32

دماغی صحت کا عالمی دن : پاکستان میں ہر 3 میں سے ایک فرد ذہنی تناؤ کا شکار

‏ تحریر: رقیہ نعیم
@NaeemRuqia
دماغی صحت کا عالمی دن ہرسال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب کے قریب افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے کا شکار ہیں۔ پاکستان میں ہر تین میں ایک فرد اس مرض میں مبتلا ہے۔
اس دن کو منانے کا آغاز سنہ 1992 سے ہوا جس کا مقصد عالمی سطح پر ذہنی صحت کی اہمیت اور دماغی رویوں سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے
مختلف دماغی امراض میں سب سے ڈپریشن یا ذہنی دباؤ اور اینگزائٹی یا بے سکونی ہے جو بہت سی دیگر بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ عالمی معیشت کو ان 2 امراض کی وجہ سے صحت کے شعبے میں ایک کھرب ڈالرز کا نقصان ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ذہنی مسائل کا شکار افراد کے ساتھ تفریق برتنا، غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا اور ایسے افراد کو مزید تناؤ زدہ حالات سے دو چارکرنا وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے دماغی صحت میں بہتری کے اقدامات کے نتائج حوصلہ افزا نہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 7 کروڑ سے زائد افراد مختلف ذہنی امراض کا شکار ہیں جن میں بالغ افراد کی تعداد 5 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔
ذہنی تناؤ کیا ہے؟
ہم سب کو ہی اپنی زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر ذپنی تناﺅ کا سامنا ہوتا ہے، یہ ملازمت کا ہوسکتا ہے، گھر میں کسی پیارے کی بیماری یا مالی مشکلات وغیرہ۔ درحقیقت روزمرہ کی زندگی میں ہماری چھوٹی چھوٹی چیزیں یا انتخاب بھی ہمارے مزاج پر اندازوں سے زیادہ اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ دماغی صحت کے عالمی دن کی مناسبت سے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ذہنی تناﺅ جسم کے ساتھ ساتھ دماغی پر کس طرح اور کس حد تک مثبت یا منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
تناﺅ کا باعث کیا ہوتا ہے؟
ہر ایک کے لیے تناﺅ مختلف ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے کہ جو چیز آپ کو تناﺅ کا شکار کرے وہ آپ کے دوست کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔ مگر ہم سب کے جسم ایک ہی طرح تناﺅ پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ تناﺅ پر ردعمل آپ کے جسم کا سخت یا مشکل صورتحال سے نمٹنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ اس سے ہارمونز، نظام تنفس، خون کی شریانوں اور اعصابی نظام میں تبدیلیاں آسکتی ہیں، مثال کے طور پر تناﺅ کے نتیے میں دل کی دھڑکن تیز ہوسکتی ہے، سانس پھول جانا، پسینہ بہنے لگتا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ جسمانی توانائی کی ایک لہر بھی فراہم کرتا ہے۔
اچھا تناﺅ
کئی بار آپ خود کو کچھ وقت کے لیے تناﺅ کا شکار محسوس کرتے ہیں، عام طور پر اس پر فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر جب آپ کو ایک پراجیکٹ پر کام کرنا ہوتا ہے یا لوگوں کے سامنے خطاب کرنا ہوتا ہے، ہوسکتا ہے کہ اس وقت آپ کو پیٹ میں گڑگڑاہٹ سی محسوس ہو اور ہتھیلیوں پر پسینہ بہنے لگے۔
یہ مثبت تناﺅ سمجھا جاتا ہے جس کی مدت بہت کم وقت کی ہوتی ہے اور یہ جسم کا مشکل حالات سے گزرنے میں مدد دینے کا ذریعہ ہے۔
برا تناﺅ
مگر اکثر اوقات منفی جذبات بہت زیادہ پرتناﺅ ثابت ہوتے ہیں، جیسے آپ فکرمند، غصہ، خوفزدہ یا چڑچڑاہٹ کے شکار ہوں تو اس طرح کا تناﺅ آپ کے لیے اچھا نہیں ہوتا اور طویل المعیاد بنیادوں پر سنگین مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ تناﺅ کا اثر ہر ایک پر مختلف ہوسکتا ہے، مگر ذہنی تناﺅ کی متعدد وجوہات منفی اثرات مرتب کرتے ہیں جیسے کسی کی جانب سے بدزبانی یا توہین، بہت زیادہ محنت، ملازمت سے محرومی، شادی شدہ زندگی کے مسائل، شریک حیات سے علیحدگی، خاندان میں موت، تعلیمی اداروں میں مشکلات، خاندانی مسائل، مصروفیات اور حال ہی میں کہیں اور منتقل ہونا وغیرہ۔
طویل المعیاد تناﺅ
اگر آپ کے ذہنی تناﺅ کو طویل عرصے تک خود پر طاری رہنے دیں تو اس سے جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، خصوصاً جب یہ دائمی بن جائے۔ دائمی تناﺅ کی انتباہی علامات سے آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس سے بچ سکیں۔
اس کی جسمانی علامات درج ذیل ہیں
جسمانی توانائی میں کمی، سردرد، سینے میں تکلیف اور دل کی دھڑکن تیز ہوجانا، سونے میں مشکلات، یا بہت زیادہ نیند، مسلز میں تکلیف یا دباﺅ، کپکپاہٹ، کانوں میں گھنٹیاں بجنا، ہاتھوں اور پیروں میں سردی کا احساس یا پسینہ، منہ خشک ہونا اور نگلنے میں مشکل محسوس ہونا، ہاضمے کے مسائل، ہائی بلڈ پریشر، ازدواجی تعلقات میں تبدیلیاں
اس کی ذہنی علامات یہ ہوتی ہیں
یہ احساس کہ آپ کوئی کام ٹھیک سے نہیں کرسکتے، پل پل مزاج بدلنا، ذہنی بے چینی، بے سکون، زندگی بے مقصد محسوس ہونا، چڑچڑاہٹ، اداسی یا ڈپریشن، تناﺅ کا بہت زیادہ احساس
ذہنی تناﺅ کس طرح کا اثر مرتب کرتا ہے؟
ذہنی تناﺅ کا مسلسل شکار رہنا سردر، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، ذیابیطس، جلد کے امراض، دمہ، جوڑوں کے درد، ڈپریشن اور ذہنی بے چینی وغیرہ کا شکار بناسکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ذہنی امراض بڑھانے میں کورونا کی عالمی وبا نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہےکہ وائرس کا شکار زیادہ تر افراد میں 90 دن کے اندر دماغی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں ان صحت یاب افراد میں بے چینی، ڈپریشن اور بے خوابی کی شکایات عام ہیں۔ تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو افراد پہلے سے ذہنی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں ان میں کورونا میں مبتلا ہونے کے امکانات 65 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں