Thursday, April 18, 2024
ہومبریکنگ نیوزتمباکو ٹیکسیشن سماجی ترقی اور اقتصادی استحکام کے لیے عمل انگیزہے:محبوب الحق

تمباکو ٹیکسیشن سماجی ترقی اور اقتصادی استحکام کے لیے عمل انگیزہے:محبوب الحق

اسلام آباد (سب نیوز )غیر سرکاری تنظیم ہیومن ڈویلپمنٹ فاونڈیشن (ایچ ڈی ایف) کے زیر اہتمام تمباکو پر ٹیکس کے حوالے سے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے، محبوب الحق سی ای او ایچ ڈی ایف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے اور جان بچانے کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں اضافے کی اہم ضرورت ہے۔ 19.7 فیصد بالغ آبادی میں سے 31.9 ملین بالغ افراد تمباکو نوشی میں مبتلا ہیں۔

قوم کو صحت کے ایک اہم بحران کا سامنا ہے، تمباکو سے متعلقہ بیماریاں سالانہ 160,000 سے زیادہ جانیں لینے کا سبب بنتی ہیں، جو کہ ہر سال پاکستان کے جی ڈی پی کا 1.4 فیصد تمباکو نوشی سے متعلقہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کی وجہ سے ضا ئع ہو جاتا ہے۔ زاہد شفیق پروگرام مینیجر ایچ ڈی ایف نے کہا کہ 2024 میں تمباکو کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں اضافے کی تجویز سرکاری آمدنی اور معاشی استحکام کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ تمباکو سے منسلک صحت کے وسیع خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سفارشات میں پاکستان میں ایکسائز ڈیوٹی کو معقول بنانے، ٹیکس کی پالیسیوں کو بیرونی سطح کے ساتھ ہم آہنگ کرنے، اور ای سگریٹ اور نئی مصنوعات پر تمباکو کی مصنوعات کی طرح ٹیکس لگانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے کیونکہ صحت عامہ پر ان کے مساوی اثرات ہیں۔

ملک عمران کنٹری ڈائریکٹر سی ٹی ایف کے نے کہا کہ 2024 میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں متوقع 26.6 فیصد اضافہ تقریبا 517,000 افراد کو تمباکو نوشی سے روکنے کا، سگریٹ کے استعمال میں 5.8 فیصد کمی کا، کم بالغ افراد میں تمباکو نوشی کے پھیلا میں 0.31 فیصد اضافہ کا، اور 181,000 بالغ افراد کی جانیں بچانیں کا باغث بنے گا۔ ۔معاشی طور پر اس ٹیکس میں اضافہ 17 بلین روپیہ کی اضافی آمدنی پیدا کرے گا، جس میں سے 15.4 بلین روپیہ (ایف ای ڈی) اور 1.6 بلین روپیہ (جی ایس ٹی) شامل ہیں، جوکہ 12.1 فیصد اضافہ ہے، جو ضروری عوامی خدمات اور صحت کی دیکھ بھال کے اقدامات کو فنڈ دینے کے لیے اہم ہے۔

پاکستان میں تمباکو پر مجوزہ ٹیکس میں اضافہ تمباکو کے استعمال سے مرتب ہونے والے تباہ کن صحت اور معاشی نتائج کے اثرات کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ صحت عامہ اور مالیاتی تدبر کو ترجیح دے کر،حکومت اپنے شہریوں کے لیے صحت مند اور زیادہ خوشحال مستقبل کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ تمباکو کی لت سے نمٹنے اور زندگیاں بچانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کیفوریضرورتہے۔