71

‏آپ اور میں ۔۔۔۔۔۔۔ حصہ دوم

‏آپ اور میں ۔۔۔۔۔۔۔ حصہ دوم
تحریر: صابر حسین
‎@SabirHussain43
تمہارا خیال تمہیں کہتا ہے کہ ماہر فنکار، قابل استاد، لیاقت کا مجسمہ، فلسفی اور امام بن جاؤ۔
لیکن میرا تخیل کہتا ہے کہ الفت رکھنے والا، محبت کرنےوالا، مخلص حق گو، مستقل مزاج قربانی کرنے والا اور صاحب نظر بنوں
تمہارا خیال تمہیں کہتا ہے کہ موسویت، مسیحیت، بُدھیت، ہندؤیت اور اسلامیت
لیکن میرا تخیل کہتا ہے کہ ایک مجرد مطلق دین کے سوا اور کچھ نہیں ہے گو اس کے ظہور کے طریقے بہت ہوئے پر وہ مجردومطلق ہی رہا گو اس کے راستے الگ الگ ہو گئے لیکن وہ نہ بدلا جیسے ہاتھ کی اُنگلیاں
تمہارا خیال تمہیں کہتا ہے کافر، مشرک، دہری،خارجی، زندیق،
لیکن میرا تخیل کہتا ہے، حیران وپریشان دل کمزورستایا ہوا اور عقل و روح سے عاری
تمہارا خیال تمہیں کہتا ہے کہ دولت مند، فقیر،مخیر اور صاحبِ استطاعت
لیکن میرا تخیل کہتا ہے کہ ہم سب محتاج ہیں۔ زندگی کے سوائے ہم سب حاجت مند ہیں اور زندگی کے سوا کوئی مخیر نہیں
میرا تخیل میے لیے ہے اور تمہارا خیال تمہارے لیے
تمہارا خیال تمہیں کہتا ہے کہ قومیں سیاسی جماعتوں،کانفرنسوں،تقریروں اور قراردادوں سے بنتی ہیں۔
لیکن میرا تخیل مجھے کہتا ہے کہ قومیں عمل سےبناکرتی ہیں اور عمل سخاوت اور مہربانی میں ہے عمل رنگریز کی بھٹی میں ہے عمل تعمیراورتخریب میں ہے اور عمل لکھنے اور چھپنے میں ہے
تمہارا خیال تمہیں کہتا ہے کہ قبیلوں کی عظمت و شرافت قبیلے کے جیالوں کی وجہ سے ہے اسی لیے نمرود بخت نصر، فرعون سکندر، قیصر اور نپولین کا ذکر جھوم جھوم کر کرتے ہو
لیکن میرا تخیل مجھے کہتا ہے کہ جیالے یہ لوگ تھے علی ابن طالب، غزالی، رومی وغیرہ
تمہارا خیال تمہیں کہتا ہے کہ زبردست طاقت بندوقوں، توپوں اور ٹینکوں وغیرہ میں ہے۔
لیکن میرا تخیل مجھے پورے جوش و یقین سے کہتا ہے کہ سچائی سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں اور سچی بات سے بڑا کوئی عزم نہیں۔ مانا کہ بسااوقات ساماں اور اسباب سے مدد لینے والوں کا دور کافی طویل رہا لیکن آخرکار وہ مغلوب ہو گئے۔
تمہارا خیال تمہیں کہتا ہے کہ جُز اور کل عمل اور تخیل تصرف اور مادیت کو جُدا جُدا سمجھا جائے۔
لیکن میرا تخیل کہتا ہے کہ زندگی میں یکتائی ہے جس کے بڑے وزن قیاس اور جدولیں ہیں جو تمہارے قیاسوں اور جدولوں پر پورے نہیں اُترتے۔ یہ ہوتا ہے کہ جسے تم خیالی انسان سمجھتے ہو وہ باعمل لوگوں میں سے ہوتا ہے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں تم مادہ پرست اور اجرائی سمجھتے ہو وہ وہمی ہوتا ہے۔
تمہارا خیال تمہارے لیے اور میرا تخیل میرے لیے
تم اپنے خیال کے پیچھے چلو جو کھنڈروں اور پتھروں میں بھٹک رہا ہے
لیکن میں اپنے تخیل کی نگہبانی میں ہوں جو جناب و سدیم میں خاموش ہے
تمہارا خیال تمہارے لیے ہے تم ساز لے کر اس کے گیت گاؤ اور پُرجوش رقص کرو
لیکن میرا تخیل تمہارے سازوں کی تاروں پر دم توڑنے کے لیے ایک آخری نغمہ ہے
تمہارا خیال تمہارے لیے ہے اور وہ تمام لوگوں کا فکر و خیال ہے۔
جو ملنا جلنا پسند کریں الفت رکھنا اور خوش رہنا چاہیں
میرا تخیل میرے لیے ہے اور یہ ہر اُس شخص کا تخیل ہے جس کا اس ک اپنے گھر میں کوئی نہ ہو اور جو اپنے بھائی بندوں میں ایک اجنبی ہو اور جس کے دابستگان اسے پاگل خیال کرتے ہیں
تم اپنے لیے سوچو اور میں اپنے لیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں