81

چترال میں خواتین کی صحت کو درپیش مسائل

تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر
جتنی ابھی برف پڑی ہے اس سے کچھ زیادہ ہی تھی تب دو سال ، کوئی چارپانچ فٹ تک۔ راستے رابطے بند ہو گئے تھے۔ میں جانوروں کے باڑے میں ان کو چارہ ڈالنے گئی تھی کہ سب بدل گیا۔ یہ کہنا تھا تیس سالہ زار بی بی کا جس کو ، شوہر کی غیرموجودگی میں اپنے سسرال میں اپنے پہلے حمل کے دوران ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا تھا۔ اچانک انکو پیٹ میں شدید درد محسوس ہوئی جس نے انھیں بے سدھ کر دیا ۔ جب انھیں ہوش آیا تو انکا اسقاط حمل علاقے کی ایک دائی کے ہاتھوں گھر میں ہوچکا تھا۔ زار بی بی کو حمل کے دوران بہتر خوراک نہ ملی اور نہ ہی شوہر کی غیر موجودگی میں سسرال سے وہ توجہ جو ایک نو بیاہتا دلہن کو ملتی ہے۔ ایک کمزور ماں ، ایک صحت مند بچی کو جنم دینے سے محروم ہو گئی جس کا درد انہیں اب بھی اسی طرح محسوس ہوتا ہے۔
گھر کے کام کاج کے ساتھ انہیں مویشیوں کی دیکھ بھال کرنا اور ان کو چارہ وغیرہ ڈالنابھی زار بی بی کی ذمہ داری تھی۔ ان کی والدہ نے انہیں کچھ روایتی خشک میوہ جات بھیجے جو ان کے نصیب میں نہیں تھے۔ چاہنے کے باوجود وہ کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس بھی وسائل اور توجہ کی کمی کے باعث نہ جا سکیں۔
گبور وادی چترال کا پسماندہ علاقہ ہے جو ایک طرف سے چترال سے تقریبا ً پانچ سے چھ گھنٹے کے فاصلے پہ ہےیہ وہ علاقہ ہے جہاں غربت اور پسماندگی کا اثر زچہ بچہ کی صحت پر واضح نظر آتا ہے۔
زار بی بی کے شوہرشادی کے چار ماہ کے بعد محنت مزدوری کے لئے پنجاب چلے گئے تھے ۔ جہاں وہ ایک تعمیراتی کام میں لیبر کے طور پر گزشتہ گیارہ سالوں سے کام کررہے تھے۔ جبکہ وہ گھر میں اپنی ساس اور ایک نند کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ جبکہ گھر کا دارومدار اور خاندان بھر کی گذر بسر شیر خان کے بھیجے ہوئے پیسوں پر تھی۔
زار بی بی کا کہنا تھاکہ پہلی بار حاملہ ہونے والی خواتین کو خصوصی غذا اور طاقت کی ادویات لینا ہوتی ہیں لیکن وہ صرف اس بارے میں سوچ سکتی تھیں۔ گاؤں میں موبائل فون کے سگنل نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہ تو اپنے شوہر کو کچھ بتاسکتی تھیں اور نہ گاؤں میں اپنی ماں کو۔ ایک دومرتبہ ان کی ماں نے گاؤں سے ان کے لئے دیسی گھی اور میوے بھیج دی لیکن ساس اور نند نے ان پر بھی ہاتھ صاف کیا۔ ایک دوپہر وہ جانوروں کوچارہ ڈالنے کے لئے باڑ ےمیں داخل ہونے والی تھی تو پیٹ میں اٹھنے والے درد کیوجہ سے وہ بے ہوش ہو گئیں جب ہوش آیا تو اپنے بیڈ پر تھیں اور ان کی ساس چند ہمسائیوں کے ساتھ ان کے پاس بیٹھی تھیں۔ وہ یہ وقت کبھی نہ بھلا سکیں جب درد کے مارے ان کی چیخیں آسمان تک پہنچتیں۔انہیں قریبی ہیلتھ سنٹر پہنچانا ممکن نہ تھا کیونکہ موسم کی پہلی برفباری کے ساتھ ہی گاؤں کی سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند ہوگئی۔ مناسب متوازن غذاء کی قلت سے اور گھر کے کام کاج کے بوجھ سے ، وقتاً فوقتاً چیک اپ نہ کروانے اور ٹرینڈ برتھ اٹینڈنٹ یا دائی کی خدمات نہ ملنے کی وجہ سے ان کی پہلی بچی ضائع ہوگئی ۔ زار بی بی کا کہنا تھا کہ وہ برف جو علاقے میں پڑی وہ انک ے ماں بننے کے ارمانوں پہ بھی پڑ گئی۔ کیونکہ انکی نومولود بچی مر ی ہوئی پیدا ہوئی۔
معروف گائناکالوجسٹ ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرہسپتال بونی اپرچترال ڈاکٹر زہرہ ولی خان نے دیہاتی علاقوں میں خواتین کوصحت کے حوالے سے درپیش مسائل پر خصوصی گفتگوکرتےہوئے بتایاکہ یہاں زچہ بچہ کی صحت کے حوالے سے حالات بہت توجہ طلب ہیں۔ تحصیل مستوج کے بالائی دیہات ،تحصیل موڑکہوکےعلاقہ لوٹ اویر،گہکیر،کشم اوردوسرے دیہاتوں میں اکثر زچگی گاؤ ں کی غیر تر بیت یا فتہ دائیو ں کے ہا تھوں انجا م پاتی ہیں۔ دوران زچگی ما ؤ ں کی اموا ت کی ایک بڑ ی و جہ غیر تر بیت یا فتہ دائیاں بھی ہیں ۔ دیہی علاقوں میں خواتین کی جسمانی مشقت زیادہ اورصحت کی دیگر سہولیات میسرنہ ہونے کی وجہ سے ماوں اوربچوں کی اموات دوسرے علاقوں سے زیادہ ہوتی ہیں ۔
مختلف رپورٹس بتاتی ہیں کہ جنوبی ایشائی ممالک میں پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عورتوں کی بڑی تعداد زچگی کے دوران وفات پا جاتی ہے۔ ایک تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ عورتوں کی صحت معاشرے کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ وہ ایک گھر کو چلانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ لیکن پاکستان جیسے ممالک میں انہیں مردوں کے مقابلے میں معیاری صحت کی سہولتوں کے حصول میں انکو بے پناہ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ زچگی کے عمل کو اگر بہتر طبی سہولتوں کی مدد سے محفوظ کیا جائے تو عورتوں کی ایک بڑی تعداد اپنے نو زائیدہ بچے کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہیں۔ یونیسف کی دوہزار اٹھارہ کی رپورٹ پاکستان میں متوازن غذا کے حوالے سے جو حقائق سامنے لائی تھی وہ خوش آئین نہں ہیں۔ بلکہ بدترین خاکہ پیش کرتے ہیں۔ اس میں کرونا کی وبا کی وجہ سے مزید اضافے ہوچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں