22

امریکی اپوزیشن بل اور پاکستان

تحریر: ضیغم ایاز
‎@zaghamayaz
امریکی اپوذیشن بل پر لوگ خواہ مخواہ کی مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ یہ بل کچھ انفارمیشن مانگنے سے متعلق ہے جس کے صفحہ 25 سیکشن 202 میں پاکستان کے افغانستان میں 20 سالہ کردار اور افغانستان سے امریکی انخلاء کے وقت کردار اور بعد ازاں پیدا ہونے والی صورتحال میں کردار پر اپنی حکومت سے رپورٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس طرح کی چیزیں اسٹک اینڈ کیرٹ کے اصول کے مطابق امریکی اسٹیبلشمنٹ کھیلتی رہتی ہے۔ اس کا مقصد موت دکھا کر بخار پر راضی کرنا ہوتا ہے۔
نیٹو بلاک اس خطے کی سیاست میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ امریکہ ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے چین مخالف نئے فوجی اتحاد پر چین پہلے بھی سخت الفاظ میں ری ایکشن دے چُکا ہے۔ جبکہ کل برطانیہ اپنے بحری بیڑے کو چینی حدود میں اتارا۔ چین نے اس پر ردعمل کرتے ہوئے اس روٹ پر جنگی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
اس طرح کی متعدد چیزیں جو آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوتی چلی جائیں گی۔ پاکستان اپنی زبان اور انداز تخاطب کے لحاظ سے صحیح جگہ پر کھڑا ہے۔ اُنھیں باورکرانا ضروری ہے کہ پاکستان خود کو یکطرفہ کسی بلاک میں نہیں شامل کرنا چاہتا اور ہر طرح کی صفائی دینے کو بھی تیار ہے۔ لیکن اپنے اپنے انداز سے ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ایک ٹیسٹنگ پیریڈ کے لئے ایف اے ٹی ایف کی طرح کچھ مزید پابندیاں لگادیں اور پھر تکلیف دہ عمل سے گزار کر ان کی ٹیم کسی تعاون کے عوض کسی پیکج کا اعلان کرنے پہنچ جائے۔ اگر ہمیں گزشتہ دہائی کی طرح پھر سے اپنے معیشت کو نہیں بگاڑنا تو پھر سو پیاز اور سو جوتوں میں سے صرف ایک چیز کے لئے خود کو یکسو کرنا ہوگا۔ایسی کارروائی جو ایک اسٹیٹ کی پالیسی کے تحت ہو اُس پر تو ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوسکتا لیکن اس کے رسپانس پرہمارا اختیار اور ارادہ اچھی طرح استعمال ہونا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں