122

قصوروار کون

تحریر : حسن آرا اسسٹنٹ پروفیسر/پرنسپل
یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ ہمارے نوجوان صلاحیتوں سے بھرپور ہر کام میں اپنا لوہا منوانے کے لیے پرعزم ہے. یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں نوجوانوں کا کردار کلیدی ہے. نوجواں خواہ مرد ہوں یا عورت ہمیشہ کچھ کر گزرنے کے جذبے سے سرشار ہوتی ہے. اب یہ معاشرے پر انحصار کرتا ہے کہ وہ ان کی صلاحیتوں اور عزائم کو کس دھارے کی طرف موڑتا ہے. یاد رکھیں نوجوان نسل دریا کے لہروں کی مانند ہوتے ہیں اب یہ دریا کے بہاو پر منحصر ہے کہ وہ ان لہروں کا رخ کس طرف موڑتی ہے۔ بد قسمتی سے ہم ہمیشہ ایک ایسا دریا بننے کی کوشش کرتے ہیں جو اپنے بہاو کو ہمیشہ ایک ہی سمت میں دھکیلتا ہے نتیجے کے طور پر اس کی لہریں ہمیشہ ایک ہی سمت کی طرف بہتی ہیں۔ لیکن اگر اسی دریا کی لہریں چاروں طرف بہے تو ہر سمت ہمیں سبزہ اور خوش حالی نظر آئے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے اسی لیے کچھ جگہیں سر سبز اور خوشحال ہے تو کچھ جگہوں میں قحط سازی اور خشک سالی دریا تو بس دریا ہے اس کے بس میں یہ ہرگز نہیں کہ وہ اپنی لہروں کو چاروں طرف پھیلادے کیونکہ وہ اس قدرتی قوت کا محتاج ہے جو اسے ایک ہی سمت کی طرف دھکیلتی ہے لیکن انسانی معاشرے اس معاملے میں خود مختار ہوتے ہیں وہ اپنی لہروں یعنی نوجوانوں کو اپنی منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے ہر سمت پروان چڑھاسکتے ہیں یہ سمت چاہے کھیل کود کا میدان ہو چاہے سائنس و ٹیکنالوجی کا شعبہ علم و ادب یا طب کا شعبہ ہو یا منیجمنٹ اور قیادت کا میدان لیکن بدقسمتی سے بہت کم معاشرے ایسے ہیں جو واقعی اپنے نوجوانوں کے رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں ایسے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں جہاں سے استفادہ کرتے ہوئے وہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہیں اور معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں یہ معاشرے ترقی یافتہ کہلاتے ہیں اور ترقی اور خوشحالی میں بہت آگے ہوتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا سب سے قیمتی اثاںہ ان کے نوجوان ہیں اور کیسے ان کی صلاحیتوں کو ایکسل کرنا ہے اور انہیں معاشرے کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے قابل بنانا ہے۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اپنی یوتھ کو ہی موردالزام ٹھہراتے ہیں اور یہی رٹ لگائے رہتے ہیں کہ آجکل کے نوجوان بہک گئے ہیں ہے اپنی پٹری سے ہٹ گئ ہے محنت سے گریزاں ہے لیکن بحیثیت معاشرے کے ذمہ دار افراد کے اپنا بیشتر وقت نوجواںوں کی اصلاح اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے نکتہ چینی اور بےجا تنقید میں ضائع کردیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ایک ایسے نوجوانوں کے سرپرست ہے جن کے حوصلے ماونٹ ایورسٹ سے بھی زیادہ بلند ہے ماونٹ ایورسٹ سر کرنا برفیلے پانی میں تیراکی جیسے کٹھن کام بطور مشغلہ کرنا ان کے لئے عام سی بات ہے یہ اس بات کی غمازی ہے کہ ہمارے نوجوان ہر قسم کے کٹھن حالات اور راستوں پر چلنے کے لئے تیار ہے بس کمی ہے تو ایسے پلیٹ فارم کی جہاں پر سے گزر کر وہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھائے اور اپنے لیے مثبت سمت کا تعین کرے لیکن یہ مثبت سمتیں فراہم کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے ہمیں وہ دریا نہیں بننا جو اپنی لہروں کو صرف ایک ہی سمت فراہم کرتا ہے بلکہ اس بادل کی مانند بننا ہے جو چاروں طرف اڑتا ہے اور بارش ہر طرف برستی ہے۔
اس بات کو تسلیم کرلیں کہ ہمارے نوجوان قصوروار نہیں ہے قصوروار ہم ہیں جو انہیں سمجھ نہیں پارہے ہیں اور اپنی بے جا تنقید کی زد میں لاکر انہیں خود سے اور ان کے اصل مقصد سے دور کر رہے ہیں انہیں صرف ایک کے بجائے کئی پلیٹ فارم مہیا کرے اوراس کے لیے حکومتی اور نجی سطح پر تمام افرادی اور دیگر وسائل کو بروئے کار لائیں جو لوگ اس حوالے سے کام کررہے ہیں ان پر تنقید کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں یاد رکھیں اگر آپ عملی طور پر کچھ نہیں کرسکتے ہیں تو آرام سے بیٹھ کر تنقید کرنے کا بھی کوئی حق نہیں رکھتے تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح پر توجہ دیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ لفاظی کے بجائے عملی اقدامات کی طرف راغب ہوں اپنے معاشرے اور کمیونٹی کے مذہبی معاشرتی نفسیاتی اور معاشی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے پلیٹ فارم تشکیل دیں جہاں پر نوجوان پروان چڑھے اور ترقی کے دھارے میں صف اول کے معاشروں میں شامل ہوجائے آپ جہاں اور جدھر ہیں وہی سے اپنی کوششوں کا آغازکریں حالات اور زمانے کو قصوروار نہ ٹہرائیں یہ سب ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں ہماری کام چوری اور سستی سے جہاں یہ بگڑ جاتے ہیں وہی پر ہماری حکمت عملی اور محنت سے ہی یہ سنورسکتے ہیں ہمیں اپنے معاشرے کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑنا ہے بلکہ حالات کی ڈور اپنے ہاتھوں میں لیکر اپنی اور اپنے نسلوں کی قسمت خود اپنے ہاتھوں سے لکھنے کے قابل ہونا ہے کیونکہ فطرت کا بھی یہی اصول ہے کہ وہ کسی بھی فرد معاشرے یا قوم کی تقدیر اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ اپنی قسمت خود بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتی اپنے نوجوانوں سے پرامید رہیں آگے بڑھئے اور اپنے حصے کا دیا جائیں یاد رکھیں کہ دیئے سے ہی دیا جلتا ہے اور چاروں طرف روشنی پھیلتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں