52

27 ستمبر عالمی یوم سیاحت

تحریر: رقیہ نعیم
@NaeemRuqia
تفریح ، دل کے اطمینان اور قدرتی نظاروں کو دیکھنا کیلئے سفر کو سیاحت کہتے ہیں اس سے مختلف ثقافتوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
دنیا بھر میں سیاحت کا عالمی دن ہرسال 27 ستمبر کو منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1970 سے ہوا تھا سیاحت دنیا کی دوسری سب سے بڑی انڈسٹری ہے اور اس وقت دنیا کے سو سے زائد ممالک کی آمدن کا انحصار سیاحت پر تھا۔ کورونا وبا سے قبل عالمی معیشت میں اس کا حجم 15 ٹریلین ڈالر کے قریب تھا۔
پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے یہاں تاریخی مقامات بھی ہیں اور مذہبی بھی جو دنیا بھر کے سیا حوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ یہاں پرفضا مقامات ہیں تو ہریالے علاقے بھی ۔ سرسبز پہاڑ ہیں گھنے جنگلات بھی، گرم اور سرد علاقے بھی ریگستان اور خوبصورت جھیلیں ، جرائز اورسمندر بھی۔
پاکستان میں سیاحت کو فروغ 1970ءکی دہائی سے ملنا شروع ہوا اور اس وقت یہ ملک کی ایک بڑی صنعت ہے ملک کے شمالی علاقوں کا انحصار سیاحت سے ہونے والی آمدنی پر ہی ہے۔ عالمی وبا سے پہلے پاکستان کا شمار عالمی سیاحتی ممالک کی فہرست میں 47 ویں نمبر پر ہوتا تھا۔
پاکستان میں حکومتی سطح پر سیاحت کے شعبے کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو اس کا حق تھا پاکستان میں بہت سے قابل دید مقامات ہیں۔ لیکن وہاں تک آمد و رفت کی سہولیات ناکافی ہیں۔ جس پر توجہ دینے سے نہ صرف سیاحت بڑھ سکتی ہے بلکہ اس سے حکومت کی آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا ۔
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سال کے 12 ماہ سیاحت کے مواقع موجود ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں لیکن اب بھی بہت اقدامات ایسے ہیں جن کا کیا جانا ضروری ہے سیاحت میں اتنی صلاحیت ہے اسے فروغ دیکر ہم اپنے قرضے بھی اتارسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں