25

چترال میں صحت مندخاندان پراجیکٹ کاآغازکردیاگیاہے،ظہورامان شا ہ

چترال(آئی پی ایس )آغاخان رول سپورٹ پروگرام چترال کے ریجنل پروگرام منیجرظہورامان شا ہ نے ایس ایم کے پراجیکٹ کے ایک روزہ سمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اوردوسرے کلیدی اسٹیک ہولڈرزکی مشاورت سے صحت مندخاندان پراجیکٹ کاآغازکردیاگیاہے جس میں تولیدی صحت کے سلسلے میں کام کیاجارہاہے تاکہ مجموعی طورپرصحت مندمعاشرے کی تشکیل ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ ملک اس وقت کووڈ 19 سے نبرد آزما ہے اوردیگر معاشی و معاشرتی مسائل بھی ملک کی ترقی میں حائل ہیں، اور اِن مسائل میں تولیدی صحت کے متعلق حقائق کی عدم دستیابی اور پیدائش میں مناسب وقفہ کے بارے میں موئثر معلومات کی عدم دستیابی سب سے بڑے مسائل ہیں۔ اِن موضوعات پر گفتگوکرنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے، اور اسی وجہ سے اس بارے میں غلط فہمایں عام پیداہورہے ہیں۔ اسی لیئے تولیدی صحت پر ذمہ دارانہ انداز میں مکالمہ کرنے اور مثبت حل ڈھونڈنے کے اے کے آرایس اپراورلوئرچترال میں سرکاری اداروں کے سربراہوں کے لئے اس سمینارکا انعقاد کیا گیاہے۔سمینارسے خطاب کرتے ہوئے پراجیکٹ منیجرگلگت بلتستان اورچترال فریدہ نازنے کہاکہ ایس ایم کے پراجیکٹ گلگت کے چھ اورچترال کے دواضلاع میں گذشتہ کئی مہینوں سے کام کررہے ۔اپراورلوئرچترال کے دوردرازاورپسماندہ علاقوں میں کمیونٹی سے مشاورت کے بعد25سنٹرزقائم کئے گئے ہیں جہاں10سے 13سال،14سے 16سال اور17سے 19سال کے بچوں اوربچیوں کے لائف اسکیل،منٹیل ہیلتھ،خود اعتمادی بھی پیداکرنے، اپنی ذہنی و جسمانی صحت کا خیال رکھنے،قدرت کی طرف سے عطا کی گئی صلاحیتوں کوصحیح معنوں میں استعمال واجاگر کرنے اوردوسرے موضوعات پروقتا فوقتا ورکشاپس اوردیگرپروگرامات منعقد کروائیں گے جن میں طلبا وطالبات اور کیرئر کانسلنگ کے ماہرین کی ملاقات ہو اور ہر طالب علم اپنے ذوق اور دلچسپی کے شعبوں کے بارے میں کھل کراظہار خیال کر سکے اور اس کے روشن وتاریک پہلوں سے آگاہی کے بعد بہتر فیصلے کی پوزیشن میں ہو ں گے ۔بنیادی طور پر سمجھنے والی بات یہ ہے کہ انسان جس کام میں مکمل دلچسپی لیتا ہے وہ کام نتائج کے اعتبار سے بھی کافی بہتر ہوتا ہے۔انہوں نے مینٹل ہیلتھ،بچوں کے کیرئیرکونسلنگ ،کمیونٹی میں آگاہی دیگرموضوعات پرگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ بد قسمتی سے جی بی اورچترال میں میں مناسب کریئر کونسلینگ نہ ہونے کی وجہ سے طلبا وطالبات تعلیمی سرگرمیوںاوردوسرے کاموں میں غلط فیصلے کرتے ہوئے غلط کریئر کا انتخاب کر کے اپنی زندگیاں برباد کر لیتے ہیں۔اس لئے حکومتی اداروں کے سربراہان سے گذارش کی جاتی ہے ان تمام مسائل پرقابوپانے کے لئے ہماری مددکریں ایک ساتھ مل کر ان تمام مسائل کوحل کرنے اور معاشرے کی تعمیروترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ریجنل ہیڈایس ایم کے پراجیکٹ چترال شمیم اخترنے کہاکہ صحت مندخاندان پراجیکٹ دیہاتی علاقوں میں تولیدی صحت کے حوالے سے مختلف آگاہی پروگرامات کررہے ہیں تاکہ ماں کی حیثیت اور صحت کی نگہداشت اور ماں اور بچے کی صحت کی دیکھ بھال کو بہتر بنایا جائے اس موقع سپرڈنینڈنٹ ضلعی انتظامیہ لوئرچترال ظاہرشاہ،پبلک پراسیکیوٹر ایاززرین ،ڈپٹی ڈی او محکمہ ایجوکیشن اپرچترال محمدغزنوئی ،سوشل ویلیفئر افیسراپرچترال ضیا الرحمن ،اے کے ایچ ایس پی کے عضمت شاہین،پاپولیشن افیسرمیربائض ،شکیلہ ایس ایم کے پراجیکٹ اے کے ایچ ایس پی چترال،آغاخان ایجوکیشن سروس کے جلال الدین اوردیگرنے کہاکہ لوگ خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اکثرجھجکتے اورشرم محسوس کرتے ہیں ۔خاندانی منصوبہ بندی سے ماں اوربچوں کی صحت کوفائدہ ہوتاہے ۔انہوں نے کہاکہ اکثرخواتین گھریلو پریشانی اور معاشرے کے رسم رواج کی بندیشوں کی وجہ ذہنی کھنچاو کا شکار ہوتے ہوئے خودکشی کرنے پرمجبورہوتے ہیں ۔اگرصحیح طریقے سے بچوں کی کونسلنگ کی جائے گی توعملی میدان میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔والدین اورمعاشرے کی غلط کیریئر کے انتخاب کا نقصان نہ صرف ایک فرد کو ہوتا ہے، بلکہ اس کا نقصان پوری سوسائٹی کو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال جیسے مثالی پر امن ضلع میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی رحجان باعث تشویش ہے اور ہمارے لیے لمحہ فکریہ بھی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صحیح معنوں میں تحقیق کرکے اس کی اصل وجوہات جانی جائیں اور ان کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ اپرچترال میں سرکاری سطح پر دارالامان یعنی محفوظ پناہ گاہ بھی ہونا چاہئے تاکہ جو خواتین گھر سے بددل یا بے گھر ہو وہ مایوسی کے شکار ہو کر خودکشی کرنے کے بجائے ان محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کرے۔ جس کے لئے ہم نے پی سی ون بنایاہے۔انہوں نے کہاکہ آج ایک بڑا مسئلہ منشیات کا استعمال ہے جسے سماجی برائی یا سماجی لعنت قرار دیا جاتا ہے ۔ منشیات کی پیداوار اور نشے میں استعمال کی مختلف صورتیں اور ان کے نتیجے میں اثر انداز ہونے والے عوامل انسانی زندگی کو بے حد نقصان پہنچاتے ہیں نشہ کی ترسیل اور استعمال کرنے والوں پر نگاہ رکھیں اور اس کی خرید وفروخت کو روکیں۔ جب تک عوام میں نشے کی لعنت کے خلاف شعور بیدار نہیں ہوگا اس وقت تک اس سے چھٹکارہ ممکن نہیں۔انہوں نے کہاکہ تولیدی صحت پر گفت و شنید کرنے کے لیئے ایک محفوظ اپلیٹ فارم مہیا کیا جائے، جہاں پر ماہرین اس موضوع پر درست اور کار آمد معلومات شرکا کو فراہم کرسکیں۔ورکشاپس ،سمیناراوردیگرپروگرامات کے ذریعہ عوام الناس میں پیدائش میں مناسب وقفے اور جنسی و تولیدی صحت کا شعور اجاگر کیا جائے گا۔سرکاری اداروں کی طرف سے ایس ایم کے پراجیکٹ کے ساتھ ہرقسم کے تعاون کی یقین دہانی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں