Tuesday, April 16, 2024
ہومدنیاسعودی عرب میں شاہین کی نایاب نسلوں کی بقا کا پروگرام

سعودی عرب میں شاہین کی نایاب نسلوں کی بقا کا پروگرام

ریاض ،سعودی عرب کے فالکن کلپ نے ‘ھدد’ پروگرام پرعمل درآمد یقینی بناتے ہوئے شکرے اور پہاڑی شاہین کی نسل کی بقا کے لیے انہیں قدرتی ماحول فراہم کرنے کیلئے اہم اقدامات کیے ہیں۔ یہ دونوں ایسے پرندے ہیں جن کا عربوں کے ساتھ ایک قدیم تعلق ہے۔ یہاں تک کہ ان پرندوں کی پرورش اور انہیں شکار سمیت مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرنا عرب ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔سعودی عرب میںمقامی سطح پر شکرے اور پہاڑی شاہین کی آباد کاری کے لیے فالکن کلب کی طرف سے ایک پروگرام شروع کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد مملکت میں شاہین کی نایاب ہوتی نسل کو بچانا اور انہیں مناسب اور متوازن ماحول فراہم کرنا ہے۔شاہین جیسے پرندوں اور عرب باشندوں کا آپس میں زمانہ قدیم سے گہرا تعلق ہے۔ یہاں تک یہ تعلق عرب ثقافت اور کلچر کا حصہ بن گیا۔ شاہین کے ذریعے شکار آج کا نہیں بلکہ صدیوںپرانا طریقہ ہے۔چونکہ سعودی عرب جنگی حیات کے لیے موزوں متنوع اور وسیع قدرتی ماحول کا حامل ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پر شاہین اور دوسرے پرندوں کی نسلوں کی بقا کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب میں ‘شاہین کلب’ اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قومی مرکز برائے تحفظ جنگلی حیات، قدرتی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اسپیشل فورس جیسے ادارے نایاب ہونے والے پرندوں کی نسل بچانے کے لیے کام کررہے ہیں۔ حکومت نے مقامی سطح پر شاہین کو پکڑنے پر اس وقت پابندی لگائی جب ‘الوکری’ یعنی شکرے اور پہاڑی شاہین کی نسل میں غیرمعمولی کمی دیکھی گئی۔ حکومت نے شاہین کی ان دونوں اقسام کو بچانے کے لیے’ھدد’ پروگرام کا اطلاق کیا جس کا مقصد شکرے اور پہاڑی شاہین کی دوبارہ آباد کاری اور ان کی نسل کو پروان چڑھانا ہے۔شکرے کو مقامی سطح پر الوکری کہا جاتا ہے۔ عرب باشندے اس باز کو شکار کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ جزیر العرب میں یہ شاہین بہت زیادہ گرمی میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ شاہین کئی روز تک بھوکا اور پیاسا بھی رہ سکا۔ موسم سرما کے آغاز میں لوگ اس شاہین کو پکڑتے ہیں اور اسے قریبی پہاڑی علاقوں میں چھوڑا جاتا ہے۔جہاں تک پہاڑی شاہین کا تعلق ہے کہ تو وہ دنیا کا تیز ترین پرندہ ہے جو 320 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے۔ سعودی عرب میں اس کی 19 اقسام ہیں۔ جزیر العرب میں اس کی دو اہم اقسام ہیں۔ ایک پہاڑی اور دوسری سمندری کہلاتی ہے۔ سمندری شاہین سردیوں کے آغاز میں مختلف ممالک سے ھجرت کرکے عرب دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ پہاڑی شاہین گہری رنگت کا ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں اس کے شکار پرپابندی عاید ہے۔