Monday, April 22, 2024

ڈرتے ڈرتے

مینار پاکستان نے کیا کیا دیکھا ؟

رضی الدین رضی کا اختصاریہ

اٹھارہ ایکڑ پر محیط اقبال پارک میں واقع مینارپاکستان جس جگہ تعمیر ہوا ہے اس کی تاریخی اہمیت 23مارچ 1940کے آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس کی وجہ سے ہے جس میں قراردادپاکستان منظورہوئی تھی۔اس زمانے میں بھی یہ میدان یقیناًاتناہی بڑا ہوگالیکن اس وقت یہ مینار موجودنہیں تھا۔قیام پاکستان سے قبل اس میدان کو منٹوپارک کہاجاتاتھابعدازاں ایوب دور یہاں ایک مینار تعمیرکیاگیااوراس پارک کی تزئین وآرائش بھی ہوئی۔اس زمانے میں چونکہ بلندوبالاعمارتیں موجودنہیں تھیں اس لئے یہ میناردورسے ہی دکھائی دیتاتھااوراسے نام بھی یادگارپاکستان کادیاگیاتھا۔پھرکسی بھلے مانس نے سمجھایاکہ یادگارکی بجائے اس کانام کچھ اوررکھ لیں کہ یادگارتومرحومین کی ہوتی ہے۔اس کے بعد سے یہ مینارپاکستان کہلایا۔لیکن لاہوروالے اب بھی اسے یادگارہی کہتے ہیں اورجس چوراہے میں یہ تاریخی جگہ واقع ہے سرکاری طورپروہ آزادی چوک کہلانے کے باوجود یادگارچوک کے نام سے ہی یادکیاجاتاہے۔
یادگارکا ذکر آیا تو ہمیں مینارپاکستان سے وا بستہ کچھ واقعات یادآگئے۔ اس گراونڈنے بہت سے عظیم جلسے دیکھے ،اجتماعات دیکھے۔یہ مینار اس لمحے کابھی عینی شاہد ہے جب بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان کے دورے پرآئے اورخیرسگالی کے طورپرانہوں نے اس جگہ کادورہ کیاایک طرح سے پاکستان کو اٹل حقیقت کے طور پر تسلیم کیا۔اگرچہ ان کایہ دورہ بعدازاں نواز شریف کو مہنگاپڑگیاتھالیکن وہ ایک الگ کہانی ہے۔
ہماری یادوں میں مینارپاکستان آج بھی 10اگست 1986میں ہونے والے محترمہ بے نظیر بھٹوکے استقبالیہ جلسے کے حوالے سے محفوظ اور معتبر ہے کہ اس روز لاہورکی تمام سڑکیں مینار پاکستان کی جانب جارہی تھیں اورجلسہ گاہ میں تاحدنظرلوگوں کاہجوم تھا۔ یہ ہجوم بادشاہی مسجدکی ڈھلوانوں اورتاحدنظر شاہراہوں پربھی موجودتھااوراسی جلسے میں بے نظیر بھٹونے میں باغی ہوں والی نظم پڑھ کر آمریت کوللکاراتھا۔اور” ضیاء الحق جاوے ای جاوے “ کا نعرہ بھی لگایا تھا۔ اس میدان نے کئی اوربھی یادگارجلسے دیکھے جن میں عمران خان کاوہ پہلاجلسہ بھی اہمیت کاحامل ہے جس کے ذریعے انہوں نے ستمبر 2014 میں اپنے سیاسی سفرکاباضابطہ آغازکیاتھااوراسی جلسے کے بعد تبدیلی کے بہاوکوسونامی کانام دیاگیاتھا۔
بہت سے مذہبی اجتماعات بھی اسی مقام پرہوئے۔اسی گراونڈمیں ایک جانب قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری صاحب کامزاربھی واقع ہے جنہیں ان کی وصیت کے مطابق یہاں سپردخاک کیاگیا۔اوراسی مینارنے آخری منظر تین ہفتے قبل تحریک لبیک کے رہنما خادم رضوی کی نمازجنازہ کا دیکھا جس میں ملک بھرسے ان کے عقیدت مندلاکھوں کی تعدادمیں شریک ہوئے اور جس میں پاکستان کا ایک نیا اور انتہا پسندی والا چہرہ سامنے آیا۔
دیکھنا صرف یہ ہے کہ یہ مینار اب جو منظر دیکھنے والا ہے اس کے نتائج کیا ہوں گے کہ تبدیلی کے لئے صرف کامیاب جلسہ ہی ضروری نہیں ہوتا۔ بے نظیر اور عمران خان کے کامیاب جلسے بھی فوری تبدیلی تو نہیں لا سکے تھے۔تبدیلی کے لئے بہر حال اصل قوتوں کی جانب ہی دیکھنا پڑتا ہے ۔

پچھلی خبر
اگلی خبر