22

وزیراعظم کا پنڈورا پیپرز میں شامل تمام پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کا اعلان

اسلام آباد، وزیر اعظم عمران خان نے بڑے مالیاتی اسکینڈل پینڈورا پیپرز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری حکومت پینڈورا پیپرز میں سامنے آنے والے تمام شہریوں کی تحقیقات کرے گا، کسی بھی پاکستانی شہری کی کرپشن ثابت ہوئی تو تادیبی کارروائی کریں گے، کرپشن اور ٹیکس چوری کے ذریعے عوام سے لوٹی ہوئی دولت منی لاڈرنگ کے ذریعے فنانشل ہیونز میں بھیجی جاتی ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ترقی پذیر ممالک کی اشرافیہ لوٹی ہوئی دولت ملک سے باہر لے کر جاتی ہے، عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ماحولیاتی آلودگی کی طرح اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائے۔
اتوار کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم پنڈورا پیپرز کو خوش آمدید کہتے ہیں جو اشرافیہ کی ناجائز دولت کو بے نقاب کرتے ہیں ، جو ٹیکس چوری اور بدعنوانی کے ذریعے جمع ہوتی ہے اور مالیاتی “پناہ گاہوں” میں پہنچ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایس جی کے پینل ایف اے سی ٹی آئی نے چوری شدہ اثاثوں میں 7 ٹریلین ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے جو بڑے پیمانے پر آف شور ٹیکس ہیونز میں کھڑے ہیں۔ میری دو دہائیوں کی جدوجہد کی بنیاد اس یقین پر رکھی گئی ہے کہ ممالک غریب نہیں ہیں لیکن بدعنوانی غربت کا سبب بنتی ہے کیونکہ پیسہ ہمارے لوگوں میں لگانے سے ہٹ جاتا ہے۔ نیز ، یہ وسائل کی چوری قدر میں کمی کا باعث بنتی ہے ، جس کی وجہ سے ہزاروں غربت سے متعلقہ اموات ہوتی ہیں۔ جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کی دولت لوٹی ، اسی طرح ترقی پذیر دنیا کے حکمران اشرافیہ بھی یہی کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے امیر ریاستیں نہ تو اس بڑے پیمانے پر ہونے والی لوٹ مار کو روکنے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور نہ ہی اس لوٹی ہوئی رقم کو واپس کرنے میں۔ میری حکومت پانڈورا پیپرز میں مذکور ہمارے تمام شہریوں کی تحقیقات کرے گی اور اگر کوئی غلطی ثابت ہوئی تو ہم مناسب کارروائی کریں گے،میں عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس سنگین ناانصافی کو موسمیاتی تبدیلی کے بحران کی طرح سمجھیں۔ اگر چیک اینڈ بیلنس کا نظام طاقتور اور مضبوظط نہیں کیا گیا تو ، امیر اور غریب ریاستوں کے درمیان عدم مساوات میں اضافہ ہوگا کیونکہ بعد میں غربت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں غریب سے امیر ریاستوں میں معاشی نقل مکانی کا سیلاب آئے گا ، جس سے دنیا بھر میں مزید معاشی اور سماجی عدم استحکام پیدا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں