14

قابض انتظامیہ نے اہلخانہ سے سیدعلی گیلانی کی میت چھین لی، تشددسے بیٹا اور بہو زخمی

سرینگر، مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے بابائے حریت ، سید علی گیلانی کی اہلخانہ کو مزار شہداء عید گاہ سرینگر میں بزرگ رہنماء کی تدفین کی اجازت نہیں دی ،اہلخانہ جب سید علی گیلانی کی آخری رسومات کی ادائیگی کی تیاری کر رہے تھے تو بھارتی فورسز کی بھاری نفری نے سرینگر میں انکی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور ان کے اہلخانہ کو ہراساں کیا اور ان سے سیدعلی گیلانی کی میت زبردستی اپنی تحویل میں لے لی۔
اہلخانہ نے جب پولیس کو مزار شہداء عید گاہ سرینگر میں انکی تدفین کے بارے میںان کی آخری خواہش کے بارے میں بتایا تو انہیں کہاکہ بھارت انکی اپنی مرضی کی جگہ پر تدفین کی اجازت نہیں دے گا۔اس دوران مزاحمت پر پولیس نے سید علی گیلانی کے بیٹے اوربہو پر تشدد کیا ۔ ڈاکٹر نعیم گیلانی اور ان کی اہلیہ نے پولیس کو سید علی گیلانی کی میت اپنی تحویل میں لینے سے روکا تو پولیس نے ان پر تشدد کیا جس سے وہ زخمی ہو گئے۔ بعدازاں سیدعلی گیلانی کو حیدر پورہ سرینگر کے قبرستان میں رات کی تاریکی میں خاموشی سے سپرد خاک کردیاگیا۔ بھارت سیدعلی گیلانی سے کس حد تک خوفزدہ تھا اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وفات کے بعد اس نے بزرگ رہنماء کی میت بھی انکے اہلخانہ سے چھین لی اور خاموشی سے انہیں اہلخانہ اور چند رشتہ داروںکی موجودگی میں دفن کردیاگیا۔ جس کے فورا بعد بھارتی میڈیا نے اطلاع دی کہ سید گیلانی کی تدفین کردی گئی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان نے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فورسز نے سید علی گیلانی کے اہل خانہ کو ہراساں کیا اور میت چھین کر لے گئے اور تدفین وہاں نہیں ہوئی جہاں اہل خانہ چاہتے تھے۔دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے بھارتی قابض فورسز کی جانب سے سید علی گیلانی کا جسد خاکی قبضے میں لینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سید علی گیلانی سے ان کی موت کے بعد بھی خوفزدہ ہے، سید علی گیلانی کے ساتھ ان کی موت کے بعد بھی غیر انسانی رویہ روا رکھا جا رہا ہے، یہ رویہ بھارتی قابض فورسز کے غیض و غضب ظلم اور بربریت کا غماز ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ تحریک آزادی کشمیر کے بہادر رہنما سید علی گیلانی کی تدفین کی تیاری کی جارہی تھی کہ بھارتی قابض فوج نے سری نگر میں سید علی گیلانی کے گھر پر چھاپا مارا، قابض فورسز نے سید علی گیلانی کے خاندان کو ہراساں کیا اور سید علی گیلانی کا جسد خاکی چھین کر لے گئے اور نماز فجر سے قبل سری نگر کی حیدرپورہ جامع مسجد کے احاطے میں سپرد خاک کردیا، جب کہ خاندان کے مطابق سید علی گیلانی کو سری نگر کے شہدا قبرستان میں سپردخاک کیا جانا تھا۔پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام سول اور انسانی اقدار کو پامال کر رکھا ہے، عالمی برادری غیر انسانی رویے پر بھارت کا احتساب کرے، عالمی برادری مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کے اس ناروا رویے کا سخت نوٹس لے۔وفاقی وزیر برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور نے بھی قابض بھارتی حکام کی طرف سے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کے جنازے کو روکنے کیلئے سخت فوجی محاصرے کی شدید مذمت کی۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ یہ قابل مذمت ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے قائد کے جنازے میں شرکت سے روکا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی بزدلانہ کارروائیاں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی جدوجہد کو نہیں روک سکتیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری سید علی گیلانی کے نظریے کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ وہ اپنے وطن کو بھارتی غلامی سے آزاد کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں