16

خس کم جہاں پاک

خس کم جہاں پاک
حمیرا الیاس
@humma_g
کسی زمانے کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک سمجھدار انسان رہتا تھا، ساتھ والے گاؤں کے دو بھائی اس سے بہت خار کھاتے تھے کہ اپنی عقلمندی سے ہر مشکل سے نکل جاتا۔ ایک دن انہوں نے اپنی جانب سے سوچا کہ آج تو اسے گھیر ہی لینا، دونوں بھائی اس عقلمند کے ساتھ ایک محفل میں بیٹھے تھے باتوں باتوں میں اپنی جانب سے اسے گھیرتے کہنے لگے، اگر ہم تمہیں ایک کہانی سنائیں تو یقین کرو گے۔
عقلمند آدمی نے کہا بالکل یقین کروں گا۔
وہ کہنے لگے اگر تم نے ہمیں جھوٹا کہا توتمہیں سوروپے دینا پڑیں گے۔۔
عقلمند کہتا ٹھیک ہے نہیں کہتا۔
وہ دونوں بھائی بہت خوش ہوئے کہ اب سو روپے ملیں گے،ایک نے کہانی سنانی شروع کی ” ہمارے گاؤں میں ایک بیل ہے جو ایک نہر میں رہتا، اور وہ اتنا دودھ دیتا کہ ہم صبح شام اس دودھ کو ارد گرد کے دیہاتوں میں بیچتے بھی، خوب سیر ہو کر پیتے بھی پھر بھی وہ تالاب بھرا ہی رہتا دودھ سے۔”
اب وہ دونوں انتظار کرنے لگے کہ عقلمند انسان انہیں جھوٹا کہے تو وہ سوروپے کا مطالبہ کریں، لیکن وہ عقلمند سارا معاملہ سمجھ گیا اور کہتا واہ واہ کمال بیل ہے جب تمہارے گاؤں آیا تو ضرور دیکھنے آؤں گا۔
بھائیوں کو ہکا بکا چھوڑ وہ شخص اپنے گھر گیا، اور بیوی کو سب واقعہ سنا کر کہنے لگا اب تھوڑے دن صبر کرو دیکھنا میں سو روپے نکلوا کر رہوں گا۔
کچھ ہی دن بعد وہ دونوں بھائیوں کے پاس گیا، سلام دعا کے بعد بات چیت کے دوران عقلمند نے پوچھا، تمہارے والد صاحب دکھائی نہیں دے رہے کام تھا ان سے،بھائیوں نے کہا کچھ دن پہلے انتقال کرگئے،عقلمند کہتا، اوہ بہت افسوس ہوا، ایک بات ہے مجھے جھوٹا تو نہ کہو گے، دونوں بھائی کہتے نہیں کہیں گے۔ لیکن عقلمند کہتا اگرمجھے جھوٹا کہا تو سو روپے دینا پڑیں گے،دونوں مان گئے، اب عقلمند نے کہا کہ تمہارے والد نے میرے سو روپے دینا تھے، سمجھ سے باہر ہے اب وہ سو روپے کیسے واپس لوں۔
دونوں بھائی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے کہ جھوٹا کہیں تو بھی سو روپے دیں،سچا کہیں تو بھی،بالآخر کہتے یہ لو بھائی سو روپے لو، لیکن والد صاحب کے لئے دعا کردو۔
اس کے نکلتے ہی دونوں بھائیوں نے تہیہ کیا کہ اب اس سے بدلہ لیا جائے گا۔
ادھر عقلمند سو روپے لئے گھر جا رہا تھا، تو راستے میں ایک آدمی نظر آیا جو ایک جیسے سفید خرگوشوں کی جوڑی بیچ رہا تھا، اسنے بیس روپے کی جوڑی خریدی، گھر لے جا کر بیوی کو کہتا، نیک بخت سو روپے آئے،بیس کی یہ خرگوشوں کی جوڑی،اور اسی روپے پکڑو، تھوڑے دن بعد دونوں بھائیوں نے لازم بدلہ لینے آنا ہے تب یہ کام آئیں گے۔
اس نے ایک خرگوش ڈیرے پر لے جاکر باندھ دیا ایک گھر میں، اور ان دونوں بھائیوں کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
اور وہی ہوا، دونوں بھائی کچھ ہی دن بعد تلملائے ہوئے اس کے ڈیرے پہنچے کہ کسی طرح اس سے اپنا سو روپیہ واپس لیا جائے۔ وہ پہنچے ہی تھے کہ عقلمند نے بڑے تپاک سے اس کا استقبال کیا اور کہتا میرے بھائیو آج تو کھانا کھائے بنا جانے ہی نہیں دینا ایک منٹ میں گھر پیغام پہنچا آؤں۔ خرگوش کے پاس پہنچا اس کی رسی کھول کر پیار کیا اور کہتا، “گوشی میاں، فوری گھر جاکر بے بے سے بولو روٹی بنائے دو مہمان آئے ہیں” اور خرگوش کو چھوڑ دیا۔ خرگوش بھاگتا ہوا کھیت میں غائب ہوگیا۔ عقلمند انسان دونوں کو حقہ دے کے کہتا تم لوگ سستا لو، میں ذرا جانوروں کا چارہ لے آؤں پھر گھر چلتے کھانا کھانے وہاں سے نکل کر گھر آ کر بیوی کو کھانا بنانے کی ہدایت کرکے چارہ لے کر واپس پہنچا اور کہتا چلو بھائیو گھر چلیں گھر گوشی نے بتا دیا ہوگا، کھانا تیار ہو گیا ہو گا۔ مزے سے تینوں بھائی مل کر کھاتے ہیں۔ گھر پہنچے توخرگوش کو گھربندھا دہکھ کر دونوں بھائی ہکا بکا رہ گئے، اور لگے اصرار کرنے کہ بھیا یہ لو ہزار روپے اور ہمیں یہ خرگوش بیچ دو۔۔
لیکن عقلمند کی بیوی اڑ گئی،کہتی یہ تو اتنا کام کا خرگوش مجھے نہیں بیچنا، بہت اصرار کرتے کرتے پانچ ہزار پر سودا طے کرکے،گردن اکڑائے خرگوش دونوں بھائیوں نے ڈیرے پر باندھ دیا اور لگے مہمان کاانتظار کرنے کی سارے علاقہ پر ہماری دھاک جم جائے۔ ایک دن مہمان آئے انہوں نے فوری مہمان کو بٹھایا اور خرگوش کو گھر بھگایا کہ کھانے کا کہہ دو۔
بڑی شان سے اتراتے گھر کھانا کھانے پہنچے تو الٹا بیویوں نے کہا کہ خرگوش بھی کبھی پیغام رساں ہوتے تم لوگ کبھی تو کوئی عقل کا کام کیا کرو، ہر وقت اپنا ہی نقصان کرتے رہتے ہو۔
سب دونوں بھائی پھر بہت تلملائے اور واپس اس عقلمند کے پاس جانے کاسوچا۔
ادھر عقلمند کو پہلے سے پتا تھا کہ وہ چپ نہیں بیٹھیں گے اور واپس آئیں گے, اس نے ایک بکری لے جا کر گھر باندھی اور بیوی کو کہا جب وہ دونوں آئیں گے میں تمہیں کھانا بنانے کا کہوں گا، تم انکار کرنا غصہ کرکے اندر جانا، جاتے جاتے بکری چپکے سے اندر لے جانا باقی میں سنبھال لوں گا۔
وہی ہوا، تھوڑے دن بعد بدلہ لینے دونوں بھائی آن پہنچے، ابھی بات شروع بھی نہیں کی تھی کہ عقلمند کہتا، ایک منٹ میں کھانے کا بول دوں پھر تسلی سے بات کرتے، اپنی بیوی کو آواز لگائی، کہتا “جا بھلئے لوکے روٹی پکا مرے یار آئے ہیں اتنی دور سے” اب پلان کے مطابق بیوی نے ہٹ دھرمی سے انکار کیا، بات تو تو میں میں تک پہنچی، اور بیوی غصے میں پیر پٹختی اندر چلی گئی، اور ساتھ بکری کو بھی اندر لے گئی۔
ادھر عقلمند غصے میں تپا بیٹھا، ایکدم اٹھا اور ٹوکہ پکڑ لایا کہتا اسے بس میں چھوڑنا نہیں, بھائیوں نے پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ غصے میں اندر پہنچا اور ایک ہی وار کیا۔۔ خون کی دھار بہہ نکلی، اس نے اپنی بیوی کو اس خون کے اوپر لیٹنے کابولااور ذبح شدہ بکری کو ٹوکرے کے نیچے رکھ دیا۔ خود خون آلود ٹوکہ لے کر باہر نکلا، دونوں بھائی حیرت زدہ ہو کر کہنے لگے سرے پاگل انسان یہ کیا کیا،روٹی نہ پکانے پر بیوی کو کون مار دیتا۔
عقلمند کہتا، روز بیس بار میں مارتا اسے،پھر زندہ کر لیتا، اس میں کیا، وہ بہت حیران ہوئے کہ اب یہ کیسے ممکن ہے۔
کہتا آؤ میرے ساتھ۔
تینوں اندر گئے عقلمند نے کونے میں کھڑے جھاڑو سے چار تیلے نکالے،عقیدت سے انہیں سینے سے لگایا اور بیوی کے چہار اطراف تیلے کھڑے کرکے اس کے پاس کھڑا ہو کر کچھ دیر کچھ آنکھیں بند کر کے ہاتھ جوڑ کر کھڑا رہا، پھر پاؤں کی طرف کے دو تیلے اکھاڑ کر اس کے پیروں کو لگا کر کہتا بھلی مانس نبی کا کلمہ پڑھ اور اٹھ کھڑی ہو غصہ تھوک دے۔ اور اسی وقت بیوی فورا” اٹھ کھڑی ہوئی کلمہ پڑھا اور کہتی میرے سرتاج جو حکم کرو گے ہو جائے گا۔
دونوں بھائی جو بیویوں کی لڑای سے بہت تنگ تھے لگے منت سماجت کرنے کی جھاڑو ہمیں بیچ دو، انکار کرتے کرتے ایک لاکھ میں جھاڑو لے جا کر عقیدت سے چوم چاٹ کر ایک کونے میں سجا دیا۔
اب بیویاں لڑہی نہیں رہی تھیں جبکہ دونوں بھائی بے صبری سے منتظر کہ کب لڑیں،ہم ماریں اور زندہ کرکے انہیں اپنی غلام بنا لیں۔ بالآخر نہ ہی صبر ہوا، اور جا کر خود ہی لڑائی شروع کر دی، ٹوکے کا وار کردیا، جب چیخ و پکار کی آوازیں بڑھیں تو محلے والے آ پہنچے، کہتے ارے بے وقوفوں! یہ کیا کردیا، بیویوں کو ہی قتل دیا، کہنے لگے لوہم تو دن میں بیسیوں بار جھگڑ کرمار دیتے،اور پھر ٹھیک کر لیتے۔ لوگ ان کی بے وقوفی پر افسوس کرنے لگے۔ انہوں نے وہی عقلمند انسان کے طریقے پر عمل کی کوشش کی تو انہیں پتا لگا کہ وہ ایک بار پھر سے بے وقوف بن گئے۔ لیکن اب پچھتانے کا وقت گزر چکا تھا اور وہ دونوں اپنی بے وقوفی سے اپنی زندگی برباد کرچکے۔
کچھ دن بعد دونوں کہتے ہمارا تو سب کچھ برباد ہوچکا، آج رات ہم نے بس چپ چاپ اسے دھر لینا اور اس کا قصہ ہی تمام کردینا۔ دونوں بھائی رات کو اس کے گھر ہہنچے، اسے چارپائی سے باندھا اور دریا کی طرف لے کر چل نکلے۔ جب دریا کے پاس پہنچے تو سورج نکلنے والا تھا، دونوں کہتے یار یہ نہ ہو لوگ ادھر نہانے یا وہ ہاتھ دھونے پہنچے ہوں اور لوگ ہمیں پکڑ کر مارہں، پہلے دیکھ آتے کہ دریا کنارے کیا سین ہے۔
دونوں بھائی چلے گئے تو پیچھے سے ایک چرواہا بکریوں کا ریوڑ لئے چلا آتا تھا، چارپائی پڑی دیکھی،چادر ہٹائی تو کہتا
“بھائی تیرے ساتھ کیسا سین ہوا؟ تجھے کس نے باندھا یہ سب کیا ہے”
عقلمند آدمی نے فوری نئی کہانی سوچی اور کہتا بھائی کیا بتاؤں،یہ میرے ہونے والے سالے ہیں جو دریا تک گئے ہیں، میں ان کی بہن سے شادی نہیں کرنا چاہتا، یہ مجھے زبردستی دھمکارہے کہ ہماری بہن سے شادی کرو ورنہ دریا میں پھینک دیں گے۔ مجھے بچاؤ۔ چرواہے کی کہیں شادی نا ہو رہی تھی اسے لگا کہ یہ تو لاٹری نکل آیی، فوری عقلمند آدمی کو کہتا۔ بھائی تجھے کھول دیتا ہوں تو مجھے اپنی جگہ باندھ کر چادر ڈال دے میں تیری جگہ قربانی دیتا۔
پس یونہی ہوا، دونوں بھائیوں کے لوٹنے تک عقلمند آدمی چرواہے کی بکریاں لے کر گھر کی طرف روانہ ہوچکا تھا۔
ادھر دونوں بھائیوں نے جب چارپائی اٹھائی تو چرواہا منمنایا کہ بھائی میں تمہاری بہن سے شادی کو تیار ہوں، اب تو سن کو مزید غصہ چڑھا کہ یہ تو ہماری بہن تک جا پہنچا اسے نہیں چھوڑنا، فوری دریا برد کرکے واپس ہوئے۔
جیسے ہی عقلمند آدمی کے گھر کے آگے سے گزرے حیرت زدہ کہ یہ گھر کیسے پہنچ گیا، فوری پہنچے اور کہتے تو گھر کیسے پہنچا ہم تو تجھے دریا میں پھینک کر آئے۔
عقلمند آدمی لگا ان کے ہاتھ چومنے کہ تم لوگوں نے جدھر مجھے پھینکا، کوئی مال مویشی ادھر، خوبصورت بھینسیں، یہ بڑی بڑی بجریاں،میں تو اکیلا تھا، ڈر کے بس اتنی سی بکریاں ہی سمیٹ پایا۔۔لیکن بہت مال ہے ادھر۔
سب دونوں بھائی تو لگے گھگھیانے کہ ہم دونوں کو بھی ادھر چارپائی سے باندھ کر پھینکو ہمیں بھی مال لینا۔۔ بہتیراعقلمند آدمی نے منع کیا لیکن انہوں نے اردگرد کے لوگوں کو کہا ہمیں باندھ کر اس بندے کے ہمراہ ہمیں دریا پر لے جاؤ۔
بالآخر جب دریا کنارے پہنچ کر ایک بھائی کو پھینکا تو دوسرا لگا چلانے،اوئے جلدی کرو مجھے بھی پھینکو، وہ سارا اچھا مال تو اکٹھا کر لے گا۔
اور یوں یہ قصہ ہوا تمام
اور میں یہ سوچ رہی اس میں ہم عوام کو ایسے ہی ہر روزچونالگا دیا جاتا ہے، اور ایک دن ہم ہنسی خوشی دریا برد ہوجاتے
اور سب بڑے ہاتھ ہلا کر کہتے
خس کم جہاں پاک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں