siraj ul haq 6

مذہب تبدیلی کے لیے عمرکی شرط اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، سراج الحق

پاکستان آگے جانے کی بجائے تین سال پیچھے چلا گیا، حکومت نے اب تک 57قوانین بنائے مگرعام آدمی کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا ، تین سال میں صدر پاکستان نے 68آرڈیننس جاری کیے لیکن کوئی ایسا قانون اور آرڈیننس نہیں بنایا جو پاکستان کومدینہ کی ریاست کی طرف لے جائے، امیر جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس
لاہور،امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے 18سال سے کم عمر افراد کے قبول اسلام پر پابندی کے بل کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دے دیتے ہوئے کہا کہ اسلام جبری مذہب تبدیلی کی بھی اجازت نہیں دیتا، کسی دبائو اوردھمکی سے بھی کسی کا مذہب تبدیل نہیں کروایا جاسکتا، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ مذہب تبدیلی کے لیے عمرکی شرط اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، کسی بھی شخص کو کسی عمرمیں بھی اسلام قبول کرنے سے روکا نہیں جاسکتا، ہفتہ کو منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان آگے جانے کی بجائے تین سال پیچھے چلا گیا، حکومت نے اب تک 57قوانین بنائے مگرعام آدمی کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا ، ان تین سال میں صدر پاکستان نے 68آرڈیننس جاری کیے لیکن کوئی ایسا قانون اور آرڈیننس نہیں بنایا جو پاکستان کومدینہ کی ریاست کی طرف لے جائے،سراج الحق نے کہا کہ اسلام جبری مذہب تبدیلی کی بھی اجازت نہیں دیتا، کسی دبائو اوردھمکی سے بھی کسی کا مذہب تبدیل نہیں کروایا جاسکتا، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ مذہب تبدیلی کے لیے عمرکی شرط اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، کسی بھی شخص کو کسی عمرمیں بھی اسلام قبول کرنے سے روکا نہیں جاسکتا،سراج الحق نے کہا کہ میڈیا پرپابندیاں آزادی صحافت کا گلہ گھوٹنے کے مترادف ہیں، حکومت آئینہ توڑنے کی بجائے اپنا چہرہ صاف کرے، دوسری طرف صحافیوں کے لیے بھی ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے،امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ موجودہ حکومت مکمل طورپرناکام ہوچکی ہے، ہماری معیشت تباہ ہوچکی ہے، حکومتی دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں، آج ایک نہیں دوپاکستان ہیں،امیروں کا پاکستان اور غریبوں کا پاکستان، جماعت اسلامی اس ملک میں اسلامی نظام چاہتی ہے جہاں افرادکی بجائے قانون کی حکمرانی ہو، پیپلزپارٹی،مسلم لیگ باریاں لے چکے،تحریک انصاف کو بھی عوام نے دیکھ لیا ہے، کرپشن فری جماعت اسلامی ہی کرپشن فری پاکستان بناسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں