Monday, April 22, 2024
ہومتازہ ترینعراق کے سابق صدرصدام حسین کے خلاف مقدمے کی سربراہی کرنے والا جج کورونا کے باعث انتقال کرگیا

عراق کے سابق صدرصدام حسین کے خلاف مقدمے کی سربراہی کرنے والا جج کورونا کے باعث انتقال کرگیا

بغداد،عراق میں کرونا وائرس میں مبتلا ریٹائرڈ جج جسٹس محمد عریبی الخلیفہ انتقال کرگئے ۔ یاد رہے کہ الخلیفہ سابق عراقی صدر صدام حسین کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے سربراہ تھے۔عراق میں سپریم جوڈیشل کونسل کے مطابق52 سالہ الخلیفہ بغداد کے ایک ہسپتال میں کورونا وائرس کے خلاف زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔الخلیفہ نے 1992 میں بغداد یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔ انہیں 2000 میں جج مقرر کیا گیا تھا۔اگست 2004 میں صدام حسین اور ان کی حکومت کے خلاف مقدمے کی کارروائی میں بطور جج تقرر کے بعد الخلیفہ کو شہرت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے صدام حسین کے خلاف اجتماعی نسل کشی کے الزام کے تحت مقدمے میں سینئر جج کا منصب سنبھالا۔ اس مقدمے میں صدام حسین کے چچا زاد بھائی علی حسن المجید عرف علی کیمیکل اور دیگر پانچ ملزمان بھی شامل تھے۔ ان سب پر 1987-88 کے دوران میں کردوں کے خلاف خونی مہم میں کردار ادا کرنے کے الزامات تھے۔استغاثہ کا دعوی تھا کہ اس مہم کے دوران میں 1.8 لاکھ کے قریب افراد مارے گے۔ ان میں بہت سے شہری بھی تھے جو زہریلی گیس سے ہلاک ہوئے۔ اس مقدمے کے نتیجے میں صدام حسین کو موت کی سزا سنائی گئی۔ اس فیصلے پر 30 دسمبر 2006 کو عمل ہوا۔الخلیفہ نے مقدمے کی کارروائی کے دوران میں کئی مرتبہ سابق صدر صدام کو کمرہ عدالت سے باہر بھی نکالا تھا۔ یہ اقدام صدام اور الخلیفہ کے درمیان سخت اور اشتعال انگیز الفاظ کے تبادلے کے بعد سامنے آتا تھا۔ایک سماعت میں الخلیفہ نے حکم دیا کہ صدام کو کئی روز تک قید تنہائی میں رکھا جائے۔عراقی جوڈیشل کونسل کے بیان میں الخلیفہ کی شخصیت کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے صدام حسین اور سابق حکومت کے خلاف مقدمے کی کارروائی میں دلیری کا مظاہرہ کیا۔