Friday, March 1, 2024
ہومکالم وبلاگزقازقستان وسط ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشت

قازقستان وسط ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشت

ملک سعید اعوان
جمعرات 16 نومبر صبح 2023 صبح کے ساڑھے تین بجے کا وقت تھا جب میں نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ کے نور سلطان ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔ یہ سفر براستہ روستہ دبئی طے کیا تھا کیوںکہ پاکستان سے قازقستان کے لیے براہ راست پروازیں شروع نہیں ہوئیں۔ چونکہ میں قازقستان کی وزارت خارجہ کی دعوت پردورہ کر رہا تھا اس لیے ایئرپورٹ پر وزارت کے حکام مجھے لینے آئے ہوئے تھے۔ صرف میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی صحافیوں کو قازقستان مدعو کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد وہاں پر ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت تھی۔قازقستان وسط ایشیائی ملک ہے جو بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی جانب گامزن ہے۔ اس سفر کو اجاگر کرنے کے لیے نومبر کے وسط میں ایک عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد کیا گیاتھا ۔ اس کانفرنس میںجہاں ایک طرف مختلف ممالک کے وفود کی شرکت ہوئی تو وہیں بڑی سرمایہ کاری کمپنیوں کی خدمات کو سراہا گیا۔ اس سال کے ایونٹ کی ایک خصوصیت علاقائی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔ قازقستان نے معیشت کے مختلف شعبوں کی تیز رفتار ترقی کے ذریعے 2029تک اپنی جی ڈی پی کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

اہم علاقائی مسائل جیسا کہ پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، اور دھات کی کھپت میں اضافہ، گلوبل وارمنگ ،خشک سالی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ جس سے خطے کے معاشی استحکام کو خطرہ ہے۔ جدید ٹیکنالوجیز اور اختراعات میں سرمایہ کاری ان چیلنجوں سے نمٹنے کا حل ہو سکتی ہے۔ قازقستان دنیا کا 66 واں سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی 19ملین سے زائد ہے(جس میں سے 40فیصد 25سال سے کم ہیں) قازقستان نے کثیر الجہتی خارجہ پالیسی اپنائی ہے اور دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔قازقستان نے سوویت یونین کے بعد کے 15 ممالک میں، 61 فیصدحصہ کے ساتھ، وسطی ایشیا میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں ایک اہم مقام حاصل کیا ہے اور 32خشکی میں گھرے ترقی پذیر ممالک میں ایک اہم مقام حاصل کیا ہے۔ نیدرلینڈز، امریکہ، سوئٹزرلینڈ، چین، روس تاریخی طور پر قازقستان میں سرفہرست 5 سرمایہ کاروں کے طور پر نمایاں ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قازقستان نے یورینیم کی کان کنی شروع کر دی ہے اور فرانس کی کمپنی کو پہلا کنٹریکٹ دیا۔ اس وقت دنیا کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ آلودگی کا ہے اور قازقستان اس حوالے سے اقدامات کرتے ہوئے گرین انرجی پر توجہ دیئے ہوئے ہے ۔جہاں اس وقت قازقستان حکومت کی توجہ کان کنی پر ہے۔اس شعبے میں 650 سے زیادہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے کامیابی سے کام کر رہے ہیں، جن میں بڑے بین الاقوامی کھلاڑی جیسے ریو ٹنٹو، گلینکور، اور فورٹسکیو کمپنیاں شامل ہیں۔ اس وقت عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے لیتھیم، نکل اور دیگر نایاب زمینی دھاتوں کی ممکنہ قلت پر عالمی تشویش پائی جاتی ہے۔ ان مواد سے تیار کردہ مصنوعات کی مانگ بڑھ رہی ہیں کیونکہ ان مصنوعات میں لیتھیم آئن بیٹریاں، الیکٹرک گاڑیوں کا سامان، الیکٹرانکس، گھریلو آلات وغیرہ شامل ہیں۔ قازقستان ہائی ٹیک شعبوں میں استعمال ہونے والی نادر اور نایاب زمینی دھاتوں کے لیے عالمی سپلائی چین کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔قازقستان میں مواصلاتی انفراسٹرکچر پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے آپ جس طرف جائیں گے آپ کو پکی سڑکیں اور تاریخی عمارات کے ساتھ شاپنگ مال ہی نظر آئیں گے۔ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں لوگ فلیٹوں میں رہتے ہیں اور وہاں پر یورپی طرز رہائش نظر آتا ہے۔ قازقستان کی حکومت سمجھتی ہے کہ جلد قازقستان عالمی حب بن جائے گا کیونکہ فی الحال، 13 ٹرانزٹ کوریڈور یہاں سے گزرتے ہیں۔ گزشتہ 15 سالوں میں، قازقستان نے نقل و حمل اور ٹرانزٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں 35 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہیاور اس شعبے میں مزید کافی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ سال کارگو ٹرانزٹ تقریبا 27 ملین ٹن تک پہنچ گیا۔

قازقستان کو بڑی منڈیوں تک براہ راست رسائی حاصل ہے، بشمول یوریشین اکنامک یونین کے ممالک اور وسطی ایشیا۔قازقستان چین کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھتا ہے اور بحیرہ کیسپین کے ذریعے مشرق وسطی کے ممالک تک رسائی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ قازقستان نے زراعت پر بھی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے اور زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی ہے۔قازقستان میں اسٹیٹ ایگری بزنس ڈیولپمنٹ پروگرام کے مطابق، سرمایہ کار حکومتی تعاون کے مختلف اقدامات حاصل کر سکتے ہیں۔جس کا مقصد پروسیسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ قازقستان نے 14 خصوصی اقتصادی زون قائم کیے ہیں۔ ان زونز میں واقع کمپنیاں کو خصوصی مراعات حاصل ہونگی۔جن میں کارپوریٹ انکم ٹیکس، لینڈ ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، VAT، اور کسٹم ڈیوٹی سے 25 سال تک کی چھوٹ شامل ہے۔اسی طرح آستانہ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (AIFC) قازق مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ غیر ملکی کمپنیوں کو ٹیکس اور مالی مراعات کا ایک جامع پیکج پیش کرتا ہے اور سرمایہ کاری کے لیے وسیع تعاون فراہم کرتا ہے۔ قازقستان ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی بلا تعطل اور تیز ترسیل کے لئے متبادل راہداری بننا چاہتا ہے ۔ کانفرنس میں قازقستان کے وزیر اعظم علیخان سمائلوف نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں علیخان سمائلوف کا کہنا تھا کہ یہ بین الاقوامی کاروباری برادری، فکری رہنماں اور قازقستان کے حکومتی نمائندوں کے لیے قازقستان کے لیے اہم مسائل پر خیالات کا تبادلہ کرنے کا ایک اچھا پلیٹ فارم ہے جو ملک کی سرمایہ کاری کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔ قازقستان نے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان سے قازقستان کے بہت اچھے تعلقات ہیں ۔پاکستانی وزیراعظم نے گزشتہ سال قازقستان کا دورہ کیا تھا۔پاکستان سے راستوں کی بلاکج ختم کرنے کے لئے مستحکم افغانستان ضروری ہے۔افغانستان میں استحکام سے دیگر ممالک سے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی ۔افغانستان کے استحکام کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت کا حجم 35 اعشاریہ7ملین ڈالر ہے۔ قازقستان میں اس وقت افرادی قوت کی بہت ضرورت ہے جس کا قازقستان کی حکومت نے اظہار بھی کیا ہے اور پاکستان میں بے روزگاری زیادہ ہے اس لئے پاکستان قازقستان کو افرادی قوت مہیا کرنیکی آفر کر سکتا ہے اور اس سے پاکستانی نوجوانوں کو روزگار کا موقع بھی ملے گا۔