اسلام آباد(سب نیوز) ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ کا بینچ قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت کے ماتحت نہیں۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی عدالت سے زیر سماعت کیس دوسرے بینچ منتقل کرنے پر توہینِ عدالت ازخود کیس میں ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اور دیگر کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کا بینچ قائم مقام چیف جسٹس کی عدالت کے ماتحت عدالت نہیں، رجسٹرار آفس نے اسی وجہ سے یہ درخواست اعتراض کے ساتھ چیف جسٹس کے سامنے مقرر کی۔
سماعت کے تحریری حکمنامے میں لکھا ہے کہ لارجر بینچ بنانے کے آرڈر میں دکھائی نہیں دے رہا کہ اعتراض دور کرنے کی وجوہات لکھی گئی ہوں، اعتراض دور کرنے کی وجوہات تحریر نہ کرنا بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر کے خلاف ہے۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے لکھا کہ شفافیت کے لیے درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات دور کرنے کی وجوہات تحریر کی جاتی ہیں، آفس کیاعتراضات کو زیر غور لاکر جج کو انہیں دور کرنے کی وجوہات تحریر کرنی چاہئیں، عدالت سے زیرسماعت کیس واپس لینے کی فی الحال کوئی قانونی نظیر پیش نہیں کی جاسکی۔
حکمنامے میں لکھا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل نے لاہورہائیکورٹ رولزکی بینچز کی تشکیل سے متعلق شق بتائی لیکن وہ غیرمتعلقہ ہے، وکلا عدالت کی معاونت کریں اور عوام بھی اس کیس پر نظر رکھیں۔
ہائیکورٹ بینچ قائم مقام چیف جسٹس کی عدالت کے ماتحت عدالت نہیں، جسٹس اعجاز اسحاق
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔