Wednesday, April 24, 2024
ہومپاکستانایس ای سی پی کا کمشنر شوکت حسین ڈیٹا لے کر فرار

ایس ای سی پی کا کمشنر شوکت حسین ڈیٹا لے کر فرار

اسلام آباد ، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمشین آف پاکستان کے کمشنرشوکت حسین سخت لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، کمیشن میں اپنی تین سالہ مدت کے اختتام پر، سرکاری لیپ ٹاپ اور آئی فون ، جس میں حساس سرکاری معلومات موجود ہیں، ساتھ لے گئے ہیں۔ شوکت حسین کی کمشنر ایس ای سی پی کے عہدے کی مدت مارچ 26 کو ختم ہو چکی ہے۔ کمیشن کی انفارمیشن سکیورٹی کی پالیسی کے مطابق ادارے سے ملازمت چھوڑنے والے ملازم یا اپنی تین سالہ مدت مکمل کرنے والے کمشنر کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام سرکاری دستاویزات اور ایکوپمنٹ جیسے کہ لیپ ٹاپ اور کمشنر کو دئے گئے آئی پیڈ وغیرہ ادارے کو واپس جمع کروائیں ۔ ایس ای سی پی ایک حساس ادارہ ہے اور خصوصا کمشنر ایس ای سی پی کے پاس موجود لیپ ٹاپ میں کمیشن کو جمع کروائے جانے والا تمام حساس ڈیٹا، معلومات ، دستاویزات، تحقیقات، اپیلٹ بنچ میں زیر سماعت مقدمات کے فیصلوں کے مسودہ جات، ریگولیٹری پالیسیوں اور قوانین میں تجویز کردہ ترامیم کے مسودہ ے اور دیگر حساس نوعیت کی معلومات موجود ہوتی ہیں۔ ادارے کی پالیسی کے مطابق کمشنر کے عہدے کی مدت مکمل ہوتے ہی، کمشنر اپنا لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ ادارے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمہ کو واپس جمع کروا دیتے ہیں اور لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ کو مکمل طور پر فارمیٹ کر کے تمام ڈیٹا اور ریکارڈ ڈلیٹ کر دیا جاتا ہے۔ اگر کمشنر چاہے تو فارمٹ کردہ لیپ ٹاپ ادارے کو قیمت ادا کر کے خرید سکتا ہے۔ تاہم، کمشنر شوکت حسین اپنی تین سالہ مدت کے اختتام پر ادارے کا لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ ساتھ لے گئے ۔ بطور کمشنر ایس ای سی پی شوکت حسین کو کمیشن کے تمام حساس معلومات اور ڈیٹا و تحقیقات کے ریکارڈ تک رسائی حاصل تھی اور ان کے لیپ ٹاپ میں ادارے کی فیصلہ سازی، پالیسیوں اور اہم انکوائریاں اور تحقیقات کے مسودے موجود تھے۔یاد رہے کہ شوکت حسین عباسی کو ن لیگ حکومت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مارچ 2018 میں ایس ای سی پی میں کمشنر تعینات کیا تھا ۔ ن لیگ کی حکومت کی مدت مکمل ہونے سے اٹھارہ دن پہلے مئی 12 کو شوکت حسین کو چئیرمین ایس ای سی پی تعینات کر دیا گیا۔ شوکت حسین عباسی کو جنوری 2018 میں ہی ڈائریکٹر سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی ، یعنی شاہد خاقان عباسی کے دور حکومت میں چار ماہ کے دوران شوکت حسین عباسی کو ڈائریکٹر سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اور مارچ میں کمشنر اور پھر مئی میں چیئرمین ایس ای سی پی تعینات کر دیا گیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی الیکشن کمپئن میں ہی چیئرمین ایس ای سی پی کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کر دیا تھا۔ وزیراعظم بننے کے بعد اکتوبر 19 کو شوکت حسین کو چیئرمین ایس ای سی پی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا ، تاہم وہ ایس ای سی پی کے کمیشن میں بطور کمشنر موجود رہے اور ان کی تین سالہ مدت مارچ 26 مکمل ہو گئی ہے۔