Tuesday, May 28, 2024
ہومپاکستانپاکستان میں مریضوں کے محفوظ علاج کے لئے فارماکو ویجیلنس کی اہمیت پر سمپوزیم کا انعقاد

پاکستان میں مریضوں کے محفوظ علاج کے لئے فارماکو ویجیلنس کی اہمیت پر سمپوزیم کا انعقاد

اسلام آباد(آئی پی ایس) مریضوں کو علاج کے دوران ادویات کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے قومی سطح پر ادویات کی نگرانی اور ایسے واقعات کی بر وقت اطلاع کے پروٹوکول کو بہتر بنانے کے لئے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ )اور پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن (پی پی اے )نے ڈاکٹر اکبر نیازی ٹیچنگ ہسپتال (اے این ٹی ایچ )کے تعاون سے “فارماکو ویجیلنس کے ذریعے مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانے” کے عنوان سے ایک اہم سمپوزیم کا انعقاد کیا۔

سمپوزیم کے بعد، اے این ٹی ایچ، ڈریپ، اور پی پی اے نے مشترکہ طور پر ڈریپ کے نیشنل فارماکو ویجیلنس سینٹر سے منسلک ہسپتال کے فارماکو ویجیلنس سینٹر کا افتتاح کیا۔


ڈریپ کے سی ای او عاصم رؤف، پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے صدر سردار شبیر احمد، اور ڈریپ کے فارمیسی سروسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبید اللہ سمیت معززین نے، اکبر نیازی ٹیچنگ ہسپتال میں منعقدہ سمپوزیم کو اپنی شمولیت سے شرف بخشا، اور فارماکو ویجیلنس کے تحت اقدامات میں صحت کے شعبہ سے وابسطہ تمام ادارون کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔


اے این ٹی ایچ اور اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر یاسر خان نیازی، ڈائریکٹر ہاسپٹلز ڈاکٹر راجہ امجد محمود، ڈائریکٹر اے این ٹی ایچ ڈاکٹر اریج نیازی، ہسپتال کے کلینکل ایچ او ڈیز، اور فارماسسٹ کے علاوہ دیگر صحت کے اداروں کے افراد نے بھی شرکت کی۔
سردار شبیر نے حاضرین سے خطاب کیا اور ادویات کے منفی رد عمل کی اطلاع دینے اور ہر مریض کو منشیات کے منفی ردعمل سے بچانے کے لیے ہسپتالوں کی سطح پر فارماکو ویجیلنس کے عمل کو نافذ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔


اس موقع پر بات کرتے ہوئے یاسر نیازی نے کہا کہ چونکہ پاکستان میں اے ڈی آررپورٹنگ کی شرح نہایت کم ہے اور ڈبلیو ایچ اوکے معیار پر پورا نہیں اترتی، اس لئے اکبر نیازی ہسپتال آگے بڑھ کر ادویات کے مضر اثرات سے متاثرہ مریضوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے اے ڈی آررپورٹنگ کے نظام کو مربوط بنانے میں ڈریپ اور فارماسسٹ ایسوسی ایشن کی مدد کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔


انہوں نے ملک میں بڑے پیمانے پر خاص طور پر دیہی علاقوں میں اس کے ممکنہ مثبت اثرات کی خاطر فارماکو ویجیلنس کو طب کی تعلیم کے نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔


عاصم رؤف نے اس موقع پر کہا، “یہ باہمی تعاون پختہ لگن اور اسٹریٹجک کوآرڈینیشن کے ساتھ مضبوط فارماکو ویجیلنس پروٹوکول کے ذریعے مریضوں کی تحفظ کے لئے ادویات کے منفی رد عمل سے نمٹنے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو گا۔


“ڈاکٹر عبید اللہ نے مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں رپورٹنگ کی شرح کو بڑھانے کے لیے آگاہی پھیلانے کی منصوبہ بندی اور نفاز، تکنیکی ڈھانچہ قائم کرنا، حفاظتی معمولات کے جائزہ کے لئے ماہرین کے پینلز کا قیام، ٹیموں کی صلاحیت میں تربیت کے ذریعے بہتری لانا جیسے اقدامات اس باہمی تعاون کے مقاصد میں شامل ہیں۔ انہوں نے آنے والے دنوں میں VigiFlow پائلٹ پراجیکٹس کے آغاز اور بروقت ریگولیٹری فیصلوں اور سگنل کا پتہ لگانے کے لیے پبلک ہیلتھ پروگرام کے ساتھ فعال نگرانی کے نظام کے نفاذ کے متعلق آگاہ کیا۔

سردار شبیر اور عاصم رؤف نے ادویات کے مریضوں پر منفی رد عمل کی رپورٹنگ جیسے مسئلے کو حل کرنے میں فعال کردار ادا کرنے پر اکبر نیازی ٹیچنگ ہسپتال انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ یہ سمپوزیم تمام شرکاء، خاص طور پر فارماسسٹ اور معالجین، کے لیے علم سے بھرپور پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ اکبر نیازی ہسپتال، ڈریپ، اور فارماسسٹ ایسوسی ایشن کا باہمی تعاون کو جاری رکھنے کا فیصلہ فارماکو ویجیلنس کے ذریعے پاکستان میں مریضوں کی دیکھ بھال کو مکمل محفوظ بنانے کےلئے ان اداروں کے مشترکہ عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔