Thursday, April 18, 2024
ہومتازہ ترینخواتین کی معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے متعدد اقدامات کررہے ہیں، ثانیہ نشتر

خواتین کی معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے متعدد اقدامات کررہے ہیں، ثانیہ نشتر

اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیرعظم کی معاون خصوصی برائے غربت کا خاتمہ اور سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ پاکستانی خواتین بہت باصلاحیت ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے کی اہلیت رکھتی ہیں لہذا موجودہ حکومت ملک کی ترقی میں خواتین کا کردار بڑھانے اور ان کی معاشی حالت بہتر کرنے کے لئے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کا معیار زندگی بہتر کرنے کیلئے بہت سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کا 50 فیصد سے زائد ایجنڈا پسماندہ خواتین کی زندگیوں میں بہتری لانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے سے معاشرے اور معیشت کے لئے فائدہ مند پیدا ہوتے ہیں لہذا حکومت پاکستان میں 70 لاکھ خواتین کو غربت سے نکالنے کے لئے پرعزم ہے تا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی کیلئے بہتر استعمال کر سکیں۔ انہوں نے آئی سی سی آئی کو دعوت دی کہ وہ معاشرے میں خواتین کو مزید بااختیار کرنے کی کوششوں میں احساس پروگرام کے ساتھ مل کر کام کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خواتین کا عالمی دن منانے کے ایک تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پیس اینڈ کلچرل آرگنائزیشن کی چیئرمین مشال حسین ملک، جیب ریلی کی چمپئن محترمہ سلمی مروت خان، خودساختہ کاروباری خاتون محترمہ ناصرہ بیگم، اے ایس پی ٹریفک پولیس اسلام آباد عائشہ گل اور یونیورسٹی طالبات سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر آئی سی سی آئی کے صدر سردار یاسر لیاس خان، سینئر نائب صدر فاطمہ عظیم اور نائب صدر عبدالرحمن خان نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ہمراہ چیمبر میں خواتین کے لئے ایک ڈیجیٹل پورٹل کا افتتاح کیا۔ یہ پورٹل خواتین کو اپنے کاروبار کو بہتر فروغ دینے، کاروبار سے متعلقہ ورچوئل تقریبات میں حصہ لینے، کاروبار کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور مختلف تربیتی پروگراموں کے ذریعہ خواتین کی استعداد کار کو بہتر کرنے میں ان کو معاونت فراہم کرے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ خواتین ملک کی کل آبادی کا نصف سے زائد ہیں لہذا ملک کی پائیدار ترقی کیلئے خواتین کو معاشی دھارے میں لانا اشد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 10 فیصد سے بھی کم خواتین کو فنانشل سروسز تک رسائی حاصل ہے لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جن سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو فنانسنگ تک آسان رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو کاروبار شروع کرنے کرنے کیلئے بینکوں سے فنانسنگ حاصل کرنے میں بہت دشواری کا سامنا ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت خواتین کو سستے قرضے فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دے تا کہ وہ اپنا کاروبار شروع کر کے معاشی طور پر خودکفالت حاصل کریں اور ملک کی ترقی میں مزید موثر کردار ادا کر یں۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر نے حال ہی میں ایک ای کامرس سمٹ منعقد کیا ہے جس کا مقصد کاروباری مرد و خواتین کو آن لائن سیل بڑھانے میں سہولت فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کاروباری خواتین کی مصنوعات کی نمائش منعقد کرنے کے علاوہ ان کی نیٹ ورکنگ کو بڑھانے کے لئے مختلف پروگرام منعقد کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ وہ اپنے کاروبار کو بہتر فروغ دے کر معیشت کی ترقی میں مزید فعال کردار ادا کر سکیں۔پیس اینڈ کلچرل آرگنائزیشن کی چیئرپرسن مشال حسین مالک نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کو درپیش مشکلات اور چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے انٹرنیشنل اداروں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دلوانے کیلئے کردار ادا کریں تاکہ وہاں کی خواتین بھی بااختیار بن کر اپنا موثر کردار ادا کر سکیں۔چیمبر کی سینئر نائب صدرفاطمہ عظیم، محترمہ سلمی مروت خان اور دیگر مقررین نے بھی معاشرے میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین کو مضبوط بنانے کیلئے مزید سازگار پالیسیاں تشکیل دے تا کہ خواتین ملک و قوم کی ترقی میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکیں۔