Thursday, April 18, 2024
ہومپاکستانآرٹ فیسٹ کا دوسرا روز،شائقین کی شاہکار فن پاروں کی تعریف

آرٹ فیسٹ کا دوسرا روز،شائقین کی شاہکار فن پاروں کی تعریف

محکمہ ثقافت نے ویجوئل آرٹ کے فروغ کے لیے سندھ میں سب سے بڑی آرٹ گیلری کا قیام کیا ہے جس میں اب مختلف نمائش جاری رہیں گی: ڈی جی کلچر عبدالعلیم لاشاری
کراچی ،محکمہ ثقافت کی جانب سے سمبارا آرٹ گیلیری میں لگائی گئی آرٹ ایگزیبیشن “آرٹ فیسٹ کراچی” جاری ہے اور نمائش کے دوسرے روز سینکڑوں شائقین نے شاہکار فن پارے دیکھے اور مصوروں کے فن کی تعریف کی۔ڈی جی کلچر عبدالعلیم لاشاری نے کہا کہ وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ کی خاص ہدایات پر منعقدہ آرٹ فیسٹ کے آج دوسرے روز فن پاروں کی نمائش کے ساتھ ساتھ پانچ مصوروں کی جانب سے لائیو پینٹنگس بھی کی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ سحر شاہ،کامران علی دل،ہشام راہو،عبداللہ خاصخیلی اور طاہر حسین نے سمبارا آرٹ گیلیری کے لان میں سندھ کی ثقافت کی عکاسی کرتی مختلف پینٹگس بنائیں۔عبدالعلیم لاشاری نے کہا کہ نمائش کو دیکھنے کے لیے آنے والی فیمیلیز نے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور خاص طور پر آرٹسٹس کمیونٹی کو انتہا درجے کی خوشی ہوئی ہے کہ ان کے لیے سرکاری طور پر سمبارا آرٹ گیلیری کی شکل بہت بڑا پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے جہاں مختلف اوقات میں مختلف آرٹسٹس کی سولو یا مشترکہ نمائشیں ہوتی رہیں گی۔آرٹ فیسٹ کراچی کے دوسرے روز پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں نامور آرٹسٹ مہر افروز کی زندگی اور انکے کام کے بارے میں تفصیلی نشست رکھی گئی۔پینل کی مقررین نیلوفر فرخ, فوزیہ نقوی اور رومیلا کریم تھیںجبکہ وحیدہ بلوچ نے سیشن ماڈریٹ کیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ مہر افروز آرٹ کی دنیا میں اتھارٹی کا درجہ رکھتی ہیں اور انہوں نے ہزاروں نئے ابھرتے ہوئے آرٹسٹس کو انسپائر کیا۔نیلوفر فرخ نے کہا کہ ان کی بہت عرصے سے خواہش تھی مہر افروز کے کام کے بارے میں تفصیلی نشست رکھی جائے جہاں ہم انکے کام کے بارے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں اور انکی یہ خواہش محکمہ ثفاقت کی طرف سے منعقدہ آرٹ فیسٹ کی اس نسشت کے ذریعے پوری ہوگئی۔اس موقع پرر رومیلا کریم نے کہا کہ مہر افروز کا کام آرٹ اور شاعری کا حسین سنگم ہے اور مہر افروز نے اپنے آرٹ میں غالب اور میر کے اشعار کو نہایت ہی خویصورتی کے ساتھ پرویا ہے۔سیشن میں ایک نوجوان آرٹسٹ کے سوال کے جواب میں وحیدہ بلوچ نے محکمہ ثقافت کی طرف سے آرٹ فیسٹ کے انعقاد کو ایک سنگ میل قرار دیا کیونکہ آرٹسٹ کمیونٹی کے لیے محکمہ ثقافت نے سمبارا آرٹ گیلری کا پلیٹ فراہم کرکے اس خلا کو پر کردیا ہے اب وہ انتہائی پرامید ہیں کہ صوبے میں وجوئل آرٹ کو زبردست فروغ ملے گا۔مہر افروز نے محکمہ ثقافت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے آرٹ فیسٹ میں انکے کام کو سراہا اور اس پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا۔انہوں نے اپنی زندگی کا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ علم اور عمل ساتھ ساتھ ہوتے ہیں علم کے بغیر عمل اور عمل کے بغیر علم نامکمل ہے،کسی بھی کو تہہ تک سمجھیں اور اس کے بعد ہی آپ کی بات معنی خیز ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جب وہ 1970 میں پاکستان میں واپس آئیں تو یہ دکھ انہیں ہمیشہ رہتا تھا کہ پاکستان میں قومی سطح پر آرٹسٹس کمیونٹی کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا لیکن اب سندھ حکومت کی جانب سے سمبارا آرٹ گیلری کا اتنا بڑا اسپیس دیکھ کر انکو بہت سکون ملا ہے۔پینل سیشن کے اختتام پر ڈپٹی ڈائریکٹر کلچر ہدایت اللہ راجڑ نے مہمانوں کو اجرک کے تحائف پیش کیے۔نمائش 28 مارچ تک جاری رہے گی اور اختتامی روز شرکا کو سرٹیفکیٹس اور ایوارڈز بھی دیے جائیں گے جبکہ محفل موسیقی بھی منعقد کی جائے گی۔