9

مقدمہ حکومت پاکستان نے نہیں کیا،فواد کا شہباز پر غلط بیانی کا الزام

اسلام آباد،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ شہباز شریف 25 ارب روپے کی کرپشن کا جواب دینے کی بجائے مسلسل جھوٹ بولتے رہے، جو دولت انہوں نے لوٹی وہ ہمارا ذاتی نہیں پاکستان کے عوام کا پیسہ ہے، جھوٹ بولنا شریف فیملی کا وطیرہ بن چکا ہے، دو روز پہلے بھی جعلی خبریں چلائی گئیں، لندن میں سلمان شہباز کے خلاف کیس حکومت کی طرف سے نہیں بھجوایا گیا، اس کیس میں تحقیقات برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے اپنے طور پر کیں، فیک نیوز چلانے والوں کے چہرے سب اچھی طرح جانتے ہیں، شہباز شریف کے خلاف پاکستان میں دو مقدمات ہیں، نیب لاہور نے 7 ارب 32 کروڑ روپے کا ایک کیس دائر کیا جبکہ دوسرا کیس 25 ارب روپے کی کرپشن کا ہے، العربیہ اور رمضان شوگر ملز کے ذریعے 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی، ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کیسوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے، ہمارا ذاتی پیسہ نہیں لوٹا گیا یہ قوم کا پیسہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب بھی موجود تھے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کے رہنما شہباز شریف نے آج طویل پریس کانفرنس کی، ایک گھنٹہ دس منٹ تک وہ مسلسل جھوٹ بولتے رہے، جھوٹ بولنا شریف فیملی کا وطیرہ بن گیا ہے، انہوں نے کبھی سچ بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں سلمان شہباز اور ذوالفقار احمد کے اکائونٹس کی تحقیقات برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے اپنے طور پر کیں، اس میں حکومت پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں، یہ کیس نہ تو حکومت پاکستان کی طرف سے بنایا گیا ہے اور نہ ہی اس میں شہباز شریف شامل ہیں، اس بارے میں دو روز پہلے فیک نیوز چلائی گئی، اس میں جو چہرے ملوث ہیں انہیں سب جانتے ہیں، یہ فیک نیوز منفی پروپیگنڈے کا حصہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی ادارے نے ہمارے یونٹ سے رابطہ کر کے ہنڈی کے ذریعے بھیجی گئی رقوم کی تفصیلات مانگی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف پاکستان میں دو مقدمات ہیں۔ ایک کیس نیب لاہور نے شہباز شریف، مسز نصرت شہباز، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف دائر کیا جو 7 ارب 32 کروڑ روپے کا ریفرنس ہے جبکہ دوسرا کیس 25 ارب روپے کی کرپشن کا ہے جس میں شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقات ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے 23 جون 2020کو ایکشن میٹرک طے کئے، کابینہ نے معاملہ کی مکمل چھان بین کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب اس پر تحقیقات شروع ہوئیں تو معلوم ہوا کہ العربیہ اور رمضان شوگر ملیں ایک منظم منی لانڈرنگ نیٹ ورک چلا رہی تھیں۔ 2008سے 2018تک دس سالوں میں 57 مشتبہ اکائونٹس سے 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی۔ ان اکائونٹس میں سے اکثریت ان شوگر ملوں میں کام کرنے والے ملازمین کے ناموں پر بنائے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 2016-17میں العربیہ مل کے نائب قاصد ملک مقصود کے نام سے بنائے گئے اکائونٹ میں 3.7 ارب روپے آئے، فرنیچر شاپ کے مالک حاجی نعیم کے نام سے بنائے گئے اکائونٹ میں 2.8 ارب روپے آئے، یہ اکائونٹ 2008اور 2010کے درمیان چلتا رہا۔ مشتاق چینی والا کے ڈرائیور محمد وارث کے نام پر وارث انٹر پرائز کمپنی بنائی گئی، اس کے اکائونٹ میں 2.5 ارب روپے آئے، اسی طرح مل میں کام کرنے والے نائب قاصد محمد اسلم کے اکائونٹ میں 1.75 ارب روپے، اظہر عباس کے اکائونٹ میں 1.67 ارب روپے، رمضان شوگر مل کے کلرک غلام شبیر اور خضر حیات کے اکائونٹ میں بالترتیب 1.57 ارب روپے اور 1.42 ارب روپے، قیصر عباس نامی شخص کے اکائونٹ میں 1.37 ارب روپے، رمضان شوگر مل کے نائب قاصد گلزار خان کے اکائونٹ میں 28 ارب روپے، سید محمد اکبر کے اکائونٹ میں 1.25 ارب روپے کی رقم آئی۔ یہ اکائونٹ وحدت روڈ لاہور میں مشتاق چینی والا کے دفتر سے بنایا گیا جس میں مشتبہ آئی ڈی استعمال کی گئی۔ اس کے علاوہ اقرار حسین کے اکائونٹ میں 1.18 ارب روپے، انوار کے اکائونٹ میں 880 ملین روپے، رمضان شوگر مل کے کلرک محمد یاسین کے اکائونٹ میں 715 ملین روپے، محمد مشتاق چینی والا کے اکائونٹ میں 555 ملین روپے، رمضان شوگر ملز کے سیلز منیجر فقیر الدین کے اکائونٹ میں 56 کروڑ روپے، رمضان شوگر مل کے اکائونٹنٹ ظفر اقبال انجم کے اکائونٹ میں 52 ارب روپے، رمضان شوگر مل کے ہی ملازم تنویر الحق کے اکائونٹ میں 52 کروڑ روپے، اسی مل کے کلرک کاشف مجید کے اکائونٹ میں 461 ملین روپے اور مسعود انور کے اکائونٹ میں 230 ملین روپے کی رقم آئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ طویل لسٹ ہے، ان دس سالوں میں جو کچھ ہوا اس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں، آج اسی کرپشن کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام ٹرانزیکشنز بینکوں سے ہوئی ہیں، یہ دستاویزی ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 7 ارب 32 کروڑ روپے کے نیب ریفرنس میں شہباز شریف نے ان وارڈ ٹی ٹیز کیں، نصرت شہباز کے اکائونٹ میں 26 مشتبہ ٹی ٹیز آئیں جو 1.9 ملین ڈالر کی تھیں۔ اسی طرح حمزہ شہباز کے اکائونٹ میں 181 ملین روپے کی 23 جعلی ٹی ٹیز اور 2.98 ملین ڈالر آئے۔ سلمان شہباز کے اکائونٹ میں 18 ملین ڈالر مالیت کی 22 جعلی ٹی ٹیز آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ اور یو اے ای سے جن لوگوں کے ناموں سے یہ ٹی ٹیز آئیں ان میں پنڈ دادن خان میں پاپڑ فروخت کرنے والے شخص منظور احمد، یو اے ای میں ایک دکان پر سیلز مین رمیز شاہد، پتوکی کے ذیشان جاوید، گوجرانوالہ میں سکریپ ڈیلر اظہر مغل، فیصل آباد میں سیلز مین رانا ظہیر، حیدر آباد میں سیلز مین عدنان انور شامل ہیں۔ یہ تمام ٹی ٹیز سلمان شہباز، حمزہ شہباز، نصرت شہباز اور شہباز شریف کے نام پر آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسز رابعہ عمران نے 0.75 ملین ڈالر کی 10 مشتبہ ٹی ٹیز وصولی کیں جبکہ جویریہ علی نے 0.28 ملین امریکی ڈالر کی ٹی ٹیز وصول کیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ شہباز شریف کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران ان مشتبہ اکائونٹس سے ہونے والی مشتبہ ٹی ٹیز کا جواب دینا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے عوام کا پیسہ لوٹا ہے، یہ پیسہ عمران خان کا اور ہمارا ذاتی پیسہ نہیں، یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ ہے، ہم جب بھی احتساب کی بات کرتے ہیں تو ہم اس پیسے کو پاکستان کے لوگوں کے حوالے کرنے کی بات کرتے ہیں، یہ اہم پراسیس ہے، اس میں رکاوٹ یہی ہے کہ اس میں مقدمات روزانہ کی بنیادوں پر نہیں چل رہے۔ انہوں نے کہا کہ آج شہباز شریف پریس کانفرنس اس لئے کر رہے ہیں کہ ان کے کیسز پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت نہیں ہو رہی۔ ہمارا عدالتوں سے مطالبہ ہے کہ ان مقدمات کی روزانہ کی بنیادوں پر سماعت ہونی چاہئے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ برطانیہ میں شہباز شریف بری ہوتے ہیں تو اسے ان کی بریت سمجھا جائے لیکن یہاں پر عدالتوں میں وہ اپنے بچوں کے کیسوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام مشتبہ ٹی ٹیز شہباز شریف کی وزارت اعلی کے دوران ممکن ہوئیں کیونکہ وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلی تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شہباز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں نیب پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل سلیم شہزاد کے دورہ برطانیہ کا بار بار ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ ایک کورس میں شرکت کے لئے تھا، برطانوی حکومت نے پاکستان میں نیب اور ایف آئی اے افسران کو اس کورس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ یہ کورس امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کے درمیان وائیٹ کالر کرائم پارٹنر شپ کا حصہ تھا۔ سلیم شہزاد اکیلے نہیں گئے، باقی دنیا کے لوگ بھی اس میں شرکت کے لئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سلیم شہزاد کے ساتھ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب مدثر حسن، شہزاد سلیم، عمر دراز رندھاوا، سید فرید علی، ثمینہ چنگی، مجاہد اکبر، افتخار الحسن شاہ، فیض احمد فیض (ایف بی آر)، عاصم چاند بھی گئے۔ وہ برطانیہ اس کیس کے لئے کبھی نہیں گئے۔ قبل ازیں پریس کانفرنس کے آغاز میں انہوں نے بتایا کہ آج وزیراعظم کو دو اہم پریزنٹیشنز دی گئیں، ہم مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات پیش کریں گے، مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد اصلاحات حتمی ہو جائیں گی، ہم ایک سال سے کوشش کر رہے ہیں کہ اپوزیشن سے گفتگو ہو اور ہم ان اصلاحات پر آگے بڑھ سکیں، ہماری کوشش اب بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی کمی کے پیش نظر ہم مشترکہ اجلاس طلب کر رہے ہیں تاکہ انتخابی اصلاحات پر جامع قانون سازی ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کو سینیٹ کا رکن بنانے کا فیصلہ کیاہے، وزارت پارلیمانی امور اور وزارت قانون تفصیلات طے کر رہی ہیں، جو بھی فیصلہ ہوگا، اس بارے میں آگاہ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں