Monday, April 22, 2024
ہوماسلام آبادتجارتی خسارہ باعث تشویش ، حکومت برآمدت کے فروغ پر توجہ دے، سردار یاسر الیاس خان

تجارتی خسارہ باعث تشویش ، حکومت برآمدت کے فروغ پر توجہ دے، سردار یاسر الیاس خان

اسلام آباد (آئی پی ایس )اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سال مارچ میں تجارتی خسارہ بڑھ کر68 2.9ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ گذشتہ سال مارچ میں یہ خسارہ 02 1.5ارب ڈالر تھا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 21ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ گذشتہ مالی سال کے اس عرصے میں یہ خسارہ تقریبا 17ارب ڈالر تھا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سے معیشت متعدد مشکلات کا شکار ہو گی اور ملک مزید قرضوں کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا، لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ تجارتی خسارے کے مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کیلئے حکومت برآمدات کے بہتر فروغ پر خصوصی توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارے میں اضافے سے ادائیگیوں کا توازن خراب ہو گا۔ روپے کی قدر مزید گرے گی، مہنگائی بڑھے گی، غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہو گا اور مجموعی معیشت مزید کمزور ہو گی لہذا حکومت تجارتی خسارے کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات کرے۔سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ تجارتی خسارے کو کم کرنے کا ایک بہتر حل برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے سے معیشت کیلئے متعدد فوائد حاصل ہوں گے کیونکہ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا، قرضوں کی واپسی کیلئے وسائل فراہم ہوں گے، روپے کی قدر مستحکم ہو گی اور ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کی زیادہ قیمتیں، کاروبار کیلئے بہتر انفراسٹریکچر کا فقدان، عالمی مارکیٹ میں بہتر رسائی کا فقدان اور حکومتی پالیسیوں میں عدم استحکام ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے برآمدات کا فروغ اصل صلاحیت سے بہت کم ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے کیلئے تمام مطلوبہ اقدامات اٹھائے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ برآمدات کو بہتر کرنے کے لئے حکومت کو آئی ٹی شعبے پر بہتر توجہ دینی چاہئے کیونکہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں آئی ٹی شعبے کی مصنوعات کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2020 میں ہندوستان کی آئی ٹی شعبے کی برآمدات کا تخمینہ 147ارب ڈالر تھا جبکہ مالی سال 2020-21 کے جولائی تا فروری کے دوران پاکستان کی آئی ٹی شعبے کی برآمدات صرف 1.298 ارب ڈالر تک پہنچ سکیں ہیں حالانکہ اگر حکومت تعاون کرے تو اس شعبے کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صنعتی شعبے کو ویلیو ایڈیڈ مصنوعات تیار کرنے کیلئے بھی ہر ممکن تعاون فراہم کرے جس سے ہماری برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا۔ چیمبر کی سینئر نائب صدر فاطمہ عظیم اور نائب صدر عبد الرحمن خان نے کہا کہ ایس ایم ایز ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ برآمدات میں ان کا حصہ تقریبا 25 فیصد تک ہے۔ تاہم انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایس ایم ایز کو آسان قرضے فراہم کرنے کے لئے نئی پالیسیاں تشکیل دے تا کہ یہ کاروباری ادارے جدید مشینری و ٹیکنالوجی حاصل کر کے برآمدات کو بہتر کرنے میں مزید فعال کردار ادا کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نجی شعبے کی مشاورت سے معیشت کو بہتر کرنے کیلئے پالیسی اصلاحات پر توجہ دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات کیلئے نئی مارکیٹیں تلاش کرنے میں بھی حکومت نجی شعبے کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے جس سے برآمدات کو فروغ دینے اور ملک کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔