261

شوروغوغا یوٹیوبرز و صحافیوں کو نئے آرمی چیف کی لابنگ کا ٹھیکہ کس نے دیا؟

دانستہ یا نادانستہ ادارے کے وقار اور اتحاد کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا سدباب لازمی ہے، فہد حسین کے تجزیے نے شوروغوغا بریگیڈ کے پہنچائے نقصان کا ڈیمیج کنٹرول تو کر دیا مگر اب اس کا راستہ رکنا لازم ، بہتر یہ ہی ہو گا کہ جس کا کام اسی کو ساجھے ڈیفنس رپورٹر و تجزیہ نگار احمد منصور کا بلاگ

نہ یہ پہلی مرتبہ ہوا، نہ آخری مرتبہ۔ حقائق اور پراپیگنڈے کی جنگ میں پراپیگنڈے کو ہر جانب سے حاصل حمایت کے بعد غلط کا ادراک ہونے کے باوجود باقی سب کی طرح ہمیں بھی “جو ہوتا ہونے دو” میں ہی عافیت نظر آنے کی عادت ہو چلی ہے مگر معتبر صحافت کو ہمیشہ مقدم رکھنے والے محترم فہد حسین صاحب نے جھنجھوڑ ڈالا، مثبت سوچ و مقصد کے ساتھ پس پشت کر دی گئی حقیقت کو سامنے رکھنے کی اس کوشش میں اپنا سا حصہ شامل کررہا ہو۔ شائد کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات۔مزید کوئی تمہید نہیں، سیدھی سادی صاف بات کرتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی تبدیلی کا منظر نامہ ہے، سوشل میڈیا خاص طور پر شوروغوغا یوٹیوبرز بریکنگ نیوز دیتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی پشاور کور کمانڈ کرنے جارہے ہیں، نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کا نام بھی سامنے آجاتا ہے۔ یہاں رکئے۔ یاد دہانی کراتا چلوں، مین اسٹریم میڈیا پر ڈیفنس بیٹ کورکرنے والے صحافی، جن میں راقم بھی شامل ہے، بھی یہ اور ایسی خبر رکھتے ہیں مگر جب تک آفیشل نہ ہو، ایسی خبریں نہیں دی جاسکتیں۔واپس سوشل میڈیا اور شوروغوغا یوٹیوبرز پرآئیں، جہاں بات خبر بریک کرنے کی ہے ہی نہیں، اصل واردات تو اس خبر کو بنیاد بنا کر دانستہ، نادانستہ ایک تشویش ناک اور خطرناک کھیل کھیلنے کی ہے۔تجزیوں، دلائل، کا طوفان مچایا جاتا ہے، جانے والے ڈی جی آئی ایس آئی کو ابھی سے کنفرم اگلا آرمی چیف بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہ یہ ساری تبدیلی ہوہی اس لیے رہی ہے۔ سونے پر سہاگہ بزنس ریکارڈر کی ویب سائٹ پر لگی اسٹوری بھی اس کی چیخ چیخ کر گواہی دینے لگتی ہے اور یوں ماحول بنا دیا جاتا ہیکہ واقعی یہ سب ہو رہا ہے۔ شوروغوغا یوٹیوبرز و صحافی تو یہ سب کے فورا ہی نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب دل و جان سے متوجہ ہو گئے مگر نظم و ضبط کی بہترین مثال والے ادارے کو اس کا کتنا نقصان پہنچا گئے اس کا اندازہ یقینا ادارے کے ذمہ داران کو ہوا ہو گا، لیکن جناب فہد حسین نے نہ صرف اسے سمجھا، جانچا اور پھر ڈان میں تبادلوں کا حقیقی بیانیہ سامنے رکھ کر اپنے تئیں نقصان کنٹرول کی کوشش کی ہے۔فہد صاحب نے پاک فوج کے سربراہ کی تقرری کے روایتی اور نافذالعمل طریقہ کار کو پھر سے سامنے رکھا ہے جہاں چار سینئر موسٹ لیفٹیننٹ جنرلز میں سے ایک کا انتخاب وزیراعظم کرتے ہیں۔ زیرغور آنے کے لیے لازم ہے کہ تھری اسٹار افسر نے کور بھی کمانڈ کر رکھی ہو۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کور ملنے کے بعد یقینا آرمی چیف کے لیے زیر غور آنے والوں کی لسٹ میں شامل ہوئے ہیں مگر اس میں اہم بات یہ ہے کہ پاک فوج کے تین جرنیل پہلے ہی یہ معیار حاصل کر چکے ہیں۔ سب سے پہلا اور بنیادی سوال۔ کیا نئے آرمی چیف کون ہوں گے، کا سوال تیرہ ماہ پہلے اٹھایا جاتا ہے؟ کیا یہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی کمانڈ کمزور کرنے کی مذموم کوشش تو نہیں کہ سب تیرہ ماہ پہلے ہی اس کی خوشنودی میں لگ جائیں جس نے نیا چیف بننا ہو؟دوسرا سوال۔ کیا ریاست کے سب سے منظم ادارے کی چین آف کمانڈ میں آرمی چیف بننے کی دوڑ کا تاثر پیدا ہونا فائدہ مند ہے؟تیسرا سوال۔ کیا ایسا شوروغوغا بہترین کیریئر رکھنے اور ملک و قوم کے لیے طویل خدمات انجام دینے والے افسر کو اپنے ساتھی جرنلز کے مقابلے پر لا کھڑا کرنے جیسا تاثر نہیں دے گا؟چوتھا اور آخری سوال۔ آئینی ادارے کے سربراہ کا تقرر وزیراعظم کا اختیار ہے، کیا ایسا شوروغوغا ایک انتہائی پیشہ وارانہ نوعیت کے فیصلے پر اثر انداز ہونے اور اسے متنازعہ بنانے کی کوشش و سازش نہیں ہے؟بات ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی نہیں، جواب تو واضح ہے۔ لازم ہے کہ کسی بھی وجہ سے اور کسی کی بھی وجہ سے بات یہاں تک پہنچ چکی ہے تو مزید بگڑنے سے پہلے سنبھالا جائے۔ان شوروغوغا والوں کو جب “ذرائع” سے درست معلومات دی جاتی ہیں تو ساتھ یہ کریڈیبیلٹی بھی بخش دی جاتی ہے کہ وہ پھر جو چوکے چھکے ماریں انہیں بھی سچ مانا جائے، ہر جھوٹا بیانیہ پروان چڑھے چاہے ادارے کی ساکھ دا پر کیوں نہ لگا دیں۔اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ نئے آرمی چیف اگر تیرہ ماہ بعد بننے ہیں تو وہ اس وقت کی سنیارٹی میں چوتھے نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بنیں، یا سنیارٹی میں پہلے تین نمبر میں شامل لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود یا لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس بنیں۔پاکستان اور پاک فوج کے لیے سب ایک سے بڑھ کر ایک ہوں گے۔ یہ میرا، کسی شوروغوغا بریگیڈ یا عوامی رائے کا معاملہ ہی نہیں کہ کون آرمی چیف بنتا اور کون ڈی جی آئی ایس آئی۔ اب دیکھ لیجئے گا لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم مایہ ناز انٹیلی جنس ادارے کو اپنی پیشہ وارانہ قیادت کے ذریعے مزید بام عروج دیتے ہیں۔ آخران کا چنا ایک دم تھوڑی ہوا، سپہ سالار کی خوبی ہی یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کس کھلاڑی کو کس پوزیشن پر کھلانا ہے۔ اس لیے اس بحث کو ایندھن دینے سے گریز بلکہ اس کا فوری تدارک ہونا چاہیے اور جس کا کام اسی کو ساجھے پر عمل ہونا چاہیے، مجھے یقین ہے ایسا ہو گا بھی۔یہاں یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ پالیسی سازوں کو ففتھ جنریشن وار سے نمٹنے کے طریقہ کار میں بھی بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، بھارتی میجر گورو آریہ جیسے سرٹیفائیڈ جھوٹوں کے مقابلے پر اس سے بھی آگے کے شوروغوغا یوٹیوبرز کو بغل بچہ بنانے کی بجائے فیک نیوز اور پراپیگنڈہ مشینری تیار کرنے کی حوصلہ شکنی کرنا چاہیے۔ یقین ہے کہ ایسا ہی ہو گا، اگر ایک عام دماغ کو یہ خطرات محسوس ہو رہے تو ہمارا قابل فخر ادارہ کیسے نظر انداز کرسکتا ہے۔ ورنہ اندازہ لگا لیں دس بیس سال بعد ہم کہاں کھڑے ہوں گے جب ہماری ساری نئی نسل جھوٹ اور پراپیگنڈے کو کیریئر بناچکی ہوگی کہ عزت، دولت، شہرت اسی شوروغوغے میں ہے۔

نوٹ
فہد حسین صاحب کی تجزیاتی تحریر کا لنک پیش خدمت ہے جو اس بلاگ کی بنیاد بنا۔

https://www.dawn.com/news/1650585/red-zone-files-the-big-reshuffle

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں