28

لاہور میدان جنگ بن گیا ،کالعدم ٹی ایل پی ،پولیس میں تصادم،2اہلکار شہید ،9زخمی ، پولیس کی مظاہرین پر شیلنگ ،لاٹھی چارج، درجنوں زخمی

لاہور، لاہور میدان جنگ بن گیا ،کالعدم ٹی ایل پی کے لانگ مارچ کے دوران ایم اے او کالج کے سامنے ریلی میں شامل گاڑیوں نے 2پولیس اہلکاروں کو کچل دیا ، مظاہرین سے تصادم کے نتیجے میں 9اہلکار زخمی ہو گئے ، زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ،پولیس کی جوابی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں درجنوں مطاہرین زخمی ہو گئے جبکہ انتظامیہ اور کالعدم جماعت میں مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہو گیا ،انتظامیہ کی طرف سے لاہور کے داخلی ، خارجی راستے سیل کر دیئے گئے ہیں ، کالعدم تحریک لبیک قائدین نے تصادم کے بعد ملک بھر میں دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے ،ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے کالعدم ٹی ایل پی کے ہزاروںکارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے لاہور سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کردیا گیا ہے۔ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کی ریلی میں شامل گاڑیوں کی ٹکر سے 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ شہید پولیس اہلکاروں میں ایوب اور خالد شامل ہیں اور دونوں اہلکار تھانا گوالمنڈی میں تعینات تھے۔دوسری جانب ایم اے او کالج کے قریب پولیس اور کالعدم تنظیم کے کارکنوں میں تصادم ہوا اور کالعدم تنظیم کے کارکنوں کے پتھرا ئوسے ایس ایچ او سمیت 9اہلکار زخمی ہوگئے۔ترجمان کے مطابق ایس ایچ او اور زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔لاہور شہر کے داخلی و خارجی راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں، مختلف مقامات پر واٹر کینن، ٹیئر گیس، اسپرے، ربڑ بلٹس نفری کے پاس موجود ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ دھرنے کے شرکا کو شہر سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔دوسری جانب حکومت پنجاب نے کالعدم جماعت ٹی ایل پی سے مذاکرات کے لیے صوبائی وزیر قانون راجا بشارت اور وزیر پراسیکویشن چوہدری ظہیر الدین پر مشتمل دو رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے تاہم مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہو گیا ہے ۔وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے شہید 2پولیس اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ پولیس اہلکاروں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت کا بلندرتبہ پایا۔عثمان بزدار نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں،پنجاب حکومت غمزدہ خاندانو ں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے ،پولیس شہدا کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے جبکہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی ۔وزیراعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ قانون کی عملدراری کو ہر صو رت یقینی بنایا جائے ،افسوسناک واقعہ میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے، انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں ،کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اورزخمی پولیس اہلکاروں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔دوسری جانب لاہور میں کالعدم جماعت کی جانب سے احتجاج کے باعث انٹرنیٹ اورٹریفک کی آمدورفت بری طرح متاثر ہے جبکہ 6 مقامات پر انٹرنیٹ سروس معطل ہے جن میں سمن آباد، سبزہ زار، شیرا کوٹ، نواں کوٹ ،اقبال ٹان،گلشن راوی کے علاقے شامل ہیں۔بابو صابو سے سکیم، سکیم موڑ سے یتیم خانہ ٹریفک کیلئے بند ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کوشدیدمشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مرید کے، کالاشاہکاکو جی ٹی روڈ پر نالہ ڈیک کے قریب دونوں اطراف کو ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا ہے جبکہ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ عوام نہایت ضرورت کے علاوہ سڑکوں پر نہ نکلیں۔سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگرنے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کو گرفتار کریں گے جبکہ کالعدم جماعت کے کارکنوں کو اسلام آباد جانے سے روکیں گے۔ذرائع کے مطابق کارکنوں کو روکنے کے لیے پولیس نے بڑے آپریشن کی تیاری کر لی ہے،پولیس نے کالعدم تنظیم کے ہیڈکوارٹر کے باہر موجود مظاہرین کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ کنٹیرز کے ذریعے بلاک کیے گئے راستوں سے دن بھر شہر میں ٹریفک جام رہا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور میں جمعہ کو ملتان روڈ، گرینڈ بیٹری اسٹاپ، اقبال ٹاون، نواں کوٹ، سمن آباد اور سبزہ زار میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملتان روڈ پر سمن آباد موڑ کے قریب اورگرڈ اسٹیشن اسٹاپ پر کنٹینرز لگادیے گئے ہیں جب کہ علامہ اقبال ٹاون میں بلیوارڈ پر بھی دبئی چوک میں بھی کنٹینرز لگائے گئے ہیں، اہم سڑکیں بند ہونے سے شہریوں اور مقامی رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں