chief justice gulzar ahmed 60

سپریم کورٹ کراچی میں سرکاری زمینوں پر قبضہ ختم نہ کرانے پر برہم

کراچی (آئی پی ایس )سپریم کورٹ نے سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرنے سے متعلق سینئر ممبر کی رپورٹ مسترد کردی، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ آدھے سے زیادہ سندھ کی سرکاری زمینوں پر قبضہ ہے، آپ کو نظر نہیں آتا، کونے کونے کی تصویریں لے کر آجاتے ہیں، ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے سرکاری زمینوں کے ریکارڈکی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق کیس کی سماعت کی،جس سلسلے میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو عدالت میں پیش ہو ئے۔دوران سماعت عدالت نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے استفسار کیا کہ کتنی سرکاری زمین واگزار کرائی گئی ہے؟۔سپریم کورٹ نے سرکاری زمینیں وگزار کرانے سے متعلق اطمینان بخش جواب نہ دینے پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سرزنش کی۔چیف جسٹس نے سینئرممبر ایف بی آر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمارے ساتھ کھیل مت کھیلیں،آدھے سے زیادہ سندھ کی سرکاری زمینوں پرقبضہ ہے،آپ کونظرنہیں آتا،کونے کونے کی تصویریں لیکرآجاتے ہیں،ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منشی،بابو،کلرک،کیاہیں آپ؟سینئرممبربنیں،کمیٹی کی کہانیاں ہمیں مت سنائیں،جائیں اور جاکرقبضہ ختم کرائیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اینٹی انکروچمنٹ عدالتیں بھی کچھ نہیں کررہیں،سکھرجیسے شہرمیں صرف ایک کیس ہے،جس پر سینئرممبربورڈ آف ریونیو نے کہا کہ ہم ریکارڈ کمپیوٹرائزڈکرنیکی کوشش کررہے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حیدرآباد میں کوئی تجاوزات نہیں؟،چیف جسٹس نے کہا کہ پورا حیدر آباد انکروچڈ ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حیدرآباد،لاڑکانہ،سکھراوربینظیرآبادمیں کوئی کیس نہیں، پورے کراچی پرقبضہ ہے اور صرف 9 کیسز ہیں۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب اچھا ہے،اے جی صاحب یہ افسران کیا کررہے ہیں، افسران اپنے مفادات کاتحفظ کر رہے ہیں، یہ لوگ کس کی خدمت کررہے ہیں؟کون سے وہ سائے ہیں جس کیلئے کام کرتے ہیں؟کہیں اورجاتے ہیں فوری عملدرآمد ہوتاہے،یہ لوگ قبضہ کراتے ہیں اور بھتہ لیتے ہیں،فیلڈ میں کام کرنے والے الگ ہوتے ہیں،سینئرممبرکاتمغہ لگ لیا ہے، کام کرنا ہے یا نہیں؟۔عدالت نے کہاکہ آپ کسی کے ذاتی ملازم نہیں،ریاست کے ملازم ہیں،آپ کمپلین کیوں نہیں بھیجتے ؟کیامفادات ہیں آپ کے؟۔جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آپ مافیا کے ساتھ ملے ہوئے ہیں؟ آپ مافیا کا تحفظ کررہے ہیں؟۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آدھے کراچی پر قبضہ ہوچکا ہے،کیا یہ 15،20 منزلہ عمارتیں قانونی ہیں؟آپ کونہیں نظرآتاسب غیرقانونی ہے،سب ریونیوکی ملی بھگت اورجعلی کاغذات پربنائی ہیں ،ملیر ندی اورکورنگی برج کے پاس دیکھیں۔جس پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیونے کہا کہ کورنگی میں کارروائی شروع کررہے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اب تووہاں ریٹ بڑھ گئے ہوں گے آپ کے،اب توکہیں گے عدالت کاحکم ہے گرانے کازیادہ ریٹ ہوگا،ایجی صاحب،سینئرممبرکاکنڈکٹ قابل افسوس ہے،جونام نہادموٹروے بنایاہے وہاں سب قبضہ ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے مزید کہا کہ ایئرپورٹ کیساتھ غیرقانونی زمینیں نظرنہیں آتیں؟کوئی مجبوری نہیں تو کام کیوں نہیں کررہے؟آپ دن میں 10خطوط لکھیں اس سے فرق نہیں پڑے گا،آپ عمل درآمد کریں ورنہ توہین عدالت کاکیس چلے گا، آپ کوشہریوں کی خدمت کیلئے بٹھایا گیا ہے، ماسٹرز کیلئے نہیں۔سپریم کورٹ نے سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرنے سے متعلق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے سینئر ممبر کو عدالتی حکم پرمکمل عملدرآمد کرانے کا حکم دیدیا۔عدالت نے سندھ بھرمیں سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرانے اور سینئر ممبر کو ایک ماہ میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں