12

محکمہ بلدیہ محراب پور نے تجاوزات کیخلاف آپریشن کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا

نوشہروفیروز،تجاوزات کیخلاف آپریشن کو محکمہ بلدیہ محراب پور نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا، عدالتی حکم پر محکمہ بلدیہ محراب پور، اسٹنٹ کمشنر اور محکمہ انسداد تجاوزات کا شہر کے مخصوص علاقوں میں جانبدارنہ آپریشن، سماجی رہنمائوں اور صحافیوں کو دھمکیاں۔
تفصیلات کے مطابق محراب پور میں تجاوزات کیخلاف کیا جانے والا آپریشن اپنے آغاز سے قبل ہی متنازعہ بن گیا باب فروس سے لودھی چوک تک تجاوزات پر قائم کمبوہ آئرن اسٹور، جٹ برادران فرنیچر شو روم، عید گاہ دکانیں، پیٹرول پمپ، لودھی چوک اور پولیس تھانہ کیساتھ تعمیر شدہ غیر قانونی دکانیں اورقائم تجاوزات ختم کرنے کی بجائے محکمہ بلدیہ محراب پور، اسٹنٹ کمشنر اور محکمہ انسداد تجاوزات نے بھاری رشوت لیکر پسند من پسند کی بنیاد پر آپریشن کیا جس سے چھوٹے تاجروں، دکان داروں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہیاس متنازعہ آپریشن کیخلاف مشتعل تاجروں یونس رفیق ملک، سماجی رہنما وقار احمد، محمد عامر، مانی مغل، محمد رضوان عرف کاکا اور صحافی منیراحمد میمن، کاشف کمبوہ نے احتجاج بھی کیا، رہنماں کا کہنا تھا کہ لودھی چوک، پولیس تھانہ، محکمہ ڈاک خانہ پر غیر قانونی دکانیں اور لکڑی کی کیبن رکھ کر غیرقانونی تجاوزات آپریشن کرنے والی انتظامیہ کو نظر نہیں آتی جبکہ شاہی بازار ،کپڑا مارکیٹ، حسینی چوک، نیوٹان میں قائم تجاوزات کے باعث گاڑیوں کا گزرنا مشکل ہے پیدل چلنے والوں کو تکالیف کا سامنا ہے لیکن آپریشن صرف ریڑھی، ٹھیلے یا چھوٹے دکاندار، تاجروں کیخلاف کیا جاتا ہے جس کی ڈپٹی کمشنر نوشہروفیروز کیساتھ عدلیہ کو بھی تحقیقات کرانی چاہے کہ آپریشن کی آڑ میں کیا مقاصد ہیں، کل جماعتی اتحاد کے سربراہ یونس رفیق ملک نے محراب پور میں اس جانبدارانہ آپریشن کو رد کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر تاشفین عالم کی زیر نگرانی محکمہ انسداد تجاوزات کے ذریعے آپریشن کا مطالبہ کر دیا، پاکستان تحریک انصاف تحصیل محراب پورکے صدر مجاہد علی سامیٹو، پی پی پی رہنما آغا بشیراحمد، جماعت اسلامی رہنما ندیم غوری، پاکستان فلاح پارٹی کے رہنما ارشد مغل قادری سمیت دیگر سیاسی، سماجی تنظیموں نے بااثر سیاستدانوں کی تجاوزات چھوڑ کر باب فردوس سے آپریشن شروع کرنے کی بجائے مخصوص علاقوں پر پسند من پسند کی بنیاد پر آپریشن کو متنازعہ کرنے کی منصوبہ بندی پر جانبدارانہ آپریشن کیخلاف مزاحمتی تحریک چلانے کیساتھ اس یک طرفہ آپریشن کیخلاف اعلی افسران اور عدلیہ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں