کی آ مد کے فورا بعد چائے کا پہلا کپ فاروق انصاری صاحب کی رفاقت میں پیتے تھے۔2000میں ہم روزنامہ “نیا دن” سے منسلک ہوئے تو فاروق انصاری صاحب نے ہمیں معروف شاعر اوربیوروکریٹ اسد ملتانی کے خطوط اور یادوں کے حوالے سے ایک طویل مضمون ادبی ایڈیشن کے لیے دیا۔ اس کی علاوہ اسد ملتانی صاحب کے یاد گار خط بھی عطا کیے جو پہلی بارروزنامہ” نیادن ” میں شائع ہوئے۔ اسد ملتانی کے بارے میں ان کا مضمون ہم نے انیس مارچ 2001 کو اخبار کے پورے صفحے پر چھاپا تھا۔ وہ کسی بھی اخباریا جریدے کے لئے فاروق انصاری صاحب کی پہلی تحریر تھی۔ اس مضمون کے ساتھ اسد ملتانی کا ایک خط بھی شائع کیاگیا جو انہوں نے 6اکتوبر1946کو 91ٹیگورروڈ ،نئی دہلی سے فاروق انصاری کے والد رب نوازانصاری کوارسال کیاتھا۔اسد ملتانی ، فاروق انصاری کے والد کے قریبی دوست تھے۔ فاروق انصاری نے بچپن اور لڑکپن میں اسد ملتانی اور ان کے ہم عصر شعراکو اپنے والد کے ہمراہ دیکھا۔ اسد ملتانی کے جوچند نادر خطوط ان کے پاس موجود تھے انہی خطوط کی اشاعت انہیں ادب کے میدان میں لے آئی ۔
جو خط ہم نے شائع کیا اس میں اسد ملتانی نے لکھاتھا “یہ معلوم کرکے تسلی ہوئی کہ عزیزی فاروق ٹیسٹ میں بھی پاس ہوگیا ہے اور انٹرویو کی فہرست میں بھی اس کانام آگیا ہے۔ جب انٹرویو میں شامل ہونے والے 105طلبا میں سے 60لیے جانے ہیں اور 105میں صرف 35پاس شدہ ہیں تو گمان غالب یہ ہے کہ 35تو ضرورلے لیے جائیں گے اورباقی میں سے 25اور بھی۔ان حالات میں عزیز کی کامیابی کی بہت امید ہے”۔ شاید اسی ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد فاروق انصاری صاحب نے سول ایوی ایشن میں اس ملازمت کا آغاز کیا جہاں سے وہ 1989میں ریٹائرہوئے۔
اسد ملتانی کی یادوں کے حو الے سے اس مضمون میں بعض واقعات ایسے بھی تھے جوپہلی بارمنظرعام پرآرہے تھے۔ مضمون میں اتنی بہت سے معلومات اورایسی روانی تھی کہ ہم نے ان سے گزارش کی کہ وہ ہمارے اخبارکے لئے روزانہ نہ سہی ہفتہ وارکالم ضرور لکھیں۔اس کے بعدانصاری صاحب نے”یاد ماضی” کے نام سے روزنامہ نیا دن میں کالم لکھنا شروع کیا ۔ اس طرح ان کے قلمی سفرکا آغازہوگیا۔ فاروق انصاری صاحب کا اصل نام فاروق اخترنواز انصاری تھا۔وہ دس جون 1929کو ملتان میں پیدا ہوئے۔انصاری صاحب نے ملتان میں ہی تعلیم حاصل کی۔بی ایس سی کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی میں کمیونیکیشن آفیسرکی حیثیت سے تعینات ہوئے۔ملتان ،کراچی سمیت مختلف ایئرپورٹس پرفرائض انجام دیئے۔انصاری صاحب کی قلم کے ساتھ وابستگی بچپن ہی سے تھی۔
انہوں نے سکول کے زمانے میں قلمی سفر کاآغاز کیا۔ جب ساتویں جماعت میں تھے تو بچوں کے رسالے پھول میں کہانیاں لکھاکرتے تھے۔ اسی رسالے میں بین الاقوامی شہرت یافتہ افسانہ نگار اور ناول نگار قر العین حیدر بھی لکھتی تھیں جو اس زمانے میں دسویں جماعت کی طالبہ تھیں۔دوران ملازمت ان کے قلم کاسفر جاری نہ رہ سکا۔ لیکن جب روزنامہ نیا دن میں انہوں نے ” یادماضی” کے عنوان سے اپنی یادیں لکھنا شروع کیں تو گویا ماضی کا ایک پورا جہان آباد ہوگیا جوبعدازاں ” میرے زمانے کاملتان” کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔صرف یہی نہیں انہوں نے اپنے کالموں کوبھی کتاب کی شکل دی۔ اس کے علاوہ ” ظفرے ” کے نام سے حقیقت پر مبنی افسانوی تحریربھی قلمبند کی۔اپنے خاندان پر تحقیق ” تلاش شجر” کے نام سے منظرعام پرلائے تو اس کی وساطت سے ملتان میں آباد اور بہت سے خاندانوں کی تاریخ بھی محفوظ ہوگئی۔سول ایوی ایشن میں ملازمت کے دوران انہیں پاکستان کے تمام ایئرپورٹس پرملازمت کاموقع ملا اور انہوں ہوائی اڈوں کی تاریخ “ایئرپورٹ” کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی جبکہ آخری عمر میں انہوں نے قرآن پاک کی بعض سورتوں کے ترجمے اورتشریح پر مبنی کتابیں بھی لکھیں۔
“میرے زمانے کے ملتان” میں فاروق انصاری صاحب نے اپنے زمانے کے رسوم و رواج ، عمارتوں ، پہناووں، مکانوں اور شخصیات کا بہت تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ بلا شبہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ کتاب دستاویز کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ وہ کام جو ملتان کے مستند ادیبوں کو کرنا چاہیے تھا ایک ایسے شخص کے ہاتھوں انجام پایا ہے جو ادیب ہونے کا دعوی بھی نہیں کرتا تھا۔
فاروق انصاری صاحب کے ساتھ تسلسل کے ساتھ ملاقاتیں 2010کے بعدشروع ہوئیں جب ہم نے ملتان آرٹس کونسل میں ادبی بیٹھک کا اجرا کیا۔ انصاری صاحب آرٹس کونسل کے ساتھ والی گلی میں رہتے تھے ۔انہوں نے باقاعدگی کے ساتھ اس بیٹھک میں آنا شروع کیا اوریوں وہ اس بیٹھک کے شرکاکے لیے شجرِسایہ دار کی حیثیت اختیار کرگئے۔وہ لاٹھی ٹیکتے ہوئے آرام آرام سے چلتے ہوئے ہرہفتے ادبی بیٹھک میں آتے ۔کبھی ہم ان کی صدارت کرواتے۔ کبھی ان کے لیکچر کا اہتمام کرتے۔ وہ اس بیٹھک کا ایسا حصہ بنے کہ ہم ان کے بغیر اس بیٹھک کو نامکمل سمجھتے تھے۔ وہ ادبی بیٹھک کی خوبصورتی تھے۔ان کی وجہ سے اس بیٹھک کا وقارتھا۔بیٹھک کے سبھی شرکاتاخیر کا شکارہوتے لیکن ہمیں معلوم ہوتاتھا کہ اگر کوئی بھی نہ آیا تو فاروق انصاری صاحب وقت پرضرور تشریف لے آئیں گے۔یہ سلسلہ چند وقفوں کے ساتھ تسلسل کے ساتھ جاری رہا اور یہ وقفے بھی ان کی علالت کے باعث پیش آئے۔تین برس قبل فاروق انصاری صاحب کویکے بعد دیگرے دو صدموں کاسامنا کرناپڑا۔ ان کا جواں سال بیٹا اور اکلوتی بیٹی اس جہان سے رخصت ہوئے تو انصاری صاحب کی پیرانہ سالی جوبن پر آگئی ۔اس کے بعد ہم نے فاروق انصاری کو شہر کی کسی تقریب میں نہ دیکھا اور دیکھتے کیسے وہ ادبی بیٹھک کے سواکسی تقریب میں جاتے ہی کہاں تھے۔ ادبی بیٹھک میں ان کی آمدورفت ختم ہوئی تو انہیں مختلف عوارض نے آن گھیرا۔ آخری ایک سال انہوں نے بہت اذیت میں گزارا۔ تین مارچ کی شب یہ اذیت ختم ہوگئی۔ملتان اپنی چلتی پھرتی تاریخ سے محروم ہوگیا۔