23

تمباکو نوشی اور گنج پن

‏تحریر: مزمل مسعود دیو
‎@warrior1pak
اکثر یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ تمباکو نوشی سے کینسر، دل کے امراض اور نظام تنفس جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لیکن تمباکو نوشی کے منفی اثرات کا نتیجہ صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں بلکہ پورا جسم اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ ہر سال 31 مئی کو تمباکو نوشی کے تدارک کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس عادت کے نتیجے میں ہونے والی لاکھوں اموات کی روک تھام کی جاسکے۔
ایک تحقیق جو سن دوہزار اٹھارہ میں کی گئی میں بتایا گیا تھا کہ اس زہر قاتل میں 7 ہزار سے زیادہ کیمیکلز ہیں، جن میں سے 69 کینسر کا باعث بنتے ہیں۔ان کیمیکلز کی موجودگی میں ہم جب سانس لیتے ہیں تو یہ پھیپھڑوں سے خون تک پہنچ جاتے ہیں اور وہاں سے جسم کے دیگر حصوں تک پھیل کر صحت کو انتہائی متاثر کرتے ہیں۔
اس زہر قاتل کے جہاں متعدد نقصانات سے تو آپ واقف ہی ہوں گے مگر اس کا ایک اثر ایسا ہے جس سے بہت کم لوگوں کو واقفیت ہے اور وہ ہے گنجا پن یعنی بالوں سے محرومی۔
یہ بات حقیقت ہے کوئی مذاق نہیں لیکن یہ مکمل واضح نہیں کہ اس زہر قاتل کا گنج پن سے کیا تعلق ہے، مگر سن 2020 میں ایک تحقیق کی گئی جس میں مختلف عمر کے لوگوں کو شامل کیا گیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ جو لوگ تمباکو نوشی کے عادی ہیں ان میں گنج پن زیادہ ہے جبکہ دوسرے لوگوں میں گنجا پن نسبتا کم ہوتا ہے
اس ادارے کے سائنسدانوں نے بتایا کہ اس زہر قاتل میں موجود کیمیکلز بالوں کی سطح کو نقصان پہنچاتے ہیں جس سے گنج پن کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس زہر میں موجود کیمیکل سے شریانوں میں مادہ جمع ہو جاتا ہے جس سے بلڈ کلاٹس، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔ شریانوں کے متاثر ہونے سے بالوں کی جڑوں تک خون کی فراہمی کم ہوتی جاتی ہے جس سے گنجا پن یا بالوں کو جزوی نقصان کا خطرہ پہنچتا ہے۔ تمباکو نوشی سے مالیکیولز بننے ہیں جو بہت نقصان دہ ہوتے ہیں اور اس سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے۔جسم میں ان نقصان دہ مالیکیولز کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جانے سے تناؤ بھی بڑھ جاتا ہے جس کی اہم وجوہات میں تمباکو نوشی، آلودگی قابل ذکر ہیں۔
اس ادارے کے مطابق ابھی مزید تحقیق کی جارہی ہے تاکہ کسی واضح نتیجے پر پہنچا جاسکے لیکن یہ بات کنفرم ہے کہ اس زہر قاتل کا کینسر، ہارٹ اٹیک کے علاوہ باقی جسم کے حصوں پر بھی اثر ہوتا ہے۔
تمباکو نوشی زہر قاتل ہے اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں