Thursday, June 20, 2024

ڈرتے ڈرتے

ایک ہی زمانے میں جینے والی بہادر قوم


رضی الدین رضی کا اختصاریہ


پاکستان کی گولڈن جوبلی1997 ءمیں بہت دھوم دھام کے ساتھ منائی گئی تھی۔ اس موقع پر جب ہم پاکستان کی تاریخ پر کام کر رہے تھے اور اخبارات کی فائلوں سے 14 اگست 1947ءسے 14 اگست 1997ء تک کے تمام واقعات تاریخ وار جمع کررہے تھے تو اس کام کے دوران ماضی کے اخبارات کو کنگھالتے ہوئے ہمیں محسوس ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد تسلسل کے ساتھ ہر زمانے میں حکمرانوں، سیاستدانوں اور مختلف اداروں کی جانب سے ایک ہی جیسے بیانات جاری کیے جا رہے ہیں اور ایک ہی جیسا جھوٹ بولا جا رہا ہے۔یہ جھوٹ ہر دور میں حکمرانوں نے بھی بولا اور اپوزیشن نے بھی۔ مختلف ادارے اورمحکمے بھی اس جھوٹ میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ کچھ جملے ایسے ہیں جو پہلے روز سے تسلسل کے ساتھ ہمیں سننے کو مل رہے ہیں کچھ وعدے ایسے ہیں جو ہر دور میں کئے گئے مگر وفا نہ ہوسکے، اور کچھ الزامات ایسے ہیں جو مسلسل گزشتہ 72 برس سے ایک دوسرے پرعائد کیے جا رہے ہیں۔ اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی 72 برس سے ایک ہی زبان بولتے دکھائی رہے ہیں اور سنائی دے رہے ہیں۔ ایک ہی آواز ہے جسے سن سن کر ہم اپنی سماعت پر یقین کھو بیٹھے اور ایک ہی منظر ہے جسے دیکھ دیکھ کر ہمارا اپنی بصارت سے اعتماد ختم ہو گیا۔ بداعتمادی اور بے یقینی کا عالم یہ ہے کہ اب جب بھی عوام سے کوئی وعدہ کیا جاتا ہے تو انہیں اس پراعتبار ہی نہیں آتا۔جب بھی ہمیں کوئی بتاتا ہے کہ انتخابات شفاف اور غیرجانبدارانہ ہوں گے توہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح جب یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تفتیشی اداروں نے قاتلوں کا سراغ لگا لیا توعوام کو ازخود معلوم ہو جاتا ہے کہ اس قتل کا اب کبھی سراغ نہیں مل سکے گا اور اس واردات کو بھی اس طویل فہرست کا حصہ بنا لیا جائے گا جس میں پہلے بھی بہت سے اندھے قتل درج کیے جا چکے ہیں۔ بتانا صرف یہ ہے کہ حکمران اور ادارے اتنا جھوٹ بول چکے ہیں کہ عوام اب ان کے جھوٹ کے ذریعے سچ تک پہنچنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ پر کام کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ وطن عزیز میں ایک ہی بات تسلسل کے ساتھ دہرائی جاتی رہی اور ایک ہی الزام مسلسل لگایا جاتا رہا۔ فرق بس اتنا ہے کہ ہر دور میں کردار تبدیل ہوتے رہے اورعوام مختلف کرداروں کی زبانی ایک ہی بات بار بار سنتے رہے۔ ہم 72 برسوں سے ایک ہی زمانے میں جی رہے ہیں اوراسے بے یقینی کا زمانہ سمجھتے ہیں۔ ہرنئے آنے والے نے ہر زمانے میں اقتدار سے جانے والے پر ایک ہی جیسے الزامات عائد کئے۔ ہر سانحے کے بعد مجرموں کا سراغ لگانے کی بات کی گئی اور ہر مرتبہ ایک دوسرے کو غدارکہا گیا۔ محرم الحرام کی آمد ہو یا استقبال رمضان ، بجٹ ہو یا ٹیکسوں کی داستان، احتساب ہو یا کرپشن اور لوٹ مار کی کہانی۔ ہمیں گزشتہ 72 برس سے سب کچھ ایک ہی جیسا دکھایا اور سنایا جا رہا ہے۔اور اب حالت یہ ہو گئی کہ ہم ہر معاملے مسشکوک اور سازشی ہو گئے ہیں، ہر واردات میں کسی کا ہاتھ تلاش کرتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔ آئیے ایک ہی زمانے میں جینے والی اس بہادر قوم کو سلام پیش کرتے ہیں ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

پچھلی خبر
اگلی خبر