Thursday, April 18, 2024
ہومپاکستانسینیٹ الیکشن ریفرنس کا فیصلہ جو بھی آیا کھلے دل سے تسلیم کریں گے، وزیر خارجہ

سینیٹ الیکشن ریفرنس کا فیصلہ جو بھی آیا کھلے دل سے تسلیم کریں گے، وزیر خارجہ

ملتان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس کا عدالتی فیصلہ جو بھی ہوگا اسے کھلے دل سے تسلیم کریں گے،سینیٹ انتخابات سے متعلق آئینی ترمیم کے لیے ہمارے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں ہے۔

ملتان میں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو سمجھتے کی ضرورت ہے کہ ہم سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ کی کوشش کیوں کر رہے ہیں، پورا پاکستان جانتا ہے سینیٹ کے انتخابات میں خرید و فروخت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات آپ کے سامنے ہوئے، اس میں منڈیاں لگ گئیں، زمینوں کے خریدار میدان میں اتر آئے انہوں نے ایم پی ایز کو خریدنے کی منڈی لگائی، عمران خان، تحریک انصاف نے اس کا نوٹس لیا کہ یہ روایت درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندگان اگر اپنا ووٹ بیچیں گے تو یہ عوام کے اعتماد کے سودے کے مترادف ہے، لوگ ان پر اعتماد کرکے ایک نظریے کے تحت چن کر ایک پارٹی کے پلیٹ فارم سے منتخب کرکے آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نوید قریشی، جاوید انصاری اور شاہ محمود قریشی اگر بلے کے نشان پر منتخب ہوکر آئے ہیں تو ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم بلے کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیں، مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی والے اپنے منتخب لوگوں کو ووٹ دیں لیکن یہ جو منڈی لگتی ہے اسے بند ہونا چاہیے، یہ تحریک انصاف کا موقف ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ صرف پی ٹی آئی کا موقف نہیں بلکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)کے میثاق جمہوریت کی شق 24 کا مطالعہ کریں تو اس میں لکھا ہے کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے، آج میرا مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے سوال ہے کہ جب آپ نے ایک لکھا ہوا معاہدہ کیا ہوا ہے اور آپ کے دستخط موجود ہیں اور آپ نے اوپن بیلٹ کی حامی بھری تو آپ اس سے فرار کیوں اختیار کر رہے ہیں، قوم یہ جاننا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پر بحث چلی کے اس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے جبکہ کچھ ماہرین نے کہا کہ آئینی ترمیم درکار نہیں ہے، تاہم وزیراعظم نے کہا کہ آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے، ہم وہاں چلے جاتے ہیں اور ان سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ آئین کی تشریح کرکے ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا آپ کی رائے میں اس پر آرٹیکل 226 کا نفاذ ہوتا ہے یا نہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کیس سن رہی ہے اور عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہم اسے کھلے دل سے تسلیم کریں گے۔ انہوں نے کہا میرا سوال ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)میثاق جمہوریت اور سینیٹ اجلاس میں قوم سے وعدہ کرتی ہے تو اب وہ اس سے منحرف کیوں ہورہی ہے، وہ منڈی کیوں لگانا چاہتے ہیں وہ لوگوں کے ضمیر کو کیوں خریدنا چاہتے ہیں وہ پارٹی کی طاقت کے مطابق ووٹوں کا استعمال کیوں نہیں ہونے دیتے، یہ ہمارا موقف ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے لیکن ہم نے ان کی بات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم آئینی ترمیم اسمبلی میں لے کر گئے ہیں اور کہا کہ یہ آپ کا مقف ہے اور اگر آئینی ترمیم درکار ہے تو آپ اپنے مقف کے مطابق ہمیں دو تہائی اکثریت دیں، اگر سپریم کورٹ فیصلہ کردیتی ہے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں، آپ ایسا کرنے دیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ تاہم بدقسمتی سے انہوں نے ایسا نہیں کرنے دیا، آج عمران خان کے بقول پوری قوم دیکھ لے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے کہ کون کرپٹ پریکٹسز کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور کون ہیں جو خریدو و فروخت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امتحان ہے، دوتہائی اکثریت ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہم نے گیند سپریم کورٹ اور عوام کی خدمت میں پیش کردی ہے۔لاپتہ کوہ پیمائوں کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ کے ٹو سر کرنے کے بعد واپسی پر کوہ پیمائوں سے رابطہ منقطع ہوا، سردموسم میں بھی کوہ پیماں کی تلاش میں ہماری فوج میدان میں ہے، خدا کرے کہ کوہ پیما خیریت سے ہوں، دعا کریں کہ اس حوالے سے کوئی خیر کی خبر آئے۔