Friday, March 1, 2024
ہومتازہ ترینبھارت انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہراساں کرنا بند کرے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مطالبہ

بھارت انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہراساں کرنا بند کرے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مطالبہ

نئی دہلی (سب نیوز)ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کے قوانین کا استعمال، ڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کر نے کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹیف)بھارت پر دباو ڈالے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل، چیریٹی اینڈ سیکیورٹی نیٹ ورک اور ہیومن رائٹس واچ نے فیٹیف پر زور دیا ہے کہ وہ ہندوستانی حکومت پر دبا ڈالے کہ بھارت انسانی حقوق کے محافظوں، کارکنوں کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے قوانین کا اطلاق بند کرائے اور غیر منافع بخش تنظیموں کے کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائیوں، ڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرے۔عالمی انسانی حقوق کے نگراں ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ فیٹیف کے ارکان غیر قانونی فنڈنگ سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کے ریکارڈ کا چوتھا متواتر جائزہ 6 نومبر کو شروع کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام شہری جگہ کو محدود کرنے اور اظہار رائے، انجمن اور پر امن اجتماع کے حقوق کی آزادیوں کو سلب کرنے کے لیے ایک منظم مہم کے حصے کے طور پر فیٹیف کی سفارشات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہندوستانی حکومت نے خاص طور پر سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ آبادیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے انسانی حقوق کے گروپوں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے اقدامات فیٹیف کے معیارات اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون دونوں کی خلاف ورزی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے چیئر آف بورڈ آکر پٹیل نے کہا، ہندوستانی حکام نے ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں، کارکنوں اور غیر منافع بخش تنظیموں کی انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کالے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی سرکار فیٹیف کے معیارات کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے ناقدین کو نشانہ بنانے، ڈرانے، ہراساں کرنے اور خاموش کرنے کے لیے جعلی غیر ملکی فنڈنگ اور دہشت گردی کے الزامات لگا رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارتی حکام نے قانون کو بطور ہتھیار انسانی حقوق کے محافظوں، کارکنوں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے خلاف استعمال کیا ہے اور اس کی آڑ میں ان پر حملے کیے گئے، انہیں ڈرایا، دھمکایا اور ہراساں کیا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا ستمبر 2020 میں اپنے بینک اکاونٹس کو منجمد کرنے کے ذریعے پی ایم ایل اے کے تحت کارروائی کا سامنا کر رہی ہے، اس کے کام کو پچھلے 3 سالوں سے روک دیا گیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ میں ایشیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا کہ بھارت نے 3 قوانین ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر نافذ کر رکھے ہیں جس کے نتیجے میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے فیٹیف پر زور دیا کہ اسے ہندوستانی حکومت کو اپنے سیاسی مقاصد، تنظیم کی سفارشات کا استحصال کرنے، تمام قسم کے اختلاف رائے کو خاموش کرانے کے لیے قانون کو بطور ہتھیار استعمال کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔