471

تاریخ اسلام اور اسرائیلی وزیراعظم

ٰ‏تحریر: سجاد حسین قمر
‎@SajjadHQamar
1973 میں عرب اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے سائے گہرے ہوچکے تھے۔ ایک دن امریکی اسلحہ کمیٹی کا سربراہ اسرائیل آیا۔ دفتر کا وقت ختم ہوچکا تھا لہذا وزیراعظم گولڈامیئر سے گھر پر ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ وزیراعظم مہمان کو اپنے باورچی خانے لے گئی انہیں کرسی پر بیٹھایا اور خود چائے بنانے لگی۔ اس دوران طیاروں، میزائلوں اور توپوں کے سودے کی بات چیت ہوتی رہی۔ چائے تیار ہوئی تو ایک پیالی مہمان کو پیش کی، دوسری اپنے سامنے رکھی اور تیسری دروازے پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما آئی۔ چائے پینے کے دوران امریکہ سے اسلحے کی خریداری کی شرائط طے پائیں۔ گولڈامیئر نے مہمان سے ہاتھ ملانے سے قبل پیالیاں سمیٹیں اور دھو کر الماری میں رکھتے ہوئے کہا “ ہمیں سودا منظور ہے “۔
گولڈامیئر نے اگلے دن معاہدے کی تفصیلات کابینہ کے سامنے رکھی جس نے سودا مسترد کردیا۔ کابینہ کا موقف تھا کہ ان کا ملک بحران کا شکار ہے، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک بار کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ گولڈامیئر نے اپنی کابینہ کے فیصلے سے اتفاق کیا لیکن بحث سمیٹتے ہوئے باور کرایا “اگر ہم جنگ جیت گئے تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دے گی۔ جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دے ڈالے تو بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنا فاقہ کشی، دن میں کتنی بار کھانا کھایا، اس کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا تلواروں کے نیام پھٹے ہوئے تھے۔ فاتح صرف فاتح ہوتا ہے”۔
گولڈامیئر کے دلائل کے سامنے کابینہ نے ہتھیار ڈال دیے اور امریکہ کے ساتھ ہتھیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پا گیا۔ پھر اسی اسلحے سے اسرائیل نے عربوں کو شکست دی۔ جنگ کے کافی عرصے بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈامیئر کا انٹرویو کیا۔ سوال پوچھا کہ “امریکی اسلحہ کی خریداری کے لیے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی وہ فوراً ذہن میں آئی یا پہلے سے طے شدہ حکمتِ عملی تھی؟”
گولڈامیئر نے چونکا دینے والا جواب دیا میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں یعنی مسلمانوں کی نبی ﷺ سے لیا ہے۔ میں نے زمانہ طالب علمی میں محمدﷺ کی سوانح حیات پڑھی تھی۔ جب ان کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں چراغ کے لیے تیل خریدنے کی رقم نہیں تھی، ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ ؓ ) نے آپ ﷺ کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا۔ لیکن اس وقت بھی محمد ﷺ کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھی۔ یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت جانتے ہوں گے۔ لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، مسلمانوں کی طرح پختہ مکانوں کے بجائے خیموں میں زندگی گزارنی پڑے تو بھی اسلحہ خریدیں گے اور مسلمانوں کی طرح فاتح کا اعزاز پائیں گے۔ ان مسلمانوں کی طرح جنہوں نے آدھی دنیا فتح کی لیکن آج یہ اپنی تاریخ بھلا چکے ہیں اسی لیے ابھی فتح کا ایک موقع موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں