Thursday, June 20, 2024

ڈرتے ڈرتے

اقتدار کا کھیل اور استعفوں کی سیاست


رضی الدین رضی کا اختصاریہ


استعفوں کا کھیل اس ملک میں نیا نہیں ہے، استعفے یہاں دیے بھی جاتے ہیں اور لئے بھی جاتے ہیں۔ کبھی استعفے لینے پر اصرار کیا جاتا ہے تو کبھی دینے سے انکار۔ استعفوں کی یہ کہانی بہت طویل ہے کہ یہ پچھلے 72 برسوں سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد انہی استعفوں کی بنیاد پر ہمارے ہاں اس تواتر سے حکومتیں تبدیل ہوئیں کہ ایک ہندوستانی لیڈر کو اپنی دھوتی کے حوالے سے ہم پر پھبتی بھی کسنا پڑ گئی۔لیکن کچھ استعفے تاریخ کا حصہ ہیں اور عبرت کا سامان بھی کہ استعفے لینے والے خود بھی اسی انجام کو پہنچے جس سے انہوں نے طاقت کے نشے میں اوروں کو دوچار کیا تھا ۔ پاکستان کے پہلے صدر سکندر مرزا کی طاقت سے کون واقف نہیں انہوں نے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی سے استعفیٰ لے کر انہیں جلاوطنی پر مجبور کیا تھا اور پھر سہروردی صاحب عمر بھر بیروت میں مقیم رہے اور اس وقت تک وطن واپس نہ آ سکے جب تک کہ موت کا فرشتہ ان کے پاس نہ آ گیا۔ سکندر مرزا جنرل ایوب خان کی آنکھ کا تارہ تھے۔اور اس لئے آنکھ کا تارہ تھے کہ انہیں سول اور فوجی بیوروکریسی کی بیک وقت حمایت حاصل تھی۔ 1958 میں ایوب خان کو اقتدار میں لانے میں سکندر مرزا کا بنیادی کردار تھا۔ لیکن چند ہی روز بعد ایوب نے اقتدار پر گرفت مضبوط کر کے انہیں سہروردی والے انجام سے دوچار کر دیا۔ ان سے استعفیٰ لے کر انہیں لندن بھیج دیا گیا۔( سکندر جب گیا تو اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے ) وہیں ان کا انتقال ہوا اور ان کی میت بھی پاکستان لانے کی اجازت نہ ملی۔دو استعفےٰ جولائی 1993 میں صدرغلام اسحاق خان اورنوازشریف نے بیک وقت دیئے تھے ،دونوں کے درمیان چھ ماہ کی طویل محاذ آرائی کے بعد مارشل لاءسے بچنے کے لئے انہیں استعفوں پرمجبورکیا گیا۔یہ استعفے اس وقت کے آرمی چیف جنرل کاکڑ نے لیے تھے اور نواز شریف کی مزاحمت پر کاکڑ صاحب کی چھڑی والا قصہ بھی زبان زد عام ہوا تھا۔ پھر قائم مقام صدر کے عہدے کے لئے چیئرمین سینٹ وسیم سجاد کی لاٹری نکلی اورامریکہ میں مقیم آئی ایم ایف کے ملازم معین قریشی کو ہنگامی طورپرامپورٹڈوزیراعظم کی حیثیت سے پاکستان منگوانا پڑا۔استعفے تواوربھی بہت سے ہیں خاص طورپرمیاں نواز شریف سے استعفے کامطالبہ جو عمران خان مسلسل کرتے رہے اورنواز شریف استعفے سے انکاری رہے۔آخرکارانہیں رخصت کرنے کے لئے دوسرا طریقہ اپنانا پڑا یعنی پانامہ لیکس اورعدالتوں کاسہارالیاگیا۔آخرمیں ایک ایسے استعفے کاذکرکرتے ہیں جس نے سب کو حیران کردیا۔8نومبر1983کو یہ استعفیٰ اس وقت کے نوجوان وزیربلدیات سیدفخرامام نے اپنی وزارت سے دیاتھا۔اسی روزضلع کونسل ملتان کی چیئرمین شپ کے انتخابات میں یوسف رضاگیلانی نے سید فخرامام کو شکست دی تھی۔یہاں سے ان دونوں کے سیاسی سفرکاآغازہوا۔مجھے یادہے روزنامہ سنگ میل میں ہم ابھی یوسف رضاگیلانی کی کامیابی کی لیڈسٹوری بنارہے تھے کہ اسی دوران پی آئی ڈی سے فخرامام کااستعفیٰ موصول ہوگیا۔یہ حیران کردینے والااستعفیٰ تھا۔سیدیوسف رضاگیلانی بعدازاں سپیکراوروزیراعظم کے عہدے تک پہنچے۔فخرامام نے مجلس شوریٰ کے رکن کی حیثیت سے اسی استعفے کی بنیادپرشوریٰ کی چیئرمین شپ کے الیکشن میں ضیاء الحق کے چہیتے اور خواجہ آصف صاحب کے والد خواجہ محمد صفدرکوشکست دے کرسب کوحیران کردیاتھا۔کہتے ہیں فخر امام کے استعفے میں بنیادی کردار سیدہ عابدہ حسین کا تھا ، ورنہ وہ تو وزارت چھوڑنے سے ہچکچا رہے تھے۔ اختصاریہ طویل ہو گیا لیکن چلتے چلتے جنرل گل حسن کے استعفے کا حوالہ بھی ضروری ہے جو جی ٹی روڈ پر ایک کار میں سفر کے دوان ان سے غلام مصطفیٰ کھر نے لیا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

پچھلی خبر
اگلی خبر