Tuesday, April 16, 2024
ہومپاکستانقومی اسمبلی،حکومتی اور اپوزیشن اراکین گتھم گتھا، دھکم پیل سے کئی ممبران گرپڑے، اجلاس مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا ،عمر ایوب کے خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے لوٹا لوٹا کے نعرے لگائے جاتے رہے ، سید نوید قمر نے ڈپٹی اسپیکر کا مائیک اتار دیا

قومی اسمبلی،حکومتی اور اپوزیشن اراکین گتھم گتھا، دھکم پیل سے کئی ممبران گرپڑے، اجلاس مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا ،عمر ایوب کے خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے لوٹا لوٹا کے نعرے لگائے جاتے رہے ، سید نوید قمر نے ڈپٹی اسپیکر کا مائیک اتار دیا

اسلام آباد، قومی اسمبلی ایک اور ہنگامہ خیز اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا اور سپیکر ڈیسک کا گھیرا کیا،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ارکان کی آپس میں ہاتھا پائی بھی ہوئی، آغا رفیع اللہ کے دھکے سے پی ٹی آئی رکن عطا اللہ گر پڑے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کی جانب سے سابقہ حکومتوں پر تنقید کیے جانے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا جس سے ایوان مچھلی بازار بن گیا۔عمر ایوب نے چیلنج دیا کہ اپوزیشن میں سے کوئی الیکشن لڑنا چاہتا ہے تو میرے حلقے سے لڑے، میں مسلم لیگ (ن)کو 40 ہزار ووٹوں سے ہرا کر اسمبلی پہنچا ہوں۔وفاقی وزیر کے بیان پر اپوزیشن کے تمام ارکان نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور شدید احتجاج کیا، اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ڈائس بجاتے رہے جس سے ایوان میں شدید شور شرابا ہوا اور کان پڑی آواز بھی سنائی نہ دی۔اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیرا کیا، گو عمران گو اور آٹا مہنگا روٹی مہنگی کے نعرے مارے۔اپوزیشن کی ہلڑ بازی کے دوران قومی اسمبلی میں متعدد ارکان دھکم پیل کی وجہ سے گر پڑے جب کہ اپوزیشن رکن سید نوید قمر نے ڈپٹی اسپیکر کا مائیک اتار دیا۔اسپیکر ڈائس کے سامنے حکومتی اور اپوزیشن ارکان گتھم گتھا ہوگئے جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی نماز ظہر کے لیے معطل کر دی۔دوران اجلاس پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ارکان آپس میں لڑ پڑے، پیپلز پارٹی کے نوید قمر اور آغا رفیع اللہ کا پی ٹی آئی کے فہیم خان اور عطا اللہ سے ہاتھا پائی بھی ہوئی، جب کہ آغا رفیع اللہ کے دھکے سے پی ٹی آئی رکن عطا اللہ گر پڑے، اور پی ٹی آئی کے فہیم خان اور نوید قمر میں بھی جھڑپ ہوگئی، اس دوران پی ٹی آئی کے عامر کیانی میدان میں آگئے، اور مجبورا حالات خراب ہونے پر سیکورٹی طلب کر لی گئی، تاہم حکومتی اور اپوزیشن ارکان کا ایک دوسرے کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ جاری رہا۔بعد ازاں ڈپٹی کورم پورا نہ ہونے پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرنا پڑا۔