30

ڈاکٹر عبدالقدیرخان کی تدفین پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ہوگی

اسلام آباد (آئی پی ایس) ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق شاہ فیصل مسجد اسلام آباد کے احاطے میں ہوگی اس بات کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹرپیغام میں کیا انہوں نے محسن پاکستان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ قبل ازیں وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ خاک کے سپرد کیا جائے گا ۔ وہ پاکستان کی چوتھی شخصیت ہوں گے اس سے قبل بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ، سابق صدر جنرل محمد ضیااللہ حق اور سماجی رہنما عبدالستارایدھی کی تدفین پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ہوئی تھی۔ محسن پاکستان کے سوگ میں قومی پرچم بھی سرنگوں رہے گا۔ پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اتوار کی صبح انتقال کر گئے تھے۔ اسلام آباد کے کے آر ایل ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اتوار کی صبح طبعیت بگڑنے پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ یکم ستمبر کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایک ترجمان نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیرخان میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی اور انہیں 26 اگست کو کے آر ایل منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1936 میں بھوپال میں پیدا ہوئے تھے اور 1947 میں ہجرت کر کے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ پاکستان آئے تھے۔ انہوں نے 1967 انجینیئرنگ کی ڈگری نیدرلینڈ کی ایک یونیورسٹی سے حاصل کی تھی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے مغربی جرمنی اور ہالینڈ چلے گئے۔ سنہ 1972 میں بیلجیئم کی کیتھولک یونیورسٹی آف لیوین سے میٹالرجیکل انجنیئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اے کیو خان کے نام سے معروف عبدالقدیر خان کو ’پاکستان کے جوہری پروگرام کا بانی‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری (ای آر ایل) کی بنیاد رکھی جس کی مدد سے ملک میں یورینیم کی افزودگی میں مدد ملی۔ اس ادارے کا نام سنہ 1981 میں خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) رکھ دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دو بار نشان امتیاز جبکہ ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں