Thursday, April 18, 2024
ہومتازہ ترینیکساں نصاب تعلیم کے نفاذ سے معاشرے میں توازن قائم ہو گا، صدر مملکت

یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ سے معاشرے میں توازن قائم ہو گا، صدر مملکت

اسلام آباد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی تجزیاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے، ملک میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ سے معاشرے میں توازن قائم ہو گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو انٹرمیڈیٹ امتحانات 2020 میں پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں میں ایوارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود ، پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ اکرم اور انٹربورڈ کمیٹی کے چیئرمین آئی بی سی سی کے اراکین نے شرکت کی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انٹرمیڈیٹ امتحان میں پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان طالب علموں نے اپنی محنت سے کورونا وبا کے باوجود یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم جو علم حاصل کرتا ہے اس کا تجزیہ کرنا ، سوچ و بیچار کرنا اور اس سے نتائج اخذ کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ میموری علم اور معلومات کا خزانہ ہوتی ہے تاہم ان معلومات کو بروئے کار لانا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے سائنسدانوں نے سوچ، تجزیہ اور منطق سے کامیابی حاصل کی۔ ارسطو اور سقراط کے زمانے سے منطق کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ ذہنی نیٹ ورک کے ذریعے اس کا تجزیہ کیاجا سکتا ہے، انسان کے لئے جسمانی مشق کے ساتھ ساتھ ذہنی مشق بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جدید ٹیکنالوجی کادور دورہ ہے ۔ جدت پر مبنی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 2 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، ان بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے غریب خاندانوں کو احساس پروگرام کے ذریعے مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ بنگلہ دیش جیسے ملک میں 98 فیصد بچے پرائمری سکول جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ کے حالیہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں طالبات نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، طلبا کو بھی اسی طرح بڑھ چڑھ کر اپنی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کووزارت تعلیم نے تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے یکساں نصاب تعلیم وضع کیا ہے، یکساں نصاب تعلیم سے نواز ن پیدا کیا جا سکتاہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ تعلیمی نظام کو معروضی انداز میں مقداری بنایا گیا ہے۔ ٹیچر ٹریننگ پروگرام کے اہتمام پر توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل اثاثہ تیل نہیں بلکہ تعلیم اور ذہانت ہے، ہمیں اپنے نوجوانوں کی تعلیمی صلاحیتوںکو اجاگر کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ چند سال قبل تیل کی کمپنیاں دنیا میں 10 بڑی کمپنیوں میں شامل تھیں تاہم اب ان بڑی کمپنیوں میں گوگل اور فیس بک جیسی ذہنی اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے والی کمپنیاں ہیں، چند لوگ مل کر ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹس اور سائنس دونوں شعبوں پر توجہ دینی چاہیے۔ یکساں تعلیمی نصاب سے چند سال میں قوم بدلے گی، محنت سے معاشرے ترقی کرتے ہیں۔ غربت کے خاتمہ سے نئے پاکستان کی تشکیل ممکن ہو گی۔ غربت کے خاتمہ کے لئے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صدر نے کہاکہ ماضی میں ذہین ، تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ افراد ملک چھوڑ کر بیرون ملک چلے جاتے تھے تاہم اب انہیں ملک میں روزگار کی دستیابی کے مواقع کی صورت میں باہر نہیں جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل درخشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ ، چوری اور کرپشن ملک کو گھن کی طرح کھاتا ہے، کرپشن کی دیمک اداروں اور ملک کو چاٹ رہی ہے، ان کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بے ایمانی سے دور رہیں اور حلال روزی کمائیں۔ تقریب سے وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پوزیشن حاصل کرنیوالے طالب علموں میں ایوارڈ تقسیم کئے۔