Erum Chaudhary 50

‏کچھ باتیں وزیراعظم عمران خان کی

ہردل عزیز لیڈرعمران خان
اصل نام عمران خان نیازی
ان کی پیدائش لاہور 1952،5اکتوبر کو نیازی پشتون خاندان میں ہوئی عمران خان کی پیدائش تین بہنوں کے بعد ہوئی علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی تینوں اپنے اپنے شبعہ زندگی میں بہترین اور کامیاب انسان ہیں عمران خان کے والد انجینئر اکرام اللہ خان نیازی جو انتہائی حلیم طبیعت کے مالک اور مہذب انسان تھے
عمران خان کی ابتدائی تعلیم ایچیسن کالج لاہور پھر رائل گرائمر اسکول ویلسٹڑ انگلینڈ اور پھر بعد میں کیبل کالج آکسفورڈ میں ہوئی عمران خان نے نوجوانی میں کرکٹ کھیلنا شروع کر دی جب انکی عمر لگ بھگ 13 سال تھی
وہ ایک مایہ ناز کرکٹر اور پاکستان کو واحد ورلڈ کپ جیت کر لانے والی ٹیم کے کپتان تھے وہ دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی اور لاکھوں نہیں کروڑوں دلوں پر راج کیا ان کے جیسا مضبوط اعصاب والا کپتان پھر کبھی پاکستان کرکٹ ٹیم کو میسر نہیں ہوا
عمران خان جب میدان میں اترتے تو ہر طرف پاکستان زندہ باد کے نعروں کی گونج کا شور سنائی دیتا حریف ٹیموں کے کھلاڑی بھی عمران خان کی ہمت اور جذبے کے مداح تھے عمران خان آخری بال تک لڑنے کا عزم لیے اپنی ٹیم کے ساتھ میدان میں اترتے تو مخالف ٹیم کے پسینے چھوٹ جاتے
ورلڈ کپ جیت کر قوم کو کبھی نہ ختم ہونے والی خوشی سے سرشار کر کے ریٹائرمنٹ لے کر خدمت خلق کا عزم لیے گلی گلی نگر نگر ایک عام آدمی کی طرح فنڈ ریزنگ کرنے لگ گیا دل میں والدہ کی کینسر جیسے موزی مرض کے باعث تکلیف دہ موت کا درد لیے شہروں،گاؤں دیہات اور بیرون ممالک بھی دامن پھیلانے میں عار نہیں محسوس کی
اور بلآخرلاہور پاکستان میں 29 دسمبر 1994 شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ عمران احمد خان سیاست میں آنے سے قبل ایک کامیاب اور بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلاڑی رہے کھیل کے میدان سے سیاست کا سفر
25 اپریل 1996 پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی اور با قائدہ طور پر سیاست میں قدم رکھا سياست میں آنے کا مقصد معاشرے میں عام آدمی کے ساتھ نا انصافی اور وطن عزیز کے ساتھ حکمرانوں کا غیر منصفانہ رویہ رشوت خوری،عدالتی نظام میں حکومتی مداخلت اور عوام کو اپنے حق کے لئے بولنا سکھانا تھا
پہلا الیکشن اور بری طرح ناکامی کا سامنا اور ایک سیٹ ملی کبھی فوجی اقتدار کے خلاف جیل تو کبھی صاحب اقتدار کے خلاف الفاظ کی گولہ باری کے ساتھ جدو جہد جاری رکھی کسی نے طالبان خان کہا تو کسی نے یہودی ایجنٹ کے الزامات لگائے وہ 2002 تا 2007 اور پھر 2013 سے2018 تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن رہے
اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومت کو کڑے امتحان میں ڈالے رکھا عوام دوست پالیسیز لائے خیبر پختون خواہ میں بہترین اور تاریخ ساز ترقیاتی کام صحت اور تعلیم کے ساتھ پولیس کا عوام دوست رویہ عمران خان کو پختون قوم کے دلوں میں خاص مقام دیتا
پنجاب ،سندھ اور بلچستان کی عوام بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے شب و روز متحرک رہا اور پھر بلآخر نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن ماؤں بہنوں دعاؤں کی بدولت 2018 کا الیکشن جیت کر پاکستان کے بائیسویں اور موجودہ وزیر اعظم ہیں
عمران خان اب نہ صرف پاکستان بلکہ کشمیر کے ساتھ پوری مسلم امہ کے سفیر کے طور پر جانے جاتے ہیں یو این اے میں جس طرح کشمیر کا مقدمہ پیش کیا فلسطین کے علاوہ افغانستان کے لوگوں کی طرف توجہ مبذول کروائی پوری دنیا عمران خان کو تعریف کی نگاہ سے دیکھتی ہے اللہ کرے کہ وہ دن جلد آئے جب کشمیر آزاد خود مختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہو اور عمران خان پاکستان کے وزیرِ اعظم ہوں اتنی بڑی شخصیت کو چند پہروں کی تحریر میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں لیکن باحثیت عمران خان کی مداح چھوٹی سی کوشش ضرور کی ہے اپنے لیڈر کے لئے اپنے جذبات لکھنے کی
اللہ تبارک وتعالیٰ سے التجاء ہے عمران خان کو صحت اور سلامتی والی زندگی دے اور دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں