9

دوحہ مذاکرات،افغان طالبان کا امریکا سے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

دوحہ/کابل، امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطرکے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے دوران افغان وزیرخارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا افغان مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں سے پابندی ہٹائے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا اور افغان طالبان کے درمیان پہلی بار مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہوگئے۔ مذاکرات دو روز جاری رہیں گے۔اس حوالے سے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا تھاکہ امریکی وفد سے تعلقات کی نئی شروعات پر بات ہوئی ہے جبکہ افغان مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں سے پابندی ہٹانیکا بھی کہا ہے۔ امریکی وفد سے انسانی امداد جاری رکھنے اور دوحہ معاہدیکی پاسدرای پر بات ہوئی جبکہ بات چیت میں افغانستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر زور دیا گیا۔امیرخان متقی کا کہنا تھاکہ معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے پر بھی بات ہوئی اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعلقات اور روابط رکھنے پر تبادلہ خیال ہوا۔خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی وفد کا کہنا تھا کہ طالبان سے امریکی شہریوں کے افغانستان سے بحفاظت انخلا، ایک اغوا شدہ امریکی شہری کی بازیابی اور افغانستان میں انسانی حقوق پر بات کریں گے۔ دوسری طرف قطر میں طالبان کے ترجمان اور نائب وزیر خارجہ سہیل شاہین نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم یہ مذاکرات برابری کی سطح پر ہونا چاہئے۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو میں طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان اور نائب وزیر خارجہ سہیل شاہین نے کہا ہے کہ اقلیتوں اور خواتین کو کابینہ میں جلد شامل کرلیا جائے تاہم عالمی برادری کو بھی افغان عوام کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔سہیل شاہین جو اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کے لیے طالبان کی جانب سے نامزد کردہ سفیر بھی ہیں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ لیکن یہ مذاکرات صرف امریکا کی مرضی کے ایجنڈے پر نہیں بلکہ برابری کی سطح پر ہونا چاہیئے۔ ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ صرف ایک فریق اپنی ہی مرضی مسلط کرائے۔ادھر طالبان نے اب تک پچھلی حکومت کے کابینہ کے ارکان میں سے چند کو امارت اسلامیہ کی کابینہ میں شامل کرنے کی امریکی تجویز پر سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہے اور خواتین سمیت اقلیتوں کو بھی نمائندگی نہیں دی ہے۔دوسری جانب تاحال لڑکیوں کے ہائی اسکولوں کو نہیں کھولا گیا ہے اور ہزارہ برادری کے 10 سے زائد افراد کی ہلاکتوں پر بھی طالبان پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی قوتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں